உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Imambara:آگرہ کے امام باڑہ میں رکھا گیا تاریخی پھولوں کا تعزیہ، عقیدت مندوں نے مانگی منتیں

    Youtube Video

    قریباً تین سال کے بعد ہفتہ ساتویں محرم کو جلوس نکالا گیا۔ بازار میں سجے اسٹالز پر اکھاڑوں کے فنکاروں نے ڈھول نگاڑوں کی دھنوں پر کرتب دکھائے۔ مارکیٹ کمیٹی کی جانب سے اکھاڑہ بازوں کا استقبال کیا گیا۔

    • Share this:
      آگرہ: محرم کی ساتویں تاریخ پر ہفتہ کو آگرہ میں پائے کی چوکی میں واقع امام باڑہ میں تاریخی پھولوں کا تعزیہ رکھا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی شہر میں دیگر مقامات پر بھی تعزیہ رکھنے کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے جو اگلے تین دن تک جاری رہے گا۔ پھولوں کے تعزیہ پر فاتحہ خوانی کے بعد عقیدتمندوں نے منتیں مانگیں۔

      کٹرا دبکیان میں واقع 323 سال قدیم پھولوں کا تعزیہ امام باڑہ میں رکھا گیا۔ عقیدتمندوں نے پھول چڑھا کر منتیں مانگیں۔ چودھری ھاجی عزیزالدین، شاہد حسین، شریف خان، عمران، محمد شان، عدنان شیخ و دیگر نے تعزیہ رکھا۔

      اب محرم کی دسویں تک شام چھ بجے فاتحہ، رات 12 بجے سے پھول چرھانے کے بعد رات دو بجے سے فاتحہ خوانی ہوگی۔ پھولوں کا تعزیہ رکھے جانے کے ساتھ ہی مسلم علاقے ہاسپٹل روڈ، پائے کی چوکی، منٹولا، پکی سمرائے، سرائے خواجہ سمیت دیگر مقامات پر تعزیے رکھے گئے۔ تعزیوں کی زیارت کا بھی آغاز ہوگیا ہے۔

      تین سال بعد منٹولا میں ہوا جلسہ
      تقریباً تین سال کے بعد ہفتہ ساتویں محرم کو جلوس نکالا گیا۔ بازار میں سجے اسٹالز پر اکھاڑوں کے فنکاروں نے ڈھول نگاڑوں کی دھنوں پر کرتب دکھائے۔ مارکیٹ کمیٹی کی جانب سے اکھاڑہ بازوں کا استقبال کیا گیا۔ اس موقع پر حضرت امام حسینؓ کی شہادت پر روشنی ڈالی گئی۔ ہفتہ کی شام عقیدتمندوں کی ایک بڑی تعداد پٹے بازی دیکھنے کے لیے اسٹال پر پہنچی۔ یہاں میدان کے فنکاروں نے اپنے فن کا مظاہرہ کیا۔

      یہ بھی پڑھیں:

      تحریک آزادی میں علمائے دین کی قربانیوں سے ہندوستان کی سرزمیں ہوئی منور

      یہ بھی پڑھیں:
      جنگ آزادی میں مسلمانوں کی عظیم قربانیوں سے متعلق مجلس اتحاد المسلمین کی مہم

      اس موقع پر ہندوستانی برادری کے صدر ڈاکٹر سراج قریشی نے کہا کہ شہدائے کربلا کی یاد میں تین سال بعد جلسہ منعقد کیا جا رہا ہے۔ مارکیٹ کمیٹی کے چیئرمین عدنان قریشی نے شربت کی شبیل کا افتتاح کیا۔ اس دوران محمد شریف کالے، غیاث قریشی، ضیاء الدین، حاجی قدیر، ہمایوں قریشی، نظام پہلوان، محمد مقیم قریشی، دانش منشی وغیرہ موجود رہے۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: