ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

نظام حیدرآباد کے لواحقین کی بے مثال انسانیت دوستی، کووڈ۔19مریضوں کی مددکے لیےنایاب ونادرپینٹنگزکی نیلامی

زہرا تجارت پیشہ خاتون اور فیشن ڈیزائنر بھی ہیں۔ وہ کینسر کے مریضوں کی فلاح و بہبود کے لئے کام کررہی ہیں اور جب سے عالمی وبا کورونا وائرس (Covid-19) شروع ہوا، تبھی سے کووڈ۔19 مریضوں اور لاک ڈاؤن سے متاثر لوگوں پر توجہ مرکوزکررہی ہے۔

  • Share this:
نظام حیدرآباد کے لواحقین کی بے مثال انسانیت دوستی، کووڈ۔19مریضوں کی مددکے لیےنایاب ونادرپینٹنگزکی نیلامی
پینٹنگز کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقم کو زہرہ نے مختلف ہسپتالوں اور رفاہی تنظیموں میں تقسیم کیا ہے۔ جو کووڈ۔19 مریضوں اور غریبوں کے لئے مصروف کار ہیں۔ وہ اب تک تقریباً4 لاکھ روپے کی امداد کرچکی ہیں۔

سابق مملکت آصفیہ یعنی حیدرآباد دکن کے آخری حکمراں نواب میر عثمان علی خان آصف سابع (Mir Osman Ali Khan, Nizam VII) کی پڑ پوتی زہرہ مرزا (Zehra Mirza) نے غریب لوگوں اور کووڈ۔19 مریضوں کی مدد کے لئے اپنے آرٹ کلیکشن کو فروخت کردیا ہے۔


زہرہ مرزا خود بھی نہایت اعلی درجہ کی فنکارہ ہیں۔ زہرہ حیدرآباد دکن کے آخری حکمراں نواب میر عثمان علی خان آصف سابع کے دوسرے فرزند نواب معظم جاہ (Nawab Moazzam Jah) کے پوتے نواب حمایت علی مرزا (Nawab Himayat Ali Mirza) کی دخترہیں۔


پینٹنگز کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقم کو زہرہ نے مختلف ہسپتالوں اور رفاہی تنظیموں میں تقسیم کیا ہے۔ جو کووڈ۔19 مریضوں اور غریبوں کے لئے مصروف کار ہیں۔ وہ اب تک تقریباً4 لاکھ روپے کی امداد کرچکی ہیں۔


زہرہ شہزادی نیلوفر(Princess Niloufer) کی پڑ پوتی ہیں۔ ماضی میں شہزادی نیلوفر نے اپنے نام سے بچوں اور حاملہ خواتین کے بہتر علاج و معالجہ کے لیے ’’نیلوفر ہسپتال‘‘ (Niloufer Hospital) قائم کیا تھا۔ جہاں آج بھی یہ سلسلہ جاری ہے اور لاکھوں لوگ اس سے مستفید ہورہے ہیں۔

  • شہزادہ معظم جاہ چیریٹی آرگنائزیشن:


زہرا تجارت پیشہ خاتون اور فیشن ڈیزائنر بھی ہیں۔ وہ کینسر کے مریضوں کی فلاح و بہبود کے لئے کام کر رہی ہیں اور جب سے عالمی وبا کورونا وائرس (Covid-19) شروع ہوا، تبھی سے کووڈ۔19 مریضوں اور لاک ڈاؤن سے متاثر لوگوں پر توجہ مرکوز کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب وہ مجوزہ شہزادہ معظم جاہ چیریٹی آرگنائزیشن (Prince Moazzam Jah charity organization) کے ذریعہ اپنے فلاحی کاموں کو منظم طور پر انجام دے گی۔

انہوں نے بتایا کہ ’’میں دل کی گہرائیوں سے چیارٹی کا کام کر رہی ہوں۔ اس مہلک وبا نے شعور پیدا کیا ہے کہ مدد کی ہمیشہ ضرورت ہے۔ اب لوگوں کو پہلے سے کہیں زیادہ مدد کی ضرورت ہے۔ کئی ایسے لوگ ہیں؛ جو کووڈ۔19 سے دوچار ہیں، لیکن انھیں وسائل دستیاب نہیں ہیں۔ میرا فرض ہے کہ میں ان کی ہر طرح سے مدد کروں، خواہ ان کے لیے کھانا تقسیم کروں یا فنڈز کا عطیہ کیا جائے‘‘۔

زہرہ مرزا خود بھی نہایت اعلی درجہ کی فنکارہ ہیں۔
زہرہ مرزا خود بھی نہایت اعلی درجہ کی فنکارہ ہیں۔


زہرہ دی زہرہ مرزا گیلری (The Zehra Mirza gallery) کی بانی ہیں۔ انھوں نے اس مشکل ترین اور غیرمتوقع حالات میں اپنے تمام فن پارے فروخت کے لئے رکھے ہیں اور فروخت کے بعد حاصل ہونے والی آمدنی سے رفاہی کام انجام دے رہی ہیں۔

  • نظام حیدرآباد اور لوگوں کی مدد؛ ایک سکے کے دو رخ:


تاریخ پر نظر ڈالنے سے پتہ چلتا ہے کہ سابق مملکت آصفیہ یعنی حیدرآباد دکن کے آخری حکمراں نواب میر عثمان علی خان آصف سابع (Mir Osman Ali Khan, Nizam VII) نے بھی عوام کی فلاح و بہبود کے لیے کئی خدمات انجام دیں۔ اس ضمن میں ساتویں نظام کے پڑ پوترے نواب نجف علی خان (Nawab Najaf Ali Khan) نے نیوز 18 اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’’نظام حیدرآباد اور لوگوں کی مدد گویا ایک سکے کے دو رخ ہیں۔ نظام ہشتم ایک بے مثال اور عوام دوست حکمران تھے جنھوں نے مذہب اور ذات پات کی تفریق کے بغیر عوام کو جدید سہولیات فراہم کی‘‘۔

  • ماضی میں شعبہ صحت پر خصوصی توجہ:


نواب نجف علی خان نے بتایا کہ ’’نواب میر عثمان علی خان آصف سابع نے اپنے دور میں عوام کی صحت پر خاص توجہ دی اور ان کے لیے بہتر طبی سہولیات کے فراہمی کے لیے ہمہ وقت مصروف کار رہے۔ یہی وجہ ہے کہ شعبہ صحت سے متعلق ان کی نمایاں خدمات آج بھی قابل ذکر ہیں‘‘۔

انہوں نے بتایا کہ’’ماضی میں حیدرآباد میں ایک وباء پھیلی تھی۔ اس وباء سے متاثر ہونے والے مریضوں کے لیے نواب میر عثمان علی خان آصف سابع نے عثمانیہ جنرل ہسپتال کی تعمیر کروائی۔ اس کے علاوہ یونانی ہسپتال، فیور ہسپتال (جو کورنٹی دواخانہ کے نام سے مشہور ہے)، نظام ارتھو پیڈیک اسپتال (این ائی ایم ایس) اور نیلوفر ہسپتال ان کے دور کے اہم کارنامے ہیں‘‘۔
Published by: Mohammad Rahman Pasha
First published: Jun 03, 2021 03:46 PM IST