ہوم » نیوز » وطن نامہ

!میں نے زندگی کے 23 سال جیل میں گزارے کیوں کہ میں مسلمان ہوں

جنوری 1994 کی بات ہے۔ میں فارمیسی میں ڈپلوما کر رہا تھا۔ حیدرآباد ہائی وے سے ہوتا ہوا کالج جا رہا تھا، تبھی ایک سنسان راستہ میں مجھے اغوا کر لیا گیا۔

  • Share this:
!میں نے زندگی کے 23 سال جیل میں گزارے کیوں کہ میں مسلمان ہوں
نثارالدین احمد

جنوری 1994 کی بات ہے۔ میں فارمیسی میں ڈپلوما کر رہا تھا۔ حیدرآباد ہائی وے سے ہوتا ہوا کالج جا رہا تھا، تبھی ایک سنسان راستہ میں مجھے اغوا کر لیا گیا۔ جب آنکھ کھولی تو میں حیدرآباد کی ایک سنسان بلڈنگ میں تھا۔ میں مسلسل وجہ پوچھ رہا تھا لیکن کسی نے بھی کوئی جواب نہیں دیا۔ وہ سبھی سادہ وردی میں پولیس والے تھے۔


مجھے ہتھکڑی لگا کر کمرے کی کھڑکی سے باندھ دیا تھا۔ نیچے کوئی سرکاری دفتر تھا۔ کسی بلڈنگ کا کام چل رہا تھا۔  کچھ وقت تک مجھ سے کچھ بتایا نہیں گیا۔ پھر شروع ہوگا ٹارچر کا دور۔ زبردستی کھانا کھالاتے۔ نیند سے بے حال ہو جاتا لیکن مجھے دن رات جگائے رکتھے۔ پیر کے تلوے پر مارتے۔ الٹا لٹکا کر مارتے۔ بس مارتے، کھلاتے اور جگاتے۔ کبھی بندوق کی نلی میں منہ ڈال کر انکاونٹر کی دھمکی دیتے۔ تب انہوں نے کچھ کاغذوں پر دستخط کرنے کے لئےکہا۔ کچھ خالی کاغذ تھے، کچھ ہاتھ سے لکھے اور کچھ ٹائپ کئے ہوئے۔ میں نے منع کر دیا۔ ٹارچر چلتا رہا۔


آخر کار میں نے بغیر پڑھے ان کاغذوں پر دستخط کر دئے ۔ یہ دستخط گناہ تھے میرے ان گناہوں کے، جن کے بارے میں مجھے معلوم تک نہیں تھا


اب 46 دنوں کی غیر قانونی حراست کے بعد میں حیدرآباد جیل میں تھا۔ دس سالوں بعد کچھ اور الزامات کے ساتھ میں اجمیر کی سنٹرل جیل بھیج دیا گیا۔ ابو روز گار چھوڑ کر میری رہائی کے لئے بھٹکنے لگے۔ پیشی میں بھاگ دوڑ کرتے۔ اولاد کی تکلیفوں نے انہیں بیمار کر دیا۔ عید کے روز میرے والد کا انتقال ہو گیا۔ میں مٹی بھی دینے نہیں جا سکا۔

کھلا آسمان، بڑے ہوا دار گھر میں رہنے کے بعد 8/8 کی وہ کوٹھری اپنے آپ میں ایک سزا تھی۔ مجھے 12 نمبر وارڈ میں رکھا گیا تھا۔ یہ خطرناک قیدیوں کا وارڈ تھا، جن کے لئے زندگیوں  کی کوئی اہمیت نہیں۔وقت کے گزرنے کے ساتھ باہر آنے کی امید بھی کم ہو گئی تھی۔ اب پہلے کی طرح میں رہائی کا انتظار نہیں کرتا تھا۔
آج باہر ہوں تو یقین نہیں ہوتا کہ اتنے سال میں نے بغیر کسی جرم کے قید میں گزارے

 چھبیس سال بعد ایک عدالت نے دوسری عدالت کے فیصلہ کو غلط قرار دیا۔ آخر کار ، 23 سال پہلے ایک نے سزا سنائی اور  23 سال بعد ایک نے کہا تم بے قصور ہو ۔ دو لوگ اپنی بات بولے اور بات ختم! میرے 23 سال ختم ہو چکے ہیں جناب

لوٹنے اور میل ملاقاتوں کے بعد کیا! میرے پاس نہ ڈگری تھی اور نہ تجربہ۔ 23 سال بعد لوٹا تو تمام دنیا بدل چکی تھی۔ میرے والد گزر چکے تھے۔ ایک وقت پر سب سے خوبصورت گھر اب کھنڈر میں تبدیل ہو چکا تھا۔ امی اور بڑے بھائی کھنڈر سے ملتے جلتے نظر آنے لگے تھے۔ زمانہ بدل چکا تھا۔ اب یہاں بچہ بچہ موبائل چلاتا وہ مجھ پر ہنستے۔ تب فارمیسی کر لیتا، اپنے گھر والوں کے لئے کچھ کرتا کچھ خواب تھے، خواہشیں تھیں لکن سب چھین لیا۔ اب میرے لئے زندگی اور جیل میں فرق ختم ہو چکا ہے۔

37725413_2144589032235941_6432830715473166336_n


واپس آیا تو تمام طرح کے تجربات ہوئے۔ کچھ کام نہیں ملا۔ ہارڈ وئر کی دکان میں کام کیا۔ کچھ وقت سیلس مین رہا۔ ڈرائیونگ لائسنس بنوایا لیکن ٹیکسی کرائے پر لینے کے پیسے نہیں۔ اب دکانوں میں جا کر، نکڑ پر کھڑے ہو کر ٹوسٹ(رسک) بیچتا ہوں۔

!بدل سکیں تو کون سی ایک بات بدلنا چاہیں گے

 لمبی خاموشی کے بعد نثارالدین احمد کہتے ہیں کہ’’ وہ 23 سال واپس چاہوں گا‘‘۔

 

 
First published: Jul 26, 2018 04:39 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading