உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    آخر10سالہ بچی نے پی ایم مودی کو ای۔میل بھیج کر،کی یہ خواہیش، ملاقات کا ملا گیا موقع

    وزیراعظم نریندرمودی انیشا سے ملاقات کے دوران دیکھے جاسکتے ہیں۔(تصویر: پی آئی بی)۔

    وزیراعظم نریندرمودی انیشا سے ملاقات کے دوران دیکھے جاسکتے ہیں۔(تصویر: پی آئی بی)۔

    • Share this:
      دس سالہ لڑکی انیشا پاٹل کے لیے یہ ایک خواب کی طرح تھا جب اس نے پارلیمنٹ کا دورہ کیا اور بدھ کو وزیر اعظم نریندر مودی Narendra Modi سے ملاقات کی۔انیشا جو احمد نگر کے رکن پارلیمنٹ ڈاکٹر سجے وکھے پاٹل Dr Sujay Vikhe Patil کی بیٹی اور مہاراشٹر کے بزرگ رہنما رادھ کرشن ویکھ پاٹل Radhakrishna Vikhe Patil کی پوتی ہیں۔ وہ بظاہر پی ایم مودی سے ملنے کے لیے بے چین تھیں اور اپنے والد سے انھیں ساتھ لے جانے کے لیے کہہ رہی تھیں۔ لیکن پاٹل کو اسے سمجھانا پڑا کہ وہ جو پوچھ رہی ہے وہ ایک مشکل کام ہے کیونکہ وزیر اعظم ایک مصروف آدمی ہوتے ہیں اور شاید وہ ان سے ملاقات نہیں کر سکتے۔

      کوئی دوسرا راستہ نہ دیکھتے ہوئے چھوٹی انیشا نے ایک دن اپنے والد کے لیپ ٹاپ پر لاگ ان کیا اور وزیر اعظم کو ایک ای میل بھیجا۔میل میں اس نے لکھا کہ ’’ہیلو سر! میں انیشا ہوں اور میں واقعی آنا چاہتی ہوں اور آپ سے ملنا چاہتی ہوں‘‘۔چھوٹے کی خوشی کی کوئی حد نہیں تھی جب جواب آیا کہ دوڑھ کر چلی آو بیٹا‘‘ اور جب وکھے پاٹل پارلیمنٹ پہنچے تو پی ایم مودی کا پہلا سوال تھا کہ ’’انیشا کہاں ہے؟‘‘


      پھر وزیر اعظم سے ملنے پر انیشا میں خوشی سے جھوم اٹھی وہ پی ایم او کے بارے میں سوالات پر سوالات کرتی رہی۔ اس نے کہا کہ ’’کیا یہ آپ کا دفتر ہے؟ آپ کا دفتر کتنا بڑا ہے! کیا آپ سارا دن یہاں بیٹھے رہتے ہیں؟

      وزیر اعظم مودی جو بچوں سے پیار کرتے ہیں،انھوں نے صدر کی موجودگی میں اس کے سارے جوابات دیئے گئے۔ انھوں نے اسے بتایا کہ وہ جس دفتر میں تھے وہ وہی تھا جو اس نے پارلیمنٹ کے اجلاس کے دوران استعمال کیا تھا۔ مودی نے حیرت زدہ لڑکی سے کہا "لیکن میں آج آپ سے ملنے آیا ہوں اور میں آپ سے بات کرنا چاہتا ہوں ،"

      دس منٹ کی ملاقات کے دوران انیشا اور پی ایم مودی نے کھیل ، مطالعہ اور ان کے ذاتی دلچسپی سے متعلق مختلف موضوعات پر تبادلہ خیال کیا۔ تاہم رخصت ہوتے وقت ملاقات کی خاص بات تھی۔اس نے پی ایم مودی سے پوچھا کہ ’’آپ گجرات سے ہیں؟ تو آپ ہندوستان کے صدر کب بنیں گے؟" پی ایم مودی ہنس پڑے، اسی طرح باقی سب بھی موجود تھے۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: