உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    اخبار فروش لڑکیوں کا بےمثال عزم و ادارہ، کووڈ۔19کے دوران والد کی مدد، گاہگوں کا جانب سے زبردست پذیرائی

    دونوں مستقبل میں پولیس افسر بننے کی خواہش رکھتے ہیں۔

    دونوں مستقبل میں پولیس افسر بننے کی خواہش رکھتے ہیں۔

    پرمیلا اور پاویتھرا کی لگن کو دیکھ کر رام داس نائک 3 مہینے پہلے لڑکیوں کے لیے ایک دو پہیہ گاڑی لے کر آئے۔ رام داس نائک نے کہا کہ اب دونوں لڑکیاں 300 سے زیادہ اخبارات قارئین کی دہلیز پر پہنچا رہی ہیں۔

    • Share this:
    حیدرآباد کے موتی نگر کی 15 سل کی پرمیلا (Prameela) اور 13 سال کی پاویترا (Pavithra) لڑکیوں اور ان کے والدین کے لیے امید اور تحریک کی چمکتی ہوئی کرن بن گئی ہیں۔ دونوں لڑکیاں شہر کے موتی نگر علاقے میں اخبار پہنچانے والوں کے طور پر کام کرتی ہیں۔ وہ صبح 5 بجے اٹھتے ہیں اور موتی نگر میں صبح 8 بجے تک اخبار پہنچاتے ہیں اور پھر وہ بالترتیب کالج اور اسکول کے لیے روانہ ہوتی ہیں۔ پرمیلا انٹرمیڈیٹ کے پہلے سال میں پڑھ رہی ہے اور پاویترا دسویں جماعت میں زیرتعلیم ہیں۔

    جب نیوز 18 نے پرمیلا کے والد پاویتھرا رام داس نائک (Pavithra Ram Das Nayak) سے رابطہ کیا، تو انہوں نے کہا کہ پچھلے سال لاک ڈاؤن کے دوران انہیں ایسے نوجوانوں کو تلاش کرنے میں مشکل پیش آئی جنہوں نے اخبار کے ڈیلیوری بوائز کے طور پر کام کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ اس کے بعد انہوں نے خود ہی اخبارات پہنچانا شروع کر دیا، اسی دوران ان کی نے بھی ان کی مدد کی، جو ڈیلیوری گرلز کے طور پر کام کرنے کے طور پر مشہور ہوئیں۔

    قارئین کی دہلیز تک اخبارات پہنچانے میں مصروف:

    پرمیلا اور پاویتھرا کی لگن کو دیکھ کر رام داس نائک 3 مہینے پہلے لڑکیوں کے لیے ایک دو پہیہ گاڑی لے کر آئے۔ رام داس نائک نے کہا کہ اب دونوں لڑکیاں 300 سے زیادہ اخبارات قارئین کی دہلیز پر پہنچاتی ہیں۔

    نیوز 18 سے بات کرتے ہوئے پرمیلا اور پاویتھرا دونوں کا کہنا ہے کہ وہ دونوں مستقبل میں پولیس افسر بننے کی خواہش رکھتے ہیں۔ پرمیلا نے بتایا کہ ’’جب وہ اسکول جاتی تھیں تو وہ اپنے والد کو اخبارات پہنچاتے ہوئے دیکھتی تھیں۔ لاک ڈاؤن کے دوران، میرے والد مشکل میں پڑ گئے کیونکہ انہیں ڈیلیوری بوائے نہیں مل رہے تھے، پھر انہوں نے پراویتھرا اور مجھ سے اخبار پہنچانے کو کہا، تب ہی سے ہم نے ان کا ساتھ دینا شروع کیا۔ ہم دونوں بہنیں اس کام کو کرتے ہوئے بہت پرجوش ہیں‘‘

    گاہکوں کی جانب سے حوصلہ افزائی:

    ایک سوال کے جواب میں پرمیلا نے کہا کہ لوگوں کا ردعمل ان کی حوصلہ افزائی کرتا ہے کیونکہ ان کے گاہک ان کے ساتھ اپنے بچوں جیسا سلوک کرتے ہیں۔ پرویتھرا شیئر کرتی ہے کہ گاہک تہواروں کے موقع پر اضافی پیسے اور مٹھائیاں بھی دیتے ہیں۔

    پاویترا نے کہا کہ لڑکیوں کو خود انحصاری کے لیے کسی بھی کام کے لیے آگے آنا چاہیے۔ ’’ہم لڑکوں کی طرح ہیں؛ خود مختار بننے کے لیے کوئی بھی کام کیا جا سکتا ہے‘‘۔

    صبح 5:30 بجے سے کام شروع:

    پرمیلا کہتی ہیں کہ لڑکیاں ہر صبح 5:30 بجے کام شروع کرتی ہیں، وہ متعلقہ ایجنٹ سے اخبارات لاتی ہیں اور مرکزی ایڈیشن کو ضلعی ایڈیشن کے ساتھ ضم کر دیتی ہیں۔ پھر وہ تمام اخبارات گاڑیوں پر ڈالتے ہیں اور پھر ہر گھر کا دورہ کرتے ہیں اور اپنے قارئین تک کاغذات پہنچاتے ہیں۔

    پرمیلا نے کہا کہ ’’جب بھی ہم گاہکوں تک اخبار پہنچاتے ہیں۔ ان میں سے کئی گاہک ہم سے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہیں۔ ایک بار ایک گاہک نے کہا کہ آپ اے پی جے ابوالکلام کی طرح چمکیں گے۔ یہ ہمارے لیے قابل فخر لمحہ تھا‘‘۔

    رام داس نائک کا کہنا ہے کہ لڑکیاں اخبار کے کاروبار سے 10,000 روپے کماتی ہیں۔ یہ خاندان کرائے کے مکان میں رہتا ہے اور نائک اپنی بیٹیوں کو معیاری تعلیم فراہم کرنا چاہتا ہے۔ انہوں نے این جی اوز اور حکومتی حکام سے بھی مدد کی درخواست کی۔
    Published by:Mohammad Rahman Pasha
    First published: