உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    COVID 19 ویکسینیشن: ہندوستان میں دیہی اور شہری تقسیم

    COVID 19 ویکسینیشن: ہندوستان میں دیہی اور شہری تقسیم

    COVID 19 ویکسینیشن: ہندوستان میں دیہی اور شہری تقسیم

    جب ہندوستان میں COVID-19 ویکسین دینے کا سلسلہ شروع ہوا تو یہ مشاہدہ باعثت تشویش تھا۔ جون 2021 میں ہندوستان ٹائمز کے تجزیے سے پتا چلتا ہے کہ ہندوستان کے شہروں میں رہنے والے کسی شخص کے COVID-19 ویکسین لگوانے کا امکان دیہاتوں اور نیم شہری قصبوں میں رہنے والوں کے مقابلے دو گنا زیادہ ہوتا ہے۔

    • Share this:
      ہندوستان کی تقریباً 60 تا 70 فیصد آبادی دیہی علاقوں میں آباد ہے۔ 2011 کی مردم شماری کے تخمینوں کے مطابق، شہری، مخلوط اور دیہی اضلاع کی پوری آبادی کا حصہ بالترتیب 13.6%، 13.6% اور 72.8% ہے۔ کئی لوگوں نے پیشین گوئی کی تھی کہ ویکسینیشن کی کوَریج میں شہری علاقوں کو ترجیح دی جائے گی کیونکہ وہاں صحت عامہ کا بنیادی ڈھانچہ مضبوط ہےاور دیہی کمیونٹیز کے مقابلے شہروں میں ان تک رسائی نسبتاً آسان ہے۔ جب ہندوستان میں COVID-19 ویکسین دینے کا سلسلہ شروع ہوا تو یہ مشاہدہ باعثت تشویش تھا۔ جون 2021 میں ہندوستان ٹائمز کے تجزیے سے پتا چلتا ہے کہ ہندوستان کے شہروں میں رہنے والے کسی شخص کے COVID-19 ویکسین لگوانے کا امکان دیہاتوں اور نیم شہری قصبوں میں رہنے والوں کے مقابلے دو گنا زیادہ ہوتا ہے۔

      مئی تا جولائی 2021 کے درمیان کی مدت کیلئے یہ تجزیہ درست ثابت ہوا، جب دیہی کمیونٹیز کو ویکسین لگانے کی شرح شہری لوگوں کے مقابلے کم تھی۔ تاہم، تبھی ویکسینیشن کے رجحان میں ایک تازہ ہوا کا جھونکا آیا جس کی وجہ سے چند ہی مہینوں میں دیہی علاقوں میں ویکسین لگوانے کی شرح میں اضافہ ہو گیا۔ یقیناً، اس ضمن میں مختلف ریاستوں کے اعداد و شمار الگ الگ تھے۔ اس کے باوجود، اس محاذ پر دیہی اضلاع نے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ یکم ستمبر تک، دیہی اضلاع نے فی 1000 کی آبادی پر 489 ویکسین کی خوراکیں لگوائی ہیں جبکہ مِنٹ میں شائع ہونے والے ایک مضمون کے مطابق شہروں میں یہ تعداد 451 ہے۔ تاہم، یہ نرمی برتنے کا وقت نہیں ہے۔ اگر ہمیں سال کے اختتام تک بالغوں میں 100 فیصد امیونائزیشن حاصل کرنا ہے تو حکومت کو چاہئے کہ وہ دیہی آبادی کو ویکسینیشن تک بھر پور رسائی فراہم کرے۔ جب ہم بھارت کے شہری علاقوں کے مقابلے دیہی علاقوں کے موجودہ حالات کا تجزیہ کرتے ہیں تو ہمیں رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

      یہ حقیقت بالکل عیاں ہے کہ دیہی علاقوں کا ہیلتھ کیئر انفراسٹکچر کمزور ہے۔ حالانکہ پورے بھارت میں سرکاری ہیلتھ کیئر سیٹ اپ میں ڈاکٹروں، نرسوں اور تربیت یافتہ معاون اسٹاف جیسے طبی پریکٹیشنر کی دستیابی کم ہے، لیکن دیہی کمیونٹیز میں حالات یکسر ابتر ہیں۔ شہری علاقوں کے مقابلے دیہی علاقوں میں رسائی کے مسائل زیادہ سنگین ہیں۔ اسی لئے، کولڈ چین مینیجمنٹ اور ویکسین کو دور افتادہ دیہی اضلاع میں لے جانا ایک اہم چیلنج ہے۔ اس کے علاوہ، معذور، بزرگ اور چلنے پھرنے سے قاصر امراض سے پریشان لوگوں کو ویکسین لگوانے پر زیادہ توجہ دی جانی چاہئے۔ ایسی کمیونٹیز میں متوقع تیسری لہر کی شدت کم ہونے کا امکان ہے جن میں زیادہ افراد نے ویکسین لگوا لی ہے۔

      کچھ اضلاع میں، عین موقع پر ہی رجسٹریشن کی سہولت کے ساتھ واک اِن ویکسینیشن تحریک دینے والا قدم ہے اور اس سے ایسے لوگوں کو زیادہ فیض پہنچا ہے جنہیں آن لائن رجسٹریشن سے متعلق تکنیکی معلومات نہیں ہے اور وہ CO-WIN ڈیش بورڈ پر سلاٹس بُک کرنے سے قاصر ہیں۔ یقیناً اس عمل سے ویکسین لگوانے کے عمل میں تیزی آئی ہے۔ تاہم، اس کی وجہ سے ویکسینیشن سینٹرز پر لمبی قطاریں لگنے لگی ہیں اور بھیڑ جمع ہونے لگی ہے، اور ایسے منظر نامے کا نظم کرنے کیلئے سینٹرز پر طبی عملے کی خاطر خواہ تعداد موجود نہیں ہے۔ ایسی صورتحال میں، لوگوں کو ٹیکہ لگوانے کیلئے گھنٹوں لمبی قطاروں میں انتظار کرنا پڑتا ہے اور تب جا کر یہ پتا چلتا ہے کہ اب مزید ویکسینز نہیں ہیں اور اب انہیں اس کیلئے کل یا کسی اور دن آنا ہوگا۔ کئی معاملات میں، لوگ اپنی دوسری خوراک لگوانے کے منتظر ہوتے ہیں، تب انہیں پتا چلتا ہے کہ انہوں نے جو دوسری ویکسین لگوائی ہے وہ ان کی پہلی خوراک سے مختلف ہے۔ ایسے موقعوں پر کوویڈ سے متعلق موزوں برتاؤ (CAB) کی پاسداری کر پانا ہی اپنے آپ میں ایک چیلنج ہوتا ہے اور اس سے بذات خود ویکسینیشن سینٹر پر ہی انفیکشنز کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

      ان چیلنجز سے نپٹنے کیلئے ضروری ہے کہ لوگوں کو ٹیکے کی ریگولر سپلائی اور ویکسین کی دستیابی کے بارے میں روزانہ اطلاع دی جائے۔ دیہی بھارت کا ایک بیشتر حصہ روزانہ کی اجرت پر اپنی گزر بسر کرتا ہے اور ان کیلئے پرائمری ہیلتھ سینٹرز پر آ کر ویکسین لگوانا ممکن نہیں ہے۔ انہیں اس کیلئے کئی بار سینٹرز پر جانا پڑتا ہے، وہ اپنی روزانہ کی اجرت سے محروم ہو جاتے ہیں، جس کی وجہ سے وہ یقیناً دل برداشتہ ہوتے ہیں۔

      ہم دھیرے دھیرے اور استحکام کے ساتھ تمام اہل بالغوں کو امیونائز کرنے کی سمت بڑھ رہے ہیں۔ تاہم، ویکسین کی مسلسل سپلائی اور انہیں بھارت کے دور افتادہ علاقوں تک لے جانا ضروری ہے۔ بچوں کیلئے ویکسینز اور بالغوں کیلئے بوسٹر شاٹس کی خاطر بہتر انفراسٹرکچر اور لوگوں تک ڈیلیوری پہنچانے کیلئے اچھے طریقۂ کار کی ضرورت ہوگی۔

      انل پرمار،

      نائب صدر، کمیونٹی انویسٹمنٹ، یونائٹیڈ وے ممبئی
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: