உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Hyderabad: نظام کا محمد علی جناح نے بھی دیا تھا ساتھ، 5 دن میں ہندوستان کا حصہ بنا حیدرآباد، انضمام کی پوری کہانی

    نظام کا محمد علی جناح نے بھی دیا تھا ساتھ

    نظام کا محمد علی جناح نے بھی دیا تھا ساتھ

    17 ستمبر 1948 کی شام حیدرآباد میں سورج غروب ہو رہا تھا، لیکن جدید ہندوستان کی تاریخ میں ایک نئی صبح طلوع ہو رہی تھی۔ پرل سٹی یعنی موتیوں کے لئے یہ شہر مشہور ہے۔ 73 سال پہلے آزاد ہندوستان کی مالا میں اس شام ایک اور موتی کو پرویا جا رہا تھا۔ حالانکہ حیدرآباد کا ہندوستان میں انضمام اتنا آسان نہیں تھا۔ اس کے لئے کافی چیلنجز کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ آئیے جانتے ہیں کہ حیدرآباد کے ہندوستان میں شامل ہونے کی پوری کہانی...

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Hyderabad, India
    • Share this:
      حیدرآباد: 17 ستمبر 1948 کی شام حیدرآباد میں سورج غروب ہو رہا تھا، لیکن جدید ہندوستان کی تاریخ میں ایک نئی صبح طلوع ہو رہی تھی۔ پرل سٹی یعنی موتیوں کے لئے یہ شہر مشہور ہے۔ 73 سال پہلے آزاد ہندوستان کی مالا میں اس شام ایک اور موتی کو پرویا جا رہا تھا۔ حالانکہ حیدرآباد کا ہندوستان میں انضمام اتنا آسان نہیں تھا۔ اس کے لئے کافی چیلنجز کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ آئیے جانتے ہیں کہ حیدرآباد کے ہندوستان میں شامل ہونے کی پوری کہانی...

      حیدرآباد کے نظام انضمام نہ کرانے پر ڈٹے

      قومی پیداوار کے لحاظ سے حیدرآباد کو ملک کا سب سے بڑا راج گھرانہ ہونے کا رتبہ حاصل تھا اور اس کا رقبہ انگلینڈ اور سکاٹ لینڈ کے کل رقبے سے بڑا تھا۔ ملک کی آزادی کے بعد زیادہ تر رجواڑے ہندوستان میں شامل ہوگئے، لیکن جونا گڑھ، کشمیر اور حیدرآباد ہندوستان میں شامل ہونے کو تیار نہیں تھے۔ یہ الگ ملک کے طور پر منظوری پانے کی کوشش میں تھے۔

      نظام نے ایک آزاد بادشاہت کا کیا مطالبہ

      حیدرآباد کے نظام عثمان علی خان آصف نے فیصلہ کیا کہ ان کا رجواڑہ نہ تو پاکستان اور نہ ہی ہندوستان میں شامل ہوگا۔ بھارت چھوڑنے کے وقت انگریزوں نے حیدرآباد کے نظام کو یا تو پاکستان یا پھر ہندوستان میں شامل ہونے کی تجویز دی۔ انگریزیوں نے حیدرآباد کو آزاد ریاست بنے رہنے کی بھی تجویز دی تھی۔ حیدرآباد میں نظام اور فوج میں سینئر عہدوں پر مسلم تھے، لیکن وہاں کی بیشتر آبادی ہندو تھی۔ شروع میں نظام نے برطانوی حکومت سے حیدرآباد کو دولت مشترکہ کے تحت ایک آزاد بادشاہت کی حیثیت کے لئے زور دیا۔ حالانکہ برطانوی نظام کی اس تجویز پر رضا مند نہیں ہوئے۔

      نظام نے محمد علی جناح سے بھی کیا تھا رابطہ

      کہا جاتا ہے کہ نظام ہندوستان میں حیدرآباد کا انضمام بالکل نہیں کرانا چاہتے تھے۔ کے ایم منشی نے اپنی کتاب ’اینڈ آف این ایرا‘ میں لکھا ہے کہ نظام نے محمد علی جناح سے رابطہ کرکے یہ جاننے کی کوشش کی تھی کہ کیا وہ ہندوستان کے خلاف ان کی ریاست کو حمایت کریں گے۔ آںجہانی صحافی کلدیپ نیر نے اپنی سوانح ‘بیانڈ دی لائنس‘ میں جناح کو نظام کی تجویز کے آگے کی کہانی لکھی ہے۔ کلدیپ نیر نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ محمد علی جناح نے نظام قاسم کی اس تجویز کو ازسر نو خارج کرتے ہوئے کہا کہ وہ مٹھی بھر ایلیٹ لوگوں کے لئے پاکستان کے وجود کو خطرے میں نہیں ڈالنا چاہیں گے۔

      نظام نے حیدرآباد کو اعلان کیا تھا آزاد

      مجلس اتحاد المسلمین (ایم آئی ایم) کے پاس اس وقت 20 ہزار رضاکار تھے، جو نظام کے لئے کام کرتے تھے اور حیدرآباد انضمان پاکستان میں کروانا چاہتے تھے یا آزاد رہنا۔ رضاکار ایک نجی فوج تھی جو نظام کے اقتدار کو بنائے رکھنے کے لئے تھی۔ حیدرآباد کے نظام کے انکار کرنے کے بعد ہندوستان کے اس وقت کے وزیر داخلہ سردار ولبھ بھائی پٹیل نے ان سے سیدھے ہندوستان میں انضمام کی گزارش کی، لیکن نظام نے پٹیل کی گزارش کو خارج کرتے ہوئے 15 اگست 1947 کو حیدرآباد کو ایک آزاد قوم کا اعلان کیا۔

      ماونٹ بیٹن نے طاقت کے استعمال سے بچنے کا دیا مشورہ

      ہندوستان کے دل میں واقع حیدرآباد کے نظام کے اس قدم سے سردار پٹیل حیران رہ گئے اور انہوں نے اس وقت کے گورنر جنرل لارڈ ماونٹ بیٹن سے رابطہ کیا۔ ماونٹ بیٹن نے پٹیل کو مشورہ دیا کہ اس چیلنج کو ہندوستان بغیر طاقت کے استعمال کے نمٹے۔ وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو ماونٹ بیٹن کے مشورہ سے متفق تھے اور وہ بھی اس مسئلے کا پُرامن حل کرنا چاہتے تھے۔ حالانکہ سردار پٹیل اس سے بالکل غیر متفق تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ حیدرآباد کی حماقت کو برداشت نہیں کیا جاسکتا ہے۔

       
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: