ہوم » نیوز » جنوبی ہندوستان

Hyderabad Election Results: مجلس اتحاد المسلمین کے تین ہندو امیدواروں نے درج کی جیت، اویسی نبھاسکتے ہیں کنگ میکر کا کردار

Greater Hyderabad Municipal Corporation Election: گزشتہ انتخابات سے نتائج کا موازنہ کریں تو ٹی آرایس کی کارکردگی بہت خراب ہوئی ہے۔ گزشتہ الیکشن میں 99 سیٹیں جیت کر کارپوریشن پر قبضہ کرنے والی ٹی آر ایس 55 سیٹوں پر آگئی ہے جبکہ سب سے زیادہ فائدہ بی جے پی کو ہوا ہے۔

  • Share this:
Hyderabad Election Results: مجلس اتحاد المسلمین کے تین ہندو امیدواروں نے درج کی جیت، اویسی نبھاسکتے ہیں کنگ میکر کا کردار
مجلس اتحاد المسلمین کے تین ہندو امیدواروں نے درج کی جیت، اویسی نبھاسکتے ہیں کنگ میکر کا کردار

حیدرآباد: گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن الیکشن  (Greater Hyderabad Municipal Corporation Election) پورے ہوچکے ہیں۔ اس بارک ے الیکشن کئی وجوہات سے بہت خاص رہے ہیں۔ ایک طرف بی جے پی (BJP) کی میگا انتخابی تشہیر، تو دوسری طرف اسدالدین اویسی (Asaduddin Owaisi) کے ہندو امیدواروں کی جیت ہے۔ خاص بات ہے کہ میونسپل کارپوریشن الیکشن میں آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) سربراہ نے 5 ہندو امیدواروں کو اتارا تھا، جس میں سے 3 نے جیت درج کرلی ہے۔ وہیں، گزشتہ انتخابات کے مقابلے بی جے پی کی کارکردگی بھی شاندار رہی ہے۔ پارٹی نے یہاں 48 سیٹوں پر جیت درج کی۔ اس الیکشن کی سب سے بڑی پارٹی 55 سیٹیں جیتنے والی تلنگانہ راشٹریہ سمیتی (ٹی آر ایس) رہی ہے۔


حیدرآباد کے اس الیکشن میں اسد الدین اویسی کو کنگ میکر (Kingmaker) کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔ اس بار انہوں نے 51 سیٹوں پر امیدوار اتارے تھے، جس میں سے 10 فیصد ریزرویشن کے تحت 5 ٹکٹ ہندو امیدواروں کو دیئے تھے۔ خاص بات بات ہے کہ ایم آئی ایم کے ٹکٹ پر الیکشن لڑنے والے پرانا پُل وارڈ سے سنم راج موہن، کارون وارڈ سے مانداگری سوامی یادو اور فلک نما وارڈ سے کے تھارا بھائی نے جیت کا پرچم لہرایا۔ جبکہ، جام باغ وارڈ سے جدالا رویندر اور قطب اللہ پور وارڈ سے ای راجیش گوڑ کو شکست کا منہ دیکھنا پڑا۔


حیدرآباد کے اس الیکشن میں اسد الدین اویسی کو کنگ میکر (Kingmaker) کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔ اس بار انہوں نے 51 سیٹوں پر امیدوار اتارے تھے، جس میں سے 10 فیصد ریزرویشن کے تحت 5 ٹکٹ ہندو امیدواروں کو دیئے تھے۔
حیدرآباد کے اس الیکشن میں اسد الدین اویسی کو کنگ میکر (Kingmaker) کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔ اس بار انہوں نے 51 سیٹوں پر امیدوار اتارے تھے، جس میں سے 10 فیصد ریزرویشن کے تحت 5 ٹکٹ ہندو امیدواروں کو دیئے تھے۔


بی جے پی سنبھلی اور ٹی آر ایس کی حالت بگڑی

گزشتہ میونسپل کارپوریشن انتخابات سے موازنہ کریں تو تلنگانہ راشٹریہ سمیتی (ٹی آرایس) کی کارکردگی کافی خراب ہوئی ہے۔ گزشتہ الیکشن میں 99 سیٹیں جیت کر کارپوریشن پر قبضہ کرنے والی ٹی آر ایس 55 سیٹوں پر آگئی ہے۔ جبکہ، بی جے پی نے لمبی چھلانگ لگاکر 48 سیٹوں کے اعدادوشمار کو حاصل کرلیا ہے۔ بی جے پی گزشتہ الیکشن میں محض 4 سیٹیں جیتنے میں کامیاب  ہوئی تھی۔ حالانکہ، اسد الدین اویسی کی پارٹی نے گزشتہ کارکردگی کو دہراتے ہوئے 44 سیٹیں جیتی ہیں۔ اس دوران سب سے خراب حالات کانگریس کی رہی۔ پارٹی کے کھاتے میں صرف دو سیٹیں آئی ہیں۔

بی جے پی نے کی تھی میگا تشہیر

میونسپل کارپوریشن انتخابات میں بی جے پی نے اس بار مضبوط موجودگی درج کرائی تھی۔ اترپردیش کے سربراہ یوگی آدتیہ ناتھ، قومی صدر جے پی نڈا اور وزیر داخلہ امت شاہ خود یہاں انتخابی تشہیر کے لئے پہنچے تھے۔ تینوں بڑے لیڈروں نے حیدرآباد میں روڈ شو اور جلسے کئے تھے۔ خاص بات یہ ہے کہ بی جے پی کی اس تیاری کو سال 2023 میں تلنگانہ میں ہونے والے اسمبلی انتخابات کی تیاری کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Dec 05, 2020 04:58 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading