چندرایان 2 :وکرم لینڈر سے رابطہ ٹوٹنے سے نہیں ہوئی ختم امیدیں:سائنسداں ڈاکٹرایس ایم احمد

حیدرآباد سینٹرل یونیورسٹی سے وابستہ سائنسداں ایس ایم احمد کا کہناہے کہ اب بھی اسرو کی امیدیں باقی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس مشن کے ذریعہ چاند کے جنوبی قطب علاقہ کی جغرافیائی معلومات،علم معدنیات،اس کی سطح پر کیمیائی ساخت،چاند کے اصل اور ارتقا کا پتہ چلانے میں مدد ملے گی۔

Sep 07, 2019 04:48 AM IST | Updated on: Sep 07, 2019 04:48 AM IST
چندرایان 2 :وکرم لینڈر سے رابطہ ٹوٹنے سے نہیں ہوئی ختم امیدیں:سائنسداں ڈاکٹرایس ایم احمد

اسرو کا مشن چندریان -2

ہندوستان نے چاند کے جنوب قطب علاقہ سے متعلق کھوج کے ایک نئے اور اہم سنگ میل کوعبورکرلیاہے تاہم اسی دوران وکرم لینڈر سے رابطہ سے اسرو کا رابطہ ٹوٹ گیاہے۔چاند کی سطح سے 2.1 کلومیٹرکی دوری پرلینڈروکرم سے رابطہ ٹوٹ گیاہے۔تاہم سائنسدانوں کا کہناہے کہ لینڈروکرم کسے کبھی بھی رابطہ دوبارہ جڑسکتاہے۔ حیدرآباد سینٹرل یونیورسٹی سے وابستہ سائنسداں ایس ایم احمد کا کہناہے کہ اب بھی اسرو کی امیدیں باقی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس مشن کے ذریعہ چاند کے جنوبی قطب علاقہ کی جغرافیائی معلومات،علم معدنیات،اس کی سطح پر کیمیائی ساخت،چاند کے اصل اور ارتقا کا پتہ چلانے میں مدد ملے گی۔

حیدرآباد سینٹرل یونیورسٹی سے وابستہ سائنسداں ایس ایم احمد کا کہناہے کہ اب بھی اسرو کی امیدیں باقی ہے۔(تصویر:نیوز18)۔ حیدرآباد سینٹرل یونیورسٹی سے وابستہ سائنسداں ایس ایم احمد کا کہناہے کہ اب بھی اسرو کی امیدیں باقی ہے۔(تصویر:نیوز18)۔

Loading...

ایس ایم احمد کا کہناہے کہ ’وکرم لینڈر نے منصوبے کے مطابق لینڈنگ ہورہی تھی اور چاند کی سطح سے 2.1 کلومیٹر دور سب کچھ معمول پر تھا۔ لیکن اس کے بعد اس سے رابطہ ختم ٹوٹ گیاہے اوراب اسروکی جانب سےاعداد و شمار کا جائزہ لیا جائے گا۔ ہم آپ کو بتادیں کہ ایس ایم احمد خود بھی چندرایان 1 کے لیے کام کرچکے ہیں۔ ایس ایم احمد اس وقت حیدرآباد سینٹرل یونیورسٹی میں سینٹرل انسٹورمینٹس لیبارٹری کے صدرشعبہ ہے۔ نیوز18 اردو سے فون پر بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ چندریان 1 2008 میں چاند کی سطح پر اترنے میں ناکام رہا تھا لیکن اس نے ریڈار کی مدد سے چاند پرپانی کی موجودگی کی پہلی اور سب سے تفصیلی روانہ کی تھی۔جبکہ 'چندریان 2' چاند کے تحت چاند کی سطح پر توجہ مرکوز کی جائے گی اور دوسری چیزوں کے ساتھ وہاں پانی اور معدنیات کی تلاش کی جائے گی جبکہ چاند پر آنے والے زلزلے کے بارے میں بھی تحقیق کی جائے گی۔

Loading...