உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ایک سال کے اندر ختم ہو نکسل کا مسئلہ، وزیر داخلہ امت شاہ نے 10 ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ سے کی گزارش

    ایک سال کے اندر ختم ہو نکسل سے پریشانی، وزیر داخلہ امت شاہ نے 10 ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ سے کی اپیل

    ایک سال کے اندر ختم ہو نکسل سے پریشانی، وزیر داخلہ امت شاہ نے 10 ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ سے کی اپیل

    مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ (Amit Shah) نے اتوار کو نکسل متاثرہ ریاستوں (Naxal Affected States) کے وزرائے اعلیٰ سے اس پریشانی کے حل کے لئے ترجیح دینے کی گزارش کی تاکہ ایک سال کے اندر اس خطرے کو ختم کیا جاسکے۔ انہوں نے نکسلیوں تک پیسوں کی فراہمی کو روکنے کے لئے مشترکہ حکمت عملی بنانے کے لئے بھی کہا۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Share this:
      نئی دہلی: مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ (Amit Shah) نے اتوار کو نکسل ریاستوں (Naxal Affected States) کے وزرائے اعلیٰ سے اس پریشانی کے حل کے لئے ترجیح دینے کی گزارش کی تاکہ ایک سال کے اندر اس خطرے کو ختم کیا جاسکے۔ انہوں نے نکسلیوں تک پیسوں کی فراہمی کو روکنے کے لیے مشترکہ حکمت عملی بنانے کو بھی کہا۔

      ایک آفیشیل بیان میں کہا گیا ہے کہ 10 نکسل متاثرہ ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ، ریاست کے وزرا اور اعلیٰ افسران کو خطاب کرتے ہوئے امت شاہ نے کہا کہ نکسلیوں کے خلاف لڑائی اب اپنے آخری مرحلے میں پہنچ گئی ہے اور اسے تیز اور فیصلہ کن بنانے کی ضرورت ہے۔ امت شاہ نے کہا کہ بائیں بازو کی انتہا پسندی (ایل ڈبلیو ای) تشدد کی وجوہات سے مرنے والوں کی تعداد ایک سال میں گھٹ کر 200 ہوگئی ہے۔

      ممتا بنرجی بھی میٹنگ میں ہوئیں شامل

      میٹنگ میں اوڈیشہ کے وزیر اعلیٰ نوین پٹنائک، تلنگانہ کے وزیر اعلیٰ کے چندر شیکھر راو، بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار، مدھیہ پردیش کے وزیر اعلیٰ شیو راج سنگھ چوہان، مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ ادھو ٹھاکرے اور جھارکھنڈ کے وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین نے حصہ لیا۔ مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی، چھتیس گڑھ کے وزیر اعلیٰ بھوپیش بگھیل، آندھرا پردیش کے وزیر اعلیٰ وائی ایس جگن موہن ریڈی اور کیرلا کے وزیر اعلیٰ پنرائی وجین میٹنگ میں شامل نہیں ہوئے، لیکن ان چار ریاستوں کی نمائندگی سینئر افسران نے کی۔ وزیر داخلہ نے سبھی وزرائے اعلیٰ سے آئندہ ایک سال تک بائیں بازو کی انتہا پسندی کے مسئلے کو ترجیح دینے پر زور دیا تاکہ پریشانی کا مستقل حل نکالا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ اس کے لئے دباو بنانے، رفتار بڑھانے اور بہتر تال میل کی ضرورت ہے۔ امت شاہ نے کہا کہ نکسلیوں کی آمدنی کے ذرائع کو بے اثر کرنا بے حد ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرکز اور ریاستی حکومتوں کی ایجنسیوں کو مل کر نظام بناکر اسے روکنے کی کوشش کرنی چاہئے۔

      وزیر داخلہ نے ان موضوعات پر کیا تبادلہ خیال

      ذرائع کے مطابق، میٹنگ کے دوران ماونوازوں کی اہم تنظیموں کے خلاف کارروائی، سیکورٹی کے میدان میں خالی پن کو بھرنے اور انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی)،  قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) اور ریاستی پولیس کے ذریعہ ٹھوس کارروائی جیسے دیگر اہم موضوعات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ مرکزی وزیر د اخلہ امت شاہ نے کہا کہ اگر وزیر اعلیٰ، چیف سکریٹری اور پولیس جنرل ڈائریکٹر کے سطح پر باقاعدہ جائزہ لیا جاتا ہے تو نچلے سطح پر ہم آہنگی کے مسائل اپنے آپ حل ہوجائیں گی۔ امت شاہ نے کہا کہ جس پریشانی کے سبب گزشتہ 40 سالوں میں 16 ہزار سے زیادہ شہریوں کی جان گئی ہیں، اس کے خلاف لڑائی اب آخر تک پہنچی ہے اور اس کی رفتار بڑھانے اور اسے فیصلہ کن بنانے کی ضرورت ہے۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: