ہوم » نیوز » جنوبی ہندوستان

پاکستان میں 2سال قیدکےبعد حیدرآبادی انجینئر پرشانت واپس،پاکستانی جیل کیاگیا بہترسلوک

پرشانت نے ایمیگریشن عہدیداروں کو بتایا کہ وہ ایک لڑکی کے عشق میں گرفتار ہے جس سے فیس بک پر دوستی ہوئی ہے۔ بعد میں لڑکی سوئزر لینڈ منتقل ہوگئی جس کے بعد پرشانت ذہنی اذیت میں مبتلاء ہوگیا۔ بتایا جاتا ہے کہ پرشانت نے سوئزر لینڈ کیلئے آسان پیدل راستہ کے طور پر پاکستان ، ایران اور ترکی کے ذریعہ یورپ میں داخلہ کا منصوبہ بنایا۔

  • Siasat
  • Last Updated: Jun 02, 2021 08:07 AM IST
  • Share this:
پاکستان میں 2سال قیدکےبعد حیدرآبادی انجینئر پرشانت واپس،پاکستانی جیل کیاگیا بہترسلوک
کمشنر پولیس سائبرآباد وی سی سجنار نے پرشانت کو میڈیا کے روبرو پیش کیا اور گھر والوں کے حوالے کیا گیا۔

حیدرآباد:حیدرآباد سے تعلق رکھنے والے سافٹ ویر انجینئر پرشانت ویندم کو 4 سال کے بعد پاکستان نے جیل سے رہا کردیا اور ہندوستانی حکام نے اسے حیدرآباد میں والدین کے حوالے کردیا۔ غیر قانونی طور پر پاکستانی سرحد عبور کرنے پر پرشانت کو گرفتار کیا گیا تھا۔ چار سال تک جیل میں گذارنے کے بعد پاکستانی رینجرس نے پیر کے دن اٹاری ۔ واگھا مشترکہ چیک پوسٹ پر بی ایس ایف حکام کے حوالہ کیا۔ پرشانت کا تعلق وشاکھا پٹنم سے ہے اور وہ حیدرآباد کی ایک سافٹ ویر کمپنی میں کمپیوٹر انجینئر کی حیثیت سے ملازمت کررہا تھا۔ اپریل 2017 میں وہ لاپتہ ہوگیا۔ 30 ماہ گذرنے کے بعد پرشانت کے گھر والوں کو ٹی وی چینلس کے ذریعہ اطلاع ملی کہ اسے پاکستان میں گرفتار کیا گیاہے۔ گھر والوں نے تلنگانہ پولیس کے اعلیٰ عہدیداروں سے ملاقات کرتے ہوئے رہائی کیلئے تعاون کی اپیل کی۔



پرشانت نے ایمیگریشن عہدیداروں کو بتایا کہ وہ ایک لڑکی کے عشق میں گرفتار ہے جس سے فیس بک پر دوستی ہوئی ہے۔ بعد میں لڑکی سوئزر لینڈ منتقل ہوگئی جس کے بعد پرشانت ذہنی اذیت میں مبتلاء ہوگیا۔ بتایا جاتا ہے کہ پرشانت نے سوئزر لینڈ کیلئے آسان پیدل راستہ کے طور پر پاکستان ، ایران اور ترکی کے ذریعہ یورپ میں داخلہ کا منصوبہ بنایا۔ پاکستانی حکام نے بہاول پور میں اسے گرفتار کرلیا تھا۔ کمشنر پولیس سائبرآباد وی سی سجنار نے توثیق کی ہے کہ پاکستانی حکام نے پرشانت کو ہندوستانی حکام کے حوالے کیا ہے۔ اسی دوران کمشنر پولیس سائبرآباد وی سی سجنار نے پرشانت کو میڈیا کے روبرو پیش کیا اور گھر والوں کے حوالے کیا گیا۔ کمشنر پولیس نے بتایا کہ 11 اپریل کو پرشانت بذریعہ ریل راجستھان کے بیکانیر روانہ ہوا اور وہاں ایک دن قیام کے بعد پاکستان کی سرحد پر موجود فینسنگ پھلانگ کر پاکستانی علاقہ میں داخل ہوگیا۔ پاکستانی فورسیس نے اسے حراست میں لے لیا۔

ویزا اور پاسپورٹ نہ ہونے کے سبب اس پر مقدمہ درج کیا گیا اور جیل بھیج دیا گیا۔ سزا کی تکمیل کے بعد اسے رہائی ملی۔ کمشنر پولیس نے پرشانت کی رہائی میں تعاون کیلئے مرکزی و ریاستی حکومت سے اظہار تشکر کیا۔ اس موقع پر میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے پرشانت نے تلنگانہ اور مرکزی حکومت سے اظہار تشکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک میں اچھے اور برے لوگ موجود ہیں ۔ پاکستان کی جیل میں سافٹ ویر انجینئرنگ کی کتابیں پڑھنے کا موقع ملا۔ اس کے علاوہ اس نے ہندی سیکھ لی۔ اس نے بتایا کہ پاکستانی جیل میں ہندوستانیوں سے کام لیا جاتا ہے۔ ہندوستانیوں کیلئے علحدہ گوشہ متعین ہے۔ اس نے کہا کہ ماں باپ کی بات نہ ماننے کے نتیجہ میں اس تکلیف سے گذرنا پڑا۔ پرشانت کو والدہ نے روکنے کی کوشش کی تھی لیکن وہ عاشقی کی دھن میں پاکستان کے ذریعہ سوئزر لینڈ روانہ ہونا چاہتا تھا۔
Published by: Mirzaghani Baig
First published: Jun 02, 2021 08:07 AM IST