ہوم » نیوز » جنوبی ہندوستان

دیشاعصمت دری وقتل کیس میں انکاؤنٹرکامعاملہ: مہلوک ملزم کی بیوہ کا احتجاج، سامنے رکھی یہ بڑی مانگ

مہلوک ملزم کی بیوہ کا کہناہے کہ وہ اس وقت تک اپنے شوہرکی لاش کے آخری رسومات انجام نہیں دے گی جب تک جیلوں میں دیگرملزمین کوگولی نہیں ماری جاتی ہے۔

  • Share this:
دیشاعصمت دری وقتل کیس میں انکاؤنٹرکامعاملہ: مہلوک ملزم کی بیوہ کا احتجاج، سامنے رکھی یہ بڑی مانگ
انکاونٹر کی جگہ پر کھڑے پولیس اہلکار ۔ فوٹو : پی ٹی آئی / نیوز 18 ڈاٹ کام ۔

حیدرآباد کے دیشا عصمت دری و قتل معاملے کے ملزمین کے پولیس تصادم میں مارے جانے کا معاملے چارملزمین میں سے ایک کی اہلیہ نے سنیچر کے روز اپنے شوہر کی موت پرغم اورناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ تاہم،لوگ اب بھی شہر میں پولیس کی کارروائی پر خوشی کا اظہارکررہے ہیں۔ ملزم چننا کیشولو کی اہلیہ نے کہا، جرائم میں ملوث اورغلطی کرنے والے کتنے لوگ جیل میں ہیں انہیں بھی اسی طرح گولی مار دی جانی چاہئے جس طرح دیشا عصمت دری وقتل کیس کے ملزمین کوگولی ماری گئی ہے۔ مہلوک ملزم کی بیوہ کا کہناہے کہ وہ اس وقت تک اپنے شوہرکی لاش کے آخری رسومات انجام نہیں دے گی جب تک جیلوں میں دیگرملزمین کوگولی نہیں ماری جاتی ہے۔


دیشا کیس میں انکاؤنٹرکا معاملہ: سپریم کورٹ میں دو عرضیاں دائر۔(تصویر:نیوز18اردو)۔
دیشا کیس میں انکاؤنٹرکا معاملہ: سپریم کورٹ میں دو عرضیاں دائر۔(تصویر:نیوز18اردو)۔


ملزم کی بیوی کا احتجاج


ملزم چننا کیشولوکی بیوی حاملہ ہے اور اس نے الزام لگایا ہے کہ اس کے ساتھ ناانصافی کی گئی ہے۔ وہ ضلع نارائن پیٹ کے اپنے گاؤں میں مقامی لوگوں کے ساتھ دھرنے پر بیٹھ گئیں۔ اس نے جمعہ کے روز کہا تھا کہ پولیس اسے بھی مارڈالے کیونکہ وہ اب تنہا ہے۔ ملزم کی بیوہ کا کہناہے کہ انہیں بتایا گیا تھا کہ انکے شوہر کے ساتھ کچھ نہیں ہوگا اور وہ جلد واپس آجائیں گے۔اب ہمیں نہیں معلوم کہ میں ہم کیا کریں۔ وہ التجاکررہی ہے اور کہے رہی ہے براہ کرم مجھے بھی اس جگہ پر لے جائیں جہاں میرے شوہرکو ماراگیاتھااورمجھے بھی ہلاک کردیں

 

کیاہے پورا معاملہ ؟ دراصل چاروں ملزمین پر27 نومبر کی رات جانوروں کی ڈاکٹر دیشا کی عصمت دری کے بعد جلاکر قتل کرنے کا الزام ہے۔ سبھی ملزمین کو اس معاملے میں 29 نومبر کو گرفتار کیا گیا تھا۔ واقعہ کی صحیح معلومات حاصل کرنے کے لئے پولیس جمعہ کی صبح ملزمین کو جائے واقعہ شاد نگر کے نزدیک چٹن پلّی گاؤں لے گئی تھی وہیں تصادم کے دوران پولیس نے چاروں ملزمین کو ہلاک کردیا۔اس انکاؤنٹر کے سلسلے میں سوال بھی اٹھ رہے ہیں۔ واضح رہے کہ تلنگانہ ہائی کورٹ نے اس معاملے میں جمعہ کے روز سبھی ملزمین کی لاشیں پوسٹ مارٹم کرانے کا ریاستی حکومت کو حکم دیا تھا۔ عدالت نے پوسٹ مارٹم کے عمل کا ویڈیو بنانے کی بھی ہدایت دی جسے 9 دسمبر تک ڈسٹرکٹ جج کو جمع کرانے کےلئے کہا گیا ہے۔

First published: Dec 07, 2019 09:25 PM IST