உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    نیپاوائرس Nipah Virus کوروناوائرس (Coronavirus)سے کیسے مختلف ہے؟ جانئے مکمل تفصیلات

    علامتی تصویر۔(Shutterstock)۔

    علامتی تصویر۔(Shutterstock)۔

    علاج کے لحاظ سے دونوں انفیکشن کا کوئی تریاق نہیں ہے۔ ابھی تک کوئی اینٹی وائرل دوا نہیں بنائی گئی ہے۔ سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول نے کہا کہ فی الحال نیپا وائرس (این آئی وی) انفیکشن کے خلاف کوئی لائسنس یافتہ علاج دستیاب نہیں ہے۔ اس کے علاج کے لیے معاون سہولیات دستیاب ہے۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Share this:
      کیرالا میں اس وقت دو وائرس اپنی خطرناکی دیکھا رہے ہیں۔ کیرالا دو مختلف انفیکشنز سے لڑ رہا ہے: کورونا وائرس کے معاملات میں اضافہ اور نپاہ وائرس کا موجودہ پھیلاؤ کیرالا کا نیا مسئلہ بن چکا ہے۔

      تاہم یہ سوال بڑے معنی خیز اور دلچسپ ہے کہ کیا نیپا وائرس Nipah virus کورونا وائرس coronavirus ایک ہی وائرس کی دو اقسام ہیں؟ یہ ایک دوسرے سے کیسے مخلتف ہے؟ ان میں کس طرح کی شدت پائی جاتی ہے؟ ان کی علامات یکساں ہیں یا مخلتف؟

      نیپا ایک زونوٹک انفیکشن ہے، اور کووڈ؟ ہم نہیں جانتے:

      نیپا وائرس کو حتمی طور پر ایک زونوٹک انفیکشن zoonotic infection کے طور پر شناخت کی گئی ہے۔ ایک متعدی بیماری ہے۔ جو جانوروں سے انسانوں میں یا اس کے برعکس منتقل ہوتی ہے۔ اس وائرس کو 1999 میں شناخت کیا گیا تھا۔ اس بیماری کا نام ملائیشیا کے ایک گاؤں سنگائی نیپا Sungai Nipah کے نام پر رکھا گیا ہے۔

      علامتی تصویر۔(Shutterstock)۔
      علامتی تصویر۔(Shutterstock)۔


      اس انفیکشن کی صورت میں یہ سور ، پھل کا چمگادڑ ، کتے ، بکرے ، بلی ، گھوڑے اور ممکنہ طور پر بھیڑ کو متاثرکر سکتا ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ یہ وائرس فطرت میں "اڑنے والی لومڑیوں" (پھلوں کے چمگادڑ کی ایک قسم) کے ذریعے پھیل جاتا ہے، جو انفیکشن کے آثار نہیں دکھاتا ہے۔

      دوسری طرف چین میں ووہان میں پہلے کیس کی تشخیص کے بیس ماہ بعد بھی سارس COV-2 کی اصلیت کا ابھی پتہ نہیں چل سکا ہے۔ ابتدائی طور پر یہ سمجھا جاتا تھا کہ یہ ووہان کے ایک گیلے بازار سے شروع ہوا ہے جسے ووہان ہوانان سمندری غذا تھوک مارکیٹ کہا جاتا ہے، لیکن یہ نظریہ ابھی قائم نہیں ہوا ہے۔

      یہ بحث کہ آیا یہ ایک "میڈ ان لیب" Made-in-a-lab تھا، "میڈ ان چائنا" Made-in-China وائرس اب بھی جاری ہے۔

      نیپا اور کورونا کا کوئی علاج ہے؟

      علاج کے لحاظ سے دونوں انفیکشن کا کوئی تریاق نہیں ہے۔ ابھی تک کوئی اینٹی وائرل دوا نہیں بنائی گئی ہے۔ سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول نے کہا کہ فی الحال نیپا وائرس (این آئی وی) انفیکشن کے خلاف کوئی لائسنس یافتہ علاج دستیاب نہیں ہے۔ اس کے علاج کے لیے معاون سہولیات دستیاب ہے۔

      سی ڈی سی نے مزید کہا کہ اس کا امیونو تھراپیٹک علاج (مونوکلونل اینٹی باڈی تھراپیز) ہیں جو فی الحال این آئی وی انفیکشن کے علاج کے لیے ترقی اور تشخیص کے تحت ہیں‘‘۔

      علامتی تصویر۔(Shutterstock)۔


      تاہم مرکزی سیکرٹری صحت راجیش بھوشن کے ریاست کو لکھے گئے خط کے مطابق ہندوستان علاج کے مقاصد کے لیے مونوکلونل اینٹی باڈیز کے استعمال کی تلاش کر رہا ہے‘‘۔

      کولیشن آف ایپیڈیمک پریپیڈینس انوویشن (سی ای پی آئی) کے ایک تحقیقی مطالعے میں کئی اینٹی وائرل ادویات کا تجربہ کیا گیا لیکن صرف ایک سے غیر انسانی پرائمیٹس میں اچھے علاج معالجہ کا پتہ چلا ہے۔

      کورونا وائرس کے حوالے سے اکتوبر 2020 میں فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (ایف ڈی اے) نے کووڈ 19 کے علاج کے لیے اینٹی وائرل دوا ریمڈیسویر کی منظوری دی۔ لیکن یہ ایک دوبارہ تیار شدہ دوا ہے اور آج تک کسی اینٹی وائرل دوا کو وائرس کے علاج کا لائسنس نہیں ملا ہے۔ دوسری تکراری ادویات ، بشمول ٹوکلیزوماب استعمال ہوتی ہیں۔ ایف ڈی اے سے منظور شدہ ادویات کو دوبارہ ترتیب دینا COVID-19 کے لیے تیزی سے تعینات کرنے والے علاج کی شناخت کے لیے ایک حکمت عملی ہے۔

      ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کا کہنا ہے کہ وہ کووڈ 19 کی روک تھام یا علاج کے طور پر اینٹی بائیوٹکس سمیت خود ادویات کی سفارش نہیں کرتا ہے۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: