உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    حیدرآباد لوک سبھا سیٹ : اسدالدین اویسی کے لیے جیت کتنی آسان اور کتنی مشکل؟

    غربت اورناخواندگی کاشکارپرانےشہرمیں کیاایک بارپھرچلے گااویسی خاندان کاجادو؟

    غربت اورناخواندگی کاشکارپرانےشہرمیں کیاایک بارپھرچلے گااویسی خاندان کاجادو؟

    غربت اورناخواندگی کاشکارپرانےشہرمیں کیاایک بارپھرچلے گااویسی خاندان کاجادو؟

    • Share this:
      مجلس اتحادالمسلمین کے صدراورموجودہ رکن پارلیمنٹ اسدالدین اویسی مسلسل چوتھی مرتبہ حیدرآباد لوک سبھاسیٹ مقابلہ کررہے ہیں۔غربت اورناخواندگی کاشکارپرانےشہرحیدرآباد میں اس بارپھراویسی خاندان کاجادوچلے گایانہیں یہ تووقت ہی بتائے گا۔ مجلس اتحادالمسلمین کے اسدالدین اویسی، کانگریس کے فیروزخان،بی جے پی سے بھگونت راؤ، ٹی آرایس سے پی سرکانت اپنی قسمت آزمارہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ حیدرآبادکے پرانے شہرحیدرآبادمیں انتخابی تشہیرعروج پرپہنچ گئی ہے۔
      تاریخی شہرحیدرآباد کوموتیوں کاشہرکہاجاتاہے۔چارمیناراورحیدرآبادی بریانی دنیابھرمیں مشہور ہیں۔اورملک کے اہم ترین شہروں میں حیدرآبادکاشمار کیاجاتاہے۔تاہم نئے شہراورپرانے شہرمیں کافی فرق نظرآتاہے۔نئے شہرمیں عوام کوتمام بنیادی سہولتیں دستیاب ہے۔اورنئے شہر کوترقی یافتہ شہرقرارداجاسکتاہے۔تاہم حیدرآباد کے پرانے شہرمیں عام کو بنیادی سہولتیں دستیاب نہیں ہے۔ پرانے شہر میں نہ سڑکیں ٹھیک اورنہ ہی پانی کی سپلائی کا نظام صحیح ہے۔ اتناہی نہیں پرانے شہر میں صاف صفائی کا خیال نہیں رکھاجاتاہے۔
      اس سلسلہ میں جب نیوز18 اردو نے مقامی لوگوں سے بات چیت کی تولوگوں نے بتایاکہ عوامی نمائندوں کی عدم دلچسپی کی وجے سے پرانے شہر میں عوامی مسائل حل نہیں ہوپارہے ہیں۔ ایک میوہ فروش نے بتایاکہ پرانے شہر کی حالت اب بھی ویسی ہی ہے جیسے 20 سال پہلے تھی۔ ایک اورتاجرنے بتایا ہ پرانے شہرمیں یومیہ اجرت پرکام کرنے والے افراد کی بڑی تعداد ہے۔
      تصویر: اے ایم آئی ایم فیس بک
      bjp_hydتصویر: تلنگانہ کانگریس فیس بک
      سماجی کارکن پرسنا کمارنے نیوز18اردو کو بتایا کہ پرانے شہر کی پسماندگی کا اندازاس بات سے لگایاجاسکتاہے اب تک پرانے شہر میں حیدرآبادمیٹروریل کی خدمات شروع نہیں کی گئی ہے۔پرسنا کمارکاکہناہے کہ پرانے شہرکے عوام کو صرف ای وی ایم کی طرح ووٹ لینے کے لیے استعمال کیاگیاہے۔واضح رہے کہ وزیراعظم نریندرمودی نے بھی پرانے شہرکے میٹروریل پروجیکٹ کے تعمیری کاموں میں تاخیرپرمنتخبہ نمائندوں کوہی ذمہ دارقراردیاتھا۔
      مقامی لوگوں نے بتایاکہ مجلس اتحادالسملمین کے ارکان اسمبلی کسی بھی مشکل وقت میں عوام کے درمیان ہوتےہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عوام مجلس اتحادالمسلمین پربھروسہ کرتے ہیں۔سینئرصحافی میرہادی علی نے نیوز18 اردو کوبتایاکہ مجلس اتحادالمسلمین کے ارکان اسمبلی بھی غربت کے خاتمہ اور ناخواندگی پرقابوپانے کے لیے سنجیدہ کوشش کررہے ہیں۔
      گزشتہ ساڑھے تین دہوں سے حیدرآباد لوک سبھا سیٹ پر مجلس اتحادالمسلمین کا قبصہ رہاہے۔ سال 1984 سے 2004 تک مجلس اتحادالمسلمین کے صدر سلطان صلاح الدین اویسی (سالار) اس حلقہ کی نمائندگی کرتے تھے۔ سال 2004 سے اس تاریخی سیٹ مجلس اتحادالمسلمین کے موجودہ صدراسدالدین اوسی کامیاب ہوتے آرہے ہیں۔اوراب چوتھی مرتبہ وہ اسی حلقے سے اپنی قسمت آزمارہےہیں۔
      گزشتہ عام انتخابات میں اسدالدین اویسی کوجملہ پانچ لاکھ تیرہ  ہزارووٹ حاصل ہوئے تھے۔بھگونت راؤ نے بھی 32فیصد یعنی تین لاکھ زائد سے ووٹ حاصل کیے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ بی جےپی نے انہیں ایک بارپھراسی سیٹ سے ٹکٹ دیاہے۔ وہیں دوسری جانب کانگریس کے امیدوار فیروزخان بھی اس سیٹ سے اپنی قسمت آزمارہےہیں۔ فیروزخان نے حالیہ اسمبلی انتخابات میں حلقہ اسمبلی نامپلی سے مقابلہ کیاتھا۔تاہم کامیاب نہیں ہوسکیں۔
      خواتین کے درمیان اسدالدین اویسی
      انتخابی تشہیرمیں مصروف اسدالدین اویسی کواس بات کا یقین ہے کہ وہ ایک بارپھرحیدرآبادلوک سبھاسیٹ سے جیت کاپرچم لرائیں گے۔ اویسی نے کہاکہ پرانے شہرکے عوام مجلس اتحادالمسلمین پربھروسہ کرتے ہیں اورپارٹی عوامی مسائل حل کرانے میں اہم رول ادا کرتی ہے۔

      نیوز18اردو کے لیے پی وی رمنا کی رپورٹ ۔۔۔۔۔
      First published: