ہوم » نیوز » مغربی ہندوستان

محرم کی مجالس عزا اور محافل ماتم سے متعلق سابق رکن پارلیمنٹ حسین دلوائی کا حکومت مہاراشٹر سے بڑا مطالبہ

کورونا وائرس کے باعث ریاست میں مسلمانوں کو مذہبی اُمور کی ادایئگی میں پیش آ رہی دشواریوں کے ضمن میں سابق رکن پارلیمنٹ و نائب صدر گانگریس پارٹی حسین دلوائی نے یو این آئی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ احتیاطی تدابیر اور جسمانی محفوظ فاصلے کو برقرار رکھتے ہوئے عبادات اور دیگر مذہبی سرگرمیوں کی اجازت دی جانی چاہئے۔

  • Share this:
محرم کی مجالس عزا اور محافل ماتم سے متعلق سابق رکن پارلیمنٹ حسین دلوائی کا حکومت مہاراشٹر سے بڑا مطالبہ
محرم میں منعقد کی جانے والی مجالس عزا اور محافل ماتم کا اہتمام کر نے کےلئے اجازت دی جائے، حسین دلوائی کا حکومت مہاراشٹر سے مطالبہ

ممبئی: کورونا وائرس کی وباء نے تمام تر سرگرمیوں کو متاثرکر رکھا ہے۔ اس دوران نہ صرف تجارتی، معاشی اور صنعتی سرگرمیاں بڑی حد تک ٹھپ ہو کر رہ گئی ہیں، بلکہ مذہبی رسومات اور عبادتوں کی اجتماعی ادائیگی پر بھی مکمل طور پر قدغن لگا ہوا ہے۔ دنیا بھر کے مسلمانوں میں باالعموم اور ہندوستانی مسلمانوں میں باالخصوص، یہی پابندی باعث تشویش اور اضطراب کا باعث بنی ہوئی ہے۔ مسلمانوں کے ساتھ ساتھ دیگر مذاہب کے ماننے والوں میں بھی اجتماعی عبادتوں اور مذہبی تقریبات کے انعقاد پر لگائی گئی پابندیوں کے خلاف بے چینی پائی جا رہی ہے اور اس میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے۔ اسی کے پیش نظر، احتیاطی تدابیرکو برقرار رکھتے ہوئے مذہبی رسومات و عبادات کی اجتماعی ادائیگی کے لئے مساجد و دیگر عبادت گاہوں کو کھولنے کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے۔ مسلمانوں کے قائدین اور مختلف تنظیمں نمایاں طور پر اس سلسلے میں کوشاں ہیں کہ حکومت اس ضمن میں مثبت اقدامات اٹھائے۔

کورونا وائرس کے باعث ریاست میں مسلمانوں کو مذہبی اُمور کی ادائیگی میں پیش آ رہی دشواریوں کے ضمن میں سابق رکن پارلیمنٹ اور نائب صدر گانگریس پارٹی حسین دلوائی نے ’یو این آئی‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ احتیاطی تدابیر اور جسمانی محفوظ فاصلے کو برقرار رکھتے ہوئے عبادات اور دیگر مذہبی سرگرمیوں کی اجازت دی جانی چاہئے۔ انھوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے نافذ حکم امتناع کے دوران مسلمانوں نے تمام احکامات پر خندہ پیشانی سے عمل کیا۔ ماہ رمضان المبارک کی نمازیں اور عبادات نیز عید کی نمازیں بھی گھروں پر ہی ادا کیں۔ اور اس دوران اپنے کسی بھی عمل سے حکومت کے لئے کوئی مسئلہ پیدا نہیں کیا۔ مسلمانوں کے اس قابل ستائش عمل کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے۔ تاہم اسی کے ساتھ حکومت کو اس بات پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہئے کہ جلد از جلد مذہبی عبادت گاہوں کو کھول کر احتیاطی تدابیر اور جسمانی محفوظ فاصلے کو برقرار رکھتے ہوئے اجتماعی عبادت کی اجازت دی جائے۔ تاکہ اس ضمن میں عوام کو ہو رہی پریشانیوں کا خاتمہ ہو۔


سابق رکن پارلیمنٹ حسین دلوائی نے اس موقع پر یہ بھی مطالبہ کہ اہل تشیع کی جانب سے ماہ محرم میں منعقد کی جانے والی مجالس عزا اور محافل ماتم کا اہتمام کر نے کے لئے اجازت دی جائے۔
سابق رکن پارلیمنٹ حسین دلوائی نے اس موقع پر یہ بھی مطالبہ کہ اہل تشیع کی جانب سے ماہ محرم میں منعقد کی جانے والی مجالس عزا اور محافل ماتم کا اہتمام کر نے کے لئے اجازت دی جائے۔


سابق رکن پارلیمنٹ حسین دلوائی نے اس موقع پر یہ بھی مطالبہ کہ اہل تشیع کی جانب سے ماہ محرم میں منعقد کی جانے والی مجالس عزا اور محافل ماتم کا اہتمام کر نے کے لئے اجازت دی جائے۔ اس ضمن مہں انہوں نے وزیر اعلیٰ ادھو ٹھاکرے اور وزیز داخلہ انل دیشمکھ سے گفتگوکرکے یہ مطالبہ کیا اور بتایا کہ ماہ محرم الحرام قمری سال کا پہلا مہینہ ہے اور شریعت مطہرہ نے اس ماہ کو حرمت و احترام والا مہینہ کہا ہے، اس لئے جہاں مسلمانانِ عالم اس مبارک مہینہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے فرمودات کے مطابق روزہ و صدقات کا اہتمام کرتے ہیں، تو وہیں اہل تشیع شیعہ حضرات اس ماہ میں مجالس عزا اور محافل ماتم کا اہتمام کرتے ہیں۔ واقعہ کربلا اور امام حسین (ع) اور آپ کے اصحاب و انصار کی شہادت بھی اسی مہینے میں ہوئی ہے۔ امام حسین (ع) کی شہادت کے بعد، اہل تشیع کے لئے یہ مہینہ عزاداری کا مہینہ ہے اور اہل تشیع ہر سال محرم کے مہینے میں سوگواری اور غم مناتے ہیں۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Aug 15, 2020 11:57 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading