உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    وزیر داخلہ امت شاہ آج 10 وزرائے اعلیٰ کے ساتھ نکسل متاثرہ علاقوں کی صورتحال کا لیں گے جائزہ

    وزیر داخلہ امت شاہ آج 10 وزرائے اعلیٰ کے ساتھ نکسل متاثرہ علاقوں کی صورتحال کا لیں گے جائزہ

    وزیر داخلہ امت شاہ آج 10 وزرائے اعلیٰ کے ساتھ نکسل متاثرہ علاقوں کی صورتحال کا لیں گے جائزہ

    مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ (Amit Shah) آج ماونواز متاثرہ علاقوں کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لئے 10 ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ کے ساتھ ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ کی صدارت کریں گے۔ پورے دن ہونے والی اس میٹنگ کے لئے چھتیس گڑھ، مہاراشٹر، جھارکھنڈ، اوڈیشہ، بہار، مغربی بنگال، تلنگانہ، آندھرا پردیش، مدھیہ پردیش اور کیرلا کے وزیر اعلیٰ کو مدعو کیا گیا ہے۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Share this:
      نئی دہلی: مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ (Amit Shah) اتوار کو 10 ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ کے ساتھ نکسل متاثرہ علاقوں کی صورتحال کا جائزہ لیں گے۔ افسران نے یہ اطلاع دی۔ پورے دن ہونے والی اس میٹنگ کے لئے چھتیس گڑھ، مہاراشٹر، جھارکھنڈ، اوڈیشہ، بہار، مغربی بنگال، تلنگانہ، آندھران پردیش، مدھیہ پردیش اور کیرلا کے وزیر اعلیٰ کو مدعو کیا گیا ہے۔ وزارت داخلہ کے ایک افسر نے یہاں بتایا کہ میٹنگ میں وزیر داخلہ 10 نکسل متاثرہ ریاستوں میں سیکورٹی صورتحال اور ماونوازوں کے خلاف جاری مہم کی وزرائے اعلیٰ کے ساتھ جائزہ لیں گے۔

      افسران کے مطابق، قومی راجدھانی دہلی میں وگیان بھون میں ہونے والی اس میٹنگ کے لئے چھتیس گڑھ کے وزیر اعلیٰ بھوپیش بگھیل، مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ ادھو ٹھاکرے، جھارکھنڈ کے وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین، اوڈیشہ کے وزیر اعلیٰ نوین پٹنائک، مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی، تلنگانہ کے وزیر اعلیٰ کے چندر شیکھر راو، آندھرا پردیش کے وزیراعلیٰ جگن موہن ریڈی، مدھیہ پردیش کے وزیر اعلیٰ شیو راج سنگھ چوہان اور کیرلا کے وزیر اعلیٰ پنارئی وجین کو دعوت نامہ بھیجا گیا ہے۔

      ان ترقیاتی کاموں کا لیا جائے گا جائزہ

      وزیر داخلہ امت شاہ نکسل متاثرہ علاقوں میں سڑکوں، پلوں، اسکولوں، طبی مراکز کی تعمیر جیسے موجودہ ترقیاتی کاموں کا جائزہ بھی لے سکتے ہیں۔ وزیر داخلہ کے اعدادوشمار کے مطابق، ملک میں ماو نواز تشدد میں خاصی کمی آئی ہے اور اب یہ پریشانی تقریباً 45 اضلاع میں محدود ہے۔ حالانکہ ملک کے کل 90 اضلاع کو ماونواز متاثرہ مانا جاتا ہے اور وہ وزارت کے سیکورٹی سے متعلقہ اخراجات کے منصوبے کے تحت آتے ہیں۔ نکسلی تشدد کو بائیں بازو کی انتہا پسندی بھی کہا جاتا ہے۔ سال 2019 میں 61 اضلاع سے نکسلی تشدد کی رپورٹ آئی تھی جبکہ سال 2020 میں یہ تعداد گھٹ کر 45 ہوگئی۔

      کیا کہتے ہیں نکسلی متاثرہ علاقوں کے اعدادوشمار؟

      اعدادوشمار کے مطابق، سال 2015 سے 2020 کے درمیان نکسلی تشدد متاثرہ علاقوں میں مختلف حادثات میں تقریباً 380 سیکورٹی اہلکار، 1000 عام شہری اور 900 نکسلی مارے گئے۔ اس دوران تقریباً 4,200 نکسلیوں نے خود سپردگی کردی۔ موصولہ اطلاع کے مطابق، تلنگانہ کے وزیر اعلیٰ کے چندر شیکھر راو اور جھارکھنڈ کے وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین اس میٹنگ میں شامل ہونے کی تصدیق کرچکے ہیں۔ وہیں ایک میڈیا رپورٹ میں کہا گیا کہ آندھرا پردیش کے وزیراعلیٰ وائی ایس جگن موہن ریڈی زخمی ہونے کے سبب میٹنگ میں نہیں آسکتے ہیں۔ امت شاہ کے ساتھ میٹنگ میں آندھرا پردیش کی وزیر داخلہ میکاتھوتی سچریتا ریاست کی نمائندگی کر سکتی ہیں۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: