ہوم » نیوز » وطن نامہ

آبروریزی جیسے گھنونے کام کیوں ہوتے ہیں ؟ ہمارے ملک میں ایسی وارداتوں کو روکنا کیسے ممکن ہے ؟ جانئے کیا ہے ماہرین کی رائے

سیکس ایجوکیشن کے جانکار اور کنسلٹنٹ کے طور پر ہم رضامندی کی طاقت پر زیادہ زور دے سکتے ہیں ۔ رضامندی بہت ہی اہم ہے ۔ ہر 'نا' کو بھلے ہی وہ کتنا ہی معمولی لگے ، اس کو سنجیدگی سے لیجئے ۔

  • Share this:
آبروریزی جیسے گھنونے کام کیوں ہوتے ہیں ؟ ہمارے ملک میں ایسی وارداتوں کو روکنا کیسے ممکن ہے ؟ جانئے کیا ہے ماہرین کی رائے
آبروریزی جیسے گھنونے کام کیوں ہوتے ہیں ؟ جانئے کیا ہے ماہرین کی رائے

ہمارے ملک میں آبروریزی کو کیسے کم کیا جائے ، اس سلسلہ میں ہم آپ کا خیال جاننا چاہتے ہیں ۔ ہم خبروں میں سنگین آبروریزی کی خبریں آئے دن پڑھتے رہتے ہیں ، مگر ہم نے کبھی کسی کو اس پر غور کرتے ہوئے نہیں سنا ہے کہ ہمارے ملک میں اس جرم کو کیسے کم کیا جاسکتا ہے ۔


ایمانداری سے اور کسی کے بھی بارے میں کوئی رائے بنائے بغیر میں یہ کہہ رہی ہوں کہ آپ اس بارے میں اپنی جانکاری کو بڑھائیے اور اس بارے میں زیادہ پڑھئے ۔ یہ صحیح ہے کہ جینڈر پر مبنی تشدد میں اضافہ ہورہا ہے اور عموما تشدد کے ان واقعات پر لوگوں کے درمیان بحث بھی کافی ہوتی ہے اور اس بارے میں رائے بھی ظاہر کی جاتی ہے کہ کیسے اس جرم کو روکا جائے ۔ اخبارات ، میگزین ، آن لائن پلیٹ فارمس ، نیوز چینلس ، ریڈیو اور یہاں تک کہ غیررسمی بات چیت میں بھی اس پر کافی بحث ہوتی ہے ۔ اس لئے میں اس بات سے متفق نہیں ہو کہ اس جرم کو کم کرنے کے بارے میں ہمارے ملک میں کوئی بحث نہیں ہوتی ۔ اگر آپ نے نہیں سنا ہے تو آپ اس بارے میں زیادہ باخبر بنئے ۔


یہ ایک ایسا کالم ہے جس میں جنسی لطف اور قربت کے بارے میں بات کی جاتی ہے اور اس وجہ سے یہ اس طرح کی سنجیدہ بحث کرنے کا مناسب پلیٹ فارم نہیں ہے ۔ اس معاملہ پر زیادہ جامع اور سنجیدہ بحث کی ضرورت ہوتی ہے ۔ جینڈر پر مبنی تشدد کے حوالے سے نہ صرف جسٹس ، سزا / اصلاحی کاموں پر بات چیت کی ضرورت ہے بلکہ اس کے تحت سماجی قوانین ، اخلاقی اقدار اور شخصی اور اجتماعی نفسیات پر بھی بحث لازمی ہے ، کیونکہ ہمارا سماج سیکس کے نظریہ سے کافی قدامت پسند ہے ۔


ہم اپنے سماج میں جادو کی ایسی کوئی چھڑی نہیں ڈھونڈ پائے ہیں جس کو گھمانے سے جنس پر مبنی تشدد ایک دم رک جائے کیونکہ اس مسئلہ کا حل کوئی شخص 450 الفاظ پر مشتمل کوئی تبصرہ لکھ کر پیش نہیں کرسکتا ۔ آبروریزی اس لئے نہیں ہوتی کیونکہ اس کی وجہ آبروریزی کرنے والے کے دماغ کی دو تین ایسی وجوہات ہیں جن کو آسانی سے دور کیا جاسکتا ہے اور نہ ہی یہ ہمارے مردوں کے غلبہ والے سماج کی اجتماعی نفسیات کی وجہ سے ہے ۔ جنس پر مبنی تشدد جس کے اتنے باریک پہلو ہیں ، اس کو ختم کرنے کیلئے کئی محاذ پر کافی بنیادی تبدیلیوں کیلئے کارروائی کی ضرورت ہے ۔

سیکس ایجوکیشن کے جانکار اور کنسلٹنٹ کے طور پر ہم رضامندی کی طاقت پر زیادہ زور دے سکتے ہیں ۔ رضامندی بہت ہی اہم ہے ۔ ہر 'نا' کو بھلے ہی وہ کتنا ہی معمولی لگے ، اس کو سنجیدگی سے لیجئے ۔ اپنے درمیان اتفاق رائے کے کلچر کو پنپنے دیجئے ۔ دوسروں کی حدوں ، اس کی پسند ، ناپسند کا احترام کرنا سیکھئے اور کسی کی رضامندی حاصل کرنے پر فخر محسوس کیجئے ۔ ہر متبہ پوچھئے ۔ کچھ بھی کرنے سے پہلے ہر مرتبہ اپنے پارٹنر کے منہ سے 'کیا ہم کچھ کریں' کو سننے سے زیادہ رومانٹک اور کوئی بات نہیں ہوسکتی ، خواہ آپ ایک دوسرے کو سالوں سے جانتے ہوں ، خواہ آپ کی شادی دہائیوں پرانی بات ہوگئی ہو ۔ انکار کو کیسے سنبھالیں یہ آپ کو سیکھنا چاہئے ۔

آپ اس بات کو سمجھئے کہ ایک انسان کے طور پر ہم سبھی کو اپنی پسند ، موڈ ، الگ طرح کے جنسی جوش اور دیگر باتوں کے ساتھ جینے کا حق ہے ۔ کھلی اور ایماندانہ گفتگو جس میں ایک دوسرے کیلئے احترام ہو ، رضامندی کا صحتمند کلچر ہمارے ریلیشن شپ کی بنیاد کیلئے ضروری ہے اور اس طرح کا ہدف حاصل کرنے کیلئے سبھی انسان کو ، خواہ وہ کوئی بھی کیوں نہ ہو ، اس کی جینڈر پر مبنی شناخت بھلے ہی کچھ ہو ، ہمیں اس کے ساتھ اسی احترام کے ساتھ پیش آنا چاہئے ، جو ہم خود کیلئے چاہتے ہیں ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Feb 19, 2021 09:38 PM IST