உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    معذوربیٹی کی ماں بننا ہوا گناہ، شوہر نے تین طلاق دے کر گھر سے نکالا، اب حلالہ کا دباو

    اترپردیش کے بلرام پور (Balrampur) میں 5 سال کی بیٹی کا معذور ہونا ماں کے لئے گناہ ہوگیا۔ شوہر نے بیوی کو تین طلاق (Triple Talaq) دے کر معصوم بچوں کے ساتھ اسے گھر سے بھگا دیا۔ 5 سال کی معذور بیٹی اور ڈیڑھ سال کے معصوم بیٹے کو لے کر ماں اب در در کی ٹھوکریں کھانے کو مجبور ہے۔

    اترپردیش کے بلرام پور (Balrampur) میں 5 سال کی بیٹی کا معذور ہونا ماں کے لئے گناہ ہوگیا۔ شوہر نے بیوی کو تین طلاق (Triple Talaq) دے کر معصوم بچوں کے ساتھ اسے گھر سے بھگا دیا۔ 5 سال کی معذور بیٹی اور ڈیڑھ سال کے معصوم بیٹے کو لے کر ماں اب در در کی ٹھوکریں کھانے کو مجبور ہے۔

    اترپردیش کے بلرام پور (Balrampur) میں 5 سال کی بیٹی کا معذور ہونا ماں کے لئے گناہ ہوگیا۔ شوہر نے بیوی کو تین طلاق (Triple Talaq) دے کر معصوم بچوں کے ساتھ اسے گھر سے بھگا دیا۔ 5 سال کی معذور بیٹی اور ڈیڑھ سال کے معصوم بیٹے کو لے کر ماں اب در در کی ٹھوکریں کھانے کو مجبور ہے۔

    • Share this:
      بلرام پور: اترپردیش کے ضلع بلرام پور (Balrampur) میں 5 سال کی بیٹی کا معذور ہونا ماں کے لئے گناہ ہوگیا۔ شوہر نے بیوی کو تین طلاق (Triple Talaq) دے کر معصوم بچوں کے ساتھ اسے گھر سے بھگا دیا۔ 5 سال کی معذور بیٹی اور ڈیڑھ سال کے معصوم بیٹے کو لے کر ماں اب در در کی ٹھوکریں کھانے کو مجبور ہے۔ یہی نہیں متاثرہ کے جیٹھ نے دوبارہ نکاح کرانے کے لئے اس کے ساتھ حلالہ (Halala) کی رسم نبھانے کی شرط رکھ دی ہے۔ اس بات سے متاثرہ صدمے میں ہے اور ایس پی کو درخواست دے کر انصاف کی گہار لگائی ہے۔

      معاملہ تلسی پور تھانہ علاقے کے لال چوراہے کا ہے۔ متاثر رفعت رابعہ کی شادی 29 دسمبر 2015 میں کوتوالی شہر علاقہ کے گووند باغ باشندہ عادل احمد کے ساتھ ہوئی تھی۔ ایس پی کٹیال کو دی گئی درخواست میں متاثرہ نے الزام لگایا ہے کہ اس کی پانچ سالہ بیٹی مکمل معذور ہے، جبکہ ڈیڑھ سال کا بیٹا بھی مکمل طور پر بول نہیں پاتا ہے۔ متاثرہ نے الزام لگایا ہے کہ اس کا شوہر اور سسرال والے آئے دن معذور بیٹی کو جنم دینے کا طعنہ دیتے تھے اور متاثرہ کو جہیز لانے کے لئے مسلسل استحصال بھی کرتے تھے۔ متاثرہ نے کہا کہ اس کے شوہر اور سسرال والوں نے 17 جولائی، 2021 کو اسے بے رحمی سے پیٹا۔

      بعد میں شوہر عادل نے اس کی مرضی کے خلاف تین طلاق دے کر متاثرہ کو اس کے نابالغ بچوں سمیت گھر سے بھگا دیا۔ متاثرہ اس حادثہ کے بعد اپنے ماں کے گھر رہنے لگی۔ اس دوران سسرال کے لوگوں کو سمجھانے بجھانے کی کوشش کی، لیکن کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔ متاثرہ بھی یہ سوچ کر انتظار کرتی رہی کہ شاید اس کا شوہر سب کچھ بھول کر بچوں پر ترس کھاکر اسے سہارا دے دے گا۔

      تاہم 25 اگست کو شوہر عادل احمد اپنے دو بھائیوں جمیل احمد اور عقیل احمد کے ساتھ متاثرہ کی ماں کے گھر پہنچا اور اسے بھدی بھدی گالیاں دیتے ہوئے کہا کہ تجھے طلاق تو دے ہی دیا ہے، اب تم پر ہمارا کوئی مطلب نہیں ہے۔ متاثرہ نے الزام لگایا کہ اس کے جیٹھ جمیل احمد اور عقیل احمد نے اس کا جسمانی استحصال کرنے کے مقصد سے کہا کہ ہمارے ساتھ حلالہ کرلو، پھر تمہارا نکاح عادل احمد سے کروا دیں گے۔ اس حادثہ کے بعد متاثرہ صدمے میں ہے۔ متاثرہ نے ایس پی ہیمنت کٹیال سے مل کر انصاف کی گہار لگائی ہے۔ ایس پی ہیمنت کٹیال نے بتایا کہ معاملے کی جانچ کرائی جارہی ہے اور قصورواروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: