حیدرآباد میں کشیدگی، پولیس نے یکخانہ مسجد شہادت کےخلاف احتجاج کرنےوالے نوجوانوں کوحراست میں لےلیا

رمضان کے مقدس اورمبارک مہینے میں مسلم نوجوانوں کی گرفتاری سےعلاقے میں کشیدگی کا ماحول ہے۔

May 12, 2019 10:57 PM IST | Updated on: May 12, 2019 11:12 PM IST
حیدرآباد میں کشیدگی، پولیس نے یکخانہ مسجد شہادت کےخلاف احتجاج کرنےوالے نوجوانوں کوحراست میں لےلیا

حیدرآباد پولیس نےمسلم نوجوانوں کے ساتھ سختی کا مظاہرہ کرتے ہوئے حراست میں لےلیا۔

حیدرآباد: حیدرآباد پولیس نےعنبرپیٹ علاقہ میں یکخانہ مسجد کی شہادت پراحتجاج کرنے والے کم ازکم 10 نوجوانوں کوحراست میں لےلیا ہے۔ پولیس نے ان نوجوانوں کواس وقت حراست میں لے لیا، جب وہ آج دوپہرظہرنمازادا کرنے کےلئے شہید یکخانہ مسجد کی جگہ پر بطوراحتجاج پہنچے تھے۔ اس موقع پرمسلم نوجوانوں نے نمازادا کرنے کی کوشش کی، لیکن پولیس نے نمازنہیں ادا کرنے دی اورانہیں گرفتارکرلیا۔

رمضان المبارک میں مسلم نوجوانوں کی گرفتاری سےعلاقے میں کشیدگی کا ماحول ہے۔ بتایا جارہا ہے کہ احتجاج کرنے والوں کوپولیس نے پہلے خاموش کرنےکی کوشش کی، لیکن جب مسلمان مسجد شہید کئے جانےکے خلاف احتجاج کرتے رہے، توپھرپولیس نےسخت رویہ اپنا لیا۔ ٹاسک فورس کی ٹیموں نے انہیں پولیس وین میں باندھ دیا اورانہیں نامعلوم مقام پرمنتقل کر دیا۔ اطلاعات کے مطابق گرفتارکئےگئے لوگوں کی تعداد میں اضافہ ہوگیا ہے۔

Loading...

بتایا جاتا ہے کہ اس شہید مسجد کےلئے درسگاہ جہاد وشہادت کی جانب سے نمازادا کرنے کا اعلان کیا گیا تھا، جس کےبعد آج صبح سےعنبرپیٹ علاقے میں سیکورٹی بڑھا دی گئی تھی۔ درسگاہ جہاد شہادت اوروحدت اسلامی کے صدرمولانا نصیرالدین سمیت کارکنان کو پولیس نے حراست میں لیا ہے۔ اس درمیان شہرکے پولیس کے اعلیٰ افسران بھی اس معاملے پرنظر رکھنےکےلئےعلاقہ میں ڈیرہ ڈالے ہوئے ہیں۔ پولیس نےعلاقے میں گشت بھی تیزکردی ہے۔

واضح رہےکہ عنبرپیٹ میں واقع تاریخی یکخانہ مسجد کوسڑک کی توسیع کے نام پرگریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کےعملے کی جانب سے شہید کر دیا گیا تھا۔ مسجد کی شہادت کے خلاف مسلمانوں نے شدید احتجاج کیا تھا، جس کے بعد صدرنشین وقف بورڈ نے مسجد کی تعمیرکی یقین دہانی کرائی ہے۔ ماہ رمضان المبارک کی آمد کےپیش نظر مقامی افراد کی جانب سے مسجد کی دوبارہ تعمیرکےلئےعارضی چھت ڈالنے کی کوشش ہوئی تھی، اس کی اطلاع  پاتے ہی اکثریتی فرقےکےافراد برہم ہوگئے۔ نوجوانوں کی بڑی تعداد نے وہاں پہنچ کراحتجاج کیا اورمسجد کی تعمیرمیں رکاوٹ پیدا کرنےکی کوشش کی۔ جس کے بعد حالات کشیدہ ہوگئے تھے۔

اس سے قبل دونوں فرقوں کےنوجوانوں کی کثیر تعداد جمع ہوگئی تھی۔ اقلیتی اوراکثریتی فرقےکےافراد کی جانب سے ایک دوسرے پرپتھربازی کا تبادلہ عمل میں آیا۔ سنگ باری میں پولیس انسپکٹر کے علاوہ بعض مقامی افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ ہجوم کو منتشرکرنے کے لئے پولیس نے لاٹھی چارج کیا تھا۔ اس  درمیان حیدرآباد میں بی جے پی رکن اسمبلی راجا سنگھ نے بھی زہرافشانی کی تھی۔ انہوں نے ٹویٹرپرایک ویڈیو پیغام میں تلنگانہ حکومت اورحیدرآباد پولیس کو وارننگ دی تھی کہ اگرعنبرپیٹ میں یکخانہ مسجد دوبارہ تعمیرکی جاتی ہے، تووہ اسے گرانا بھی جانتے ہیں۔ دراصل حیدرآباد پولیس نے راجا سنگھ کو گرفتارکرلیا تھا۔ پولیس حراست سے رہا ہونےکےبعد راجا سنگھ نے یہ بیان دیا تھا۔

Loading...