ہوم » نیوز » وطن نامہ

حیدرآباد اجتماعی آبروریزی اورقتل معاملہ: ملزم کی ماں بولیں- میرے بیٹے کوبھی زندہ جلا دو

حیدرآباد میں خاتون ویٹرنری ڈاکٹرسےآبروریزی اورقتل کےملزم سی چنا کیشاولوکی ماں نےبتایا کہ ہم نےپانچ ماہ پہلےاس کی پسند کی لڑکی سےاس کی شادی کرائی تھی۔ انہوں نےکہا 'اگراس نے یہ جرم کیا ہےتواسےبھی پھانسی کی سزادے دویا آگ لگا دو'۔

  • Share this:
حیدرآباد اجتماعی آبروریزی اورقتل معاملہ: ملزم کی ماں بولیں- میرے بیٹے کوبھی زندہ جلا دو
حیدرآباد میں ہفتہ کو بڑی تعداد میں لوگوں نےاس تھانے کے باہراحتجاج کیا، جہاں آبروریزی اور قتل کے ملزمین کو رکھا گیا ہے۔

حیدرآباد: تلنگانہ کی راجدھانی حیدرآباد میں خاتون ویٹرنری ڈاکٹرسے اجتماعی آبروریزی کے بعد قتل اورپھرلاش کوجلا دینےکےحادثہ نے ملک کوہلا کررکھ دیا ہے۔ ہرطرف لوگ ملزمین کوفوراً سرعام سزا دینےکا مطالبہ کررہے ہیں۔ اس درمیان چاروں ملزمین کےاہل خانہ نےکہا ہےکہ اگراس نےایسا گھناؤنا جرم کیا ہےتوپھرانہیں فوراً پھانسی کی سزا دے دینی چاہئے یا اسے زندہ جلا دیا جائے۔


 زندہ جلا دو


حادثہ کےایک ملزم سی چنا کیشاولوکی ماں شیاملا نےانگریزی اخبار'ٹائمس آف انڈیا' سے بات چیت میں کہا 'اسے بھی پھانسی کی سزا دے دویا آگ لگا دو، جیسا کہ اس نے خاتون ڈاکٹر کے ساتھ آبروریزی کے بعد کیا'۔ ملزم کی ماں نے یہ بھی کہا کہ وہ اس فیملی کے درد کو سمجھ سکتی ہیں'۔ انہوں نےکہا کہ 'مجھے بھی ایک بیٹی ہےاورمیں اس فیملی کے درد کو سمجھ سکتی ہوں کہ اس فیملی کےساتھ اس وقت کیا گزررہی ہوگی۔ اگرمیں اپنے بیٹےکا بچاؤ کروں گی توپوری زندگی لوگ مجھ سے نفرت کریں گے'۔


پانچ ماہ پہلے ہوئی تھی شادی

شیاملا نےبتایا کہ جمعرات کی صبح جب پولیس والے ان کے بیٹےکوپوچھ گچھ کے لئے لے گئےتوان کےشوہرپریشان ہوکرگھرسے باہرچلےگئے تھے۔ ملزم کی ماں نے یہ بھی بتایا کہ چنا کیشاولوکی شادی پانچ ماہ پہلے ہی ہوئی تھی۔ انہوں نےکہا 'اس کی پسند کی لڑکی سے ہم نے شادی کرائی۔ میرے بیٹےکوکڈنی(گردے) کی بیماری ہے،  لہٰذا ہم نےکبھی بھی اس پر دباؤنہیں ڈالا۔ ہر6 ماہ کے بعد ہم لوگ اس کواسپتال لےکرجاتے تھے'۔

ملزمین 14 دنوں کی عدالتی حراست میں

اس درمیان عدالت نے چاروں ملزمین کو 14 دن کی عدالتی حراست میں بھیج دیا ہے۔ ناراض لوگوں کےاحتجاجی مظاہرے کے سبب پولیس ملزمین کوعدالت نہیں لے جا پارہی تھی۔ اس وجہ سے ملزمین کی پولیس اسٹیشن سے ہی ویڈیوکانفرنسنگ کےذریعہ مجسٹریٹ کے سامنے پیشی کرائی گئی۔
First published: Dec 01, 2019 01:58 PM IST