ہوم » نیوز » وطن نامہ

پورن فلم چلا کر بیوی کے ساتھ سیکس کے دوران یہ کرتا تھا شوہر، جان کراڑ جائیں گے ہوش

جانچ میں راز کھل گیا کہ حیدرآبا دکا ایک سافٹ ویئر انجینئر ایک پورن ویب سائٹ کیلئے میل ایسکارٹ کے طور پر کام کرتا تھا۔ وہ اپنی بیوی کے ساتھ سیکس کرنے کے دوران لیپ ٹاپ پر کوئی فلم چلاکر رکھتا تھا۔

  • Share this:
پورن فلم چلا کر بیوی کے ساتھ سیکس کے دوران یہ کرتا تھا شوہر، جان کراڑ جائیں گے ہوش
علامتی تصویر

روی اور ریما کی شادی کو کچھ عرصہ ہو چکا تھا اور دونوں ہی حیدر آباد میں سافٹ ویئر انجینئر کے طور پر کام کر رہے تھے۔ روی کی کچھ عادتیں اور حرکتیں اتنی عجیب تھیں کہ ریما کو اکثر عجیب قسم کا شک ہوتا تھا۔ روی سوالوں کے جواب بھی ٹھیک سے نہیں دے پاتا تھا تو ریما کو دال میں کچھ کالا لگتا تھا لیکن جب سچ سامنے آیا تو ریما کو بھی یقین نہیں ہوا۔بات ہے دو سال پہلے  2016 کی ۔ روی اور ریما اپنی جاب یعنی کام میں مصروف تھےاور خوش بھی۔ اچھا کما رہے تھے دونوں اور ایک اچھی زندگی لیڈ کر رہے تھے۔ان سب کے درمیان کچھ باتیں تھیں جو دونوں کے درمیان عام نہیں تھیں ۔شوہر ۔بیوی ہونے اور شادی کو کافی وقت بھی نہ ہونے کے باوجود دونوں کے درمیان جسمانی تعلقات بنانے کا فاصلہ زیادہ رہتا تھا۔ اکثر روی ٹال دیا کرتا تھا۔


دوسری عجیب بات یہ تھی کہ سیکس کو لیکر روی کی کچھ فینٹیسیز تھیں۔ وہ جب بھی ریما کے ساتھ ہمبستر ہوتا تھا تو لیپ ٹاپ پر کوئی پارن فلم چلاکر رکھتا تھا۔ ریما منع بھی کرتی اور پوچھتی بھی تو وہ اسے اپنی فینٹیسی بتا کر بات کو گھما دیتا تھا۔ ایک اور عجیب بات یہ تھی کہ اکثر روی اکیلے میں لیپ ٹاپ پر کچھ کام کر رہا ہوتا اور اچانک وہاں ریما پہنچتی تو وہ لیپ ٹاپ فورا بند کر دیتا تھا۔


یہ رقم روی کے اکاؤنٹ میں اس کمپنی سے نہیں آئی تھی جہاں وہ کام کرتا تھا ایسے ہی دن گزر رہے تھے اور اس سال نومبر میں ریما کے ایک دوست نے ریما سے ملاقات کی۔ اس دوست نے ریما سے کہا کہ اس کے پاس ایک خبر سوال کے طور پر ہے۔ ریما کے پوچھنے پراس نے بتایا کہ اس نے ریما کو پورن ویڈیوز میں دیکھا ہے۔ یہ سنتے ہی ریما سن رہ گئی ۔ریما نے اس سے ڈٹیلس لیں۔ ریما نے وہ ویڈیوز چیک کیئے تو واقعی ویڈیوز میں وہی تھی۔


علامتی تصویر

ریما نے اس بارے میں روی کو بتانا ٹھیک نہیں سمجھا کیونکہ معاملہ ایسا تھا کہ اسے خود سمجھ نہیں آ رہا تھا تو وہ روی کو کیا سمجھاتی۔ اپنے دوست کی مدد سے ریما سائبر کرائم کنٹرول برانچ پہنچی اور پولیس میں شکایت درج کروائی۔ اب جانچ شروع ہوئی تو ریما کسی پر شک ظاہر نہیں کر پائی۔ ریما کا کہنا تھا کہ اس کے شوہر کے علاوہ اس نے کسی اور کے ساتھ سیکس ہی نہیں کیا ہے۔ گھر سے باہر صرف ہنی مون یا ایک دو مرتبہ ہی کسی ہوٹل میں ایسا کچھ ہوا ہے۔

جانچ چل رہی تھی کہ سراغ نہیں مل رہا تھا۔ حالانکہ جس پورن ویب سائٹ پر لوڈ ہوا تھا ویڈیو ،اپلوڈنگ تھریسور سےہوئی تھی اور اس سلسلے میں ایک شخص تک پولیس پہنچ رہی تھی۔اسی درمیان ایک افسر نے جب ویڈیوز کو ایک بار غور سے دیکھا تو سراغ ملا۔ سراغ یہ تھا کہ ان ویڈیوز میں صرف ریما کا چہرہ نظر آرہا تھا ،آدمی کا نہیں۔ پولیس نے اپنی جانچ کی تحقیقات توجہ مرکوز کی۔ جب تفتیش کی گئی تو روی کے اکاؤنٹ میں جہاں۔جہاں سے رقم کریڈٹ ہوتی تھی ان ذرائع کا پتہ لگایا گیا۔


ان میں سے ایک سورس تھا میل ایسکارٹ سروس۔ روی سے جب سختی سے پوچھ گچھ کی گئی تو اس نے قبول کر لیا کہ وہی گنہگار ہے۔ روی نے بتایا کہ بچپن سے ہی اسے پورن کی لت لگ چکی تھی اوراسی وجہ سے اس دھندے میں آ گیا تھا۔ میل ایسکارٹ سروس کے ذریعے اس نے پیسے بھی کمائے تھے۔ یہ سب سن کر ریما کے پاؤں کے نیچے زمین کھسک چکی تھی۔




جانچ میں راز کھل گیا کہ حیدرآباد کا ایک سافٹ ویئر انجینئر ایک پورن  ویب سائٹ کیلئے میل ایسکارٹ کے طور پر کام کرتا تھا۔ وہ اپنی بیوی کے ساتھ سیکس کرنے کے دوران لیپ ٹاپ پر کوئی فلم چلاکر رکھتا تھا اور ویب کیمرے کے ذریعے ان لمحوں کو لائیو اسٹریم کرتا تھا۔اس معاملے میں متاثرہ اور ملزم کے اصلی نا م کا انکشاف نہیں کیا گیا ہے۔


First published: Dec 18, 2018 08:18 AM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading