اپنا ضلع منتخب کریں۔

    آسام : مسلم فارمولہ اپنائیں ہندو، 18 سال کی عمر میں کریں بچوں کی شادی : بدر الدین اجمل

    آسام : مسلم فارمولہ اپنائیں ہندو، 18 سال کی عمر میں کریں بچوں کی شادی : بدر الدین اجمل

    آسام : مسلم فارمولہ اپنائیں ہندو، 18 سال کی عمر میں کریں بچوں کی شادی : بدر الدین اجمل

    اے آئی یو ڈی ایف کے صدر اور ممبر پارلیمنٹ بدرالدین اجمل نے متنازع بیان دیتے ہوئے کہا کہ ہندو شادی سے پہلے دو تین بیویاں رکھتے ہیں اور 40 سال کی عمر میں شادی کرتے ہیں ۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Delhi | New Delhi
    • Share this:
      نئی دہلی : اے آئی یو ڈی ایف کے صدر اور ممبر پارلیمنٹ بدرالدین اجمل نے متنازع بیان دیتے ہوئے کہا کہ ہندو شادی سے پہلے دو تین بیویاں رکھتے ہیں اور 40 سال کی عمر میں شادی کرتے ہیں ۔ 40 سال کے بعد بچہ پیدا کرنے کی صلاحیت کہاں رہتی ہیں ۔ ان کو مسلمانوں کے فارمولہ کو اپنا کر اپنے بچوں کی 18 ۔ 20 سال کی عمر میں شادی کرا دینی چاہئے ۔ وہ آبادی میں اضافہ معاملہ پر اپنا رد عمل ظاہر کررہے تھے ۔ ان کے اس بیان کا ویڈیو وائرل ہوگیا ہے ۔

      ممبر پارلیمنٹ بدرالدین اجمل نے کہا کہ ہندو غیر قانونی طریقہ سے بیویاں رکھتے ہیں، یہ لوگ آج کل نیا معاملہ لے آئے ہیں ۔ کون کتنی عمر میں شادی کرے گا ۔ ہندو 40 سال کی عمر کے بعد شادی کرتے ہیں ۔ بدرالدین اجمل نے بھارتیہ جنتا پارٹی پر بھی حملہ بولا اور کہا کہ بی جے پی سرکار مسلمانوں کو ہر جگہ الگ تھلگ کرنے میں لگی ہوئی ۔ سرکار صرف ہندووں کو مضبوط بنانے کا کام کررہی ہے ۔


      آل انڈیا یونائیٹڈ ڈیموکریٹک فرنٹ کے چیف بدر الدین اجمل نے کہا کہ مسلمانوں کو بھی مضبوط بنانا چاہئے ۔ وہیں دوسری جانب گواہاٹی سے بھارتیہ جنتا پارٹی کے ممبر اسمبلی دیگنت کلیتا نے بدرالدین اجمل کے بیان پر اعتراض کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اگر آپ کو اس طرح کا بیان دینا ہے تو بنگلہ دیش میں جاکر دیجئے ۔

      یہ بھی پڑھئے : پی سی بی چیف نے پھر بی سی سی آئی کو دی دھمکی، کہا: اگر ایشیا کپ پاکستان کے باہر ہوا تو...


      یہ بھی پڑھئے: جموں و کشمیر : دہشت گردوں کے ٹھکانہ کا پردہ فاش، اے کے 47 ، پستول اور ڈرگس کا ذخیرہ ملا



      انہوں نے کہا کہ آپ مسلم ہیں اور ہم لوگ ہندو ہیں، کیا ہمیں آپ سے سیکھنا پڑے گا ؟ یہ ملک بھگوان رام اور سیتا ہے ۔ یہاں بنگلہ دیشی لوگوں کیلئے جگہ نہیں ہے ۔ اگر آپ کو ایسا بیان دینا ہے تو بنگلہ دیش میں جاکر دیں ۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: