ہوم » نیوز » وسطی ہندوستان

بھوپال: ہولی پر ٹوٹی صدیوں قدیم جلوس نکالنے کی روایت

بھوپال شہر میں نوابی عہد سے ہولی پر جلوس نکالنے کی قدیم روایت رہی ہے، مگر اس بار کورونا کے قہر کے سبب نہ صرف جلوس نکالنے کی روایت منہدم ہوئی بلکہ پولیس نے بھی کورونا قہر کے سبب جس طر ح سے جگہ جگہ پر بیریکٹنگ کرکے لوگوں کو گھرسے باہر نکلنے پر بندش لگائی تھی، اس نے بھی ہولی منانے والوں کے ارمانوں پر پانی پھیردیا۔

  • Share this:
بھوپال: ہولی پر ٹوٹی صدیوں قدیم جلوس نکالنے کی روایت
بھوپال: ہولی پر ٹوٹی صدیوں قدیم جلوس نکالنے کی روایت

بھوپال: رنگوں کا تیوہار ہولی ہمیشہ اپنے ساتھ رنگوں کی قوس قزح ساتھ لے کر آتا تھا۔ ہولی سے قبل نہ صرف شہروں شہروں میں تیاری کی جاتی تھی، بلکہ دوکانیں بھی رنگ برنگ کے رنگوں اور پچکاریوں سے سج کر تیار ہوجاتی تھی، مگر اس بار کورونا قہر میں رنگ کے رنگ بھی ادھورے دکھائی دیئے اور پچکاریاں بھی اپنوں کا انتظار کرتی رہی گئیں۔ بھوپال نوابوں کی نگری جھیلوں اور تالابوں کا شہر ہونے کے ساتھ تہذیبوں کا بھی شہر ہے۔ اس شہر میں نوابی عہد سے ہولی پر جلوس نکالنے کی قدیم روایت رہی ہے، مگر اس بار کورونا کے قہر کے سبب نہ صرف جلوس نکالنے کی روایت منہدم ہوئی بلکہ پولیس نے بھی کورونا قہر کے سبب جس طر ح سے جگہ جگہ پر بیریکٹنگ کرکے لوگوں کو گھرسے باہر نکلنے پر بندش لگائی تھی، اس نے بھی ہولی منانے والوں کے ارمانوں پر پانی پھیر دیا۔

انوپم تیواری کہتے ہیں کہ دیکھنے میں ہولی کے رنگ پھیکے ہیں مگر یہ پھیکے رنگ انسانیت کے تحفظ کے لئے اچھے ہیں۔سرکار نے سی ایم اور ضلع انتظامیہ کی جانب سے ’میرا گھرمیری ہولی‘ کا جو نعرہ دیا گیا تھا اس کو دیکھتے ہوئےہم لوگوں نے گھروں میں ہی اپنے گھر والوں کے ساتھ سادگی سے ہولی منائی ہے۔ آج ہم تیاگ کریں گے تو کل اس کے پھل اچھا ملے گا اور پھر جب کورونا کی بیماری ختم ہوگی تو اس سے زیادہ جوش کے ساتھ ہولی منائیں گے۔


بھوپال میں ہولی اور دیوالی کے تہوار پر مسلم بھائی گھر آتے تھے اور عید کے موقعہ پر ہم لوگ سوئیاں کھانے مسلم بھائیں کے گھر جاتے تھے ۔
بھوپال میں ہولی اور دیوالی کے تہوار پر مسلم بھائی گھر آتے تھے اور عید کے موقعہ پر ہم لوگ سوئیاں کھانے مسلم بھائیں کے گھر جاتے تھے ۔


پنڈٹ وجے تیواری کہتے ہیں کہ کورونا قہر نے سارے ارمانوں پر پانی پھیردیا۔ بھوپال میں ہولی اور دیوالی کے تہوار پر مسلم بھائی گھر آتے تھے اور عید کے موقعہ پر ہم لوگ سوئیاں کھانے مسلم بھائیں کے گھر جاتے تھے. عید بھی کورونا کے سائے میں نکلی تھی اب ہولی بھی ویسی ہے گزری ہے ۔لیکن مایوس ہونے کی صرورت نہیں ہے ،کورونا کے خلاف سبھی لوگ ایک ساتھ  ہیں اور مل کر اس وبائی بیماری کا خاتمہ کرینگے اور ایشور نے چاہا تو اگلی بار اس سے زیادہ جوش کے ساتھ ہولی منائیں گے کہ دنیا دیکھتی رہ جائے گی کہ ہم اپنی تہذیب کی حفاظت کیسے کرتے ہیں۔
محمد عابد کہتے ہیں کہ ہولی پر پہلی بار مایوسی کے رنگ دیکھ کر اچھا نہیں لگا۔صبح جب گھر سے نکلا تو رنگوں کی جگہ مایوسی کے ہی بادل نظر آئے ۔مگر خوشی اس بات کی ہے کہ سبھی لوگوں نے کورونا کے خاتمہ کے لئے اپنے تہوار کے رنگ کو انسانی ضرورت کے رنگ پر تج دیا۔ سبھی لوگوں کی یہ مشترکہ کوشش رنگ لائے گی اور ہم لوگ پھر محبتوں کے گلال ایک دوسرے کو لگائیں گے۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Mar 29, 2021 11:58 PM IST