உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    MHA Alert:وزارت داخلہ کا سبھی ریاستوں کی پولیس کو تیار رہنے کا حکم، تشدد میں پولیس اہلکاروں کو بھی نشانہ بنائے جانے کا اندیشہ

    مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ

    مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ

    افسر نے کہا کہ پولیس کو اشتعال انگیز تقاریر کرنے والے عناصر پر نظر رکھنے کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔ ریاستی پولیس سے کہا گیا ہے کہ وہ تشدد اور اشتعال انگیز تقاریر کے لائیو ویڈیو پوسٹ کرنے والوں کی شناخت کرے۔ پولیس ایسے لوگوں کے خلاف ضروری کارروائی کرے گی۔

    • Share this:
      نئی دہلی: MHA Alert:مرکزی وزارت داخلہ نے ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی پولیس کے سربراہوں سے تیار اور محتاط رہنے کو کہا ہے، کیونکہ تشدد کے دوران انہیں بھی نشانہ بنایا جاسکتا ہے۔ وزارت نے پیغمبر پر متنازع ریمارک کو لے کر جمعہ کو ہوئے ملک بھر کے کئی شہروں میں زبردست احتجاج اور تشدد کو دیکھتے ہوئے یہ قدم اٹھایا ہے۔

      نیم فوجی دستوں کی ہوسکتی ہے تعیناتی
      وزارت داخلہ کے ایک سینئر اہلکار نے کہا کہ تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی پولیس کو چوکس رہنے کو کہا گیا ہے کیونکہ تشدد کے دوران انہیں نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ اہلکار نے کہا، ’’ہم نے امن و امان کو برقرار رکھنے کے لیے تعینات پولیس اہلکاروں سے کہا ہے کہ وہ ممکنہ فسادات کے لیے تیار رہیں۔‘‘ملک میں امن و امان کو خراب کرنے کی دانستہ کوشش کی جا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ضرورت پڑنے پر پولیس کے ساتھ ساتھ نیم فوجی دستوں کو بھی چوکس رہنے کی ضرورت ہے۔

      یہ بھی پڑھیں:
      Amit Shah: امت شاہ کا آج دورہ دیو، ویسٹ زونل کونسل کی میٹنگ میں شرکت اور لیں گے بڑا فیصلہ

      شرپسند عناصر پر نظر رکھنے کا حکم
      افسر نے کہا کہ پولیس کو اشتعال انگیز تقاریر کرنے والے عناصر پر نظر رکھنے کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔ ریاستی پولیس سے کہا گیا ہے کہ وہ تشدد اور اشتعال انگیز تقاریر کے لائیو ویڈیو پوسٹ کرنے والوں کی شناخت کرے۔ پولیس ایسے لوگوں کے خلاف ضروری کارروائی کرے گی۔

      یہ بھی پڑھیں:
      Hyderabad Rape Case:تلنگانہ کی گورنرنےحکومت پرناراضگی کاکیااظہار، خواتین کی مدد کاوعدہ

      قابل ذکر ہے کہ پیغمبر اسلام کے بارے میں توہین آمیز تبصرے اور معطل نوپور شرما اور نوین جندال کی گرفتاری کے مطالبے کے ساتھ ملک بھر میں نماز جمعہ کے بعد سڑکوں پر نکل کر احتجاج کیاگیا۔ ایسے میں کئی مقامات پر تشدد پھوٹ پڑا۔ سب سے پرتشدد مظاہرہ جھارکھنڈ کے دارالحکومت رانچی میں ہوا۔ متعدد پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔ پولیس اور شرپسندوں کے درمیان پرتشدد ہجوم کے پتھراؤ اور فائرنگ میں ایک نوجوان ہلاک جبکہ دو درجن سے زائد افراد زخمی ہو گئے۔ ان میں آٹھ افراد کو گولیاں لگی ہیں۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: