உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Molnupiravir دوا حمل میں نشونما پارہے بچے پر ڈال سکتی ہے برا اثر، ICMR چیف نے ظاہر کی تشویش

    Molnupiravir دوا حمل  میں نشونما پارہے بچے پر ڈال سکتی ہے برا اثر

    Molnupiravir دوا حمل میں نشونما پارہے بچے پر ڈال سکتی ہے برا اثر

    ڈاکٹر بلرام بھارگو نے کہا کہ انہی وجوہات کے سبب اس دوا کو اب تک نیشنل ٹریٹمنٹ پروٹوکال میں شامل نہیں کیا گیا ہے۔ عالمی ادارہ صحت اور یونائٹیڈ کنگ ڈم نے بھی نیشنل ٹریٹمنٹ گائیڈلائنس میں اس دوا کو شامل نہیں کیا ہے۔ امریکہ میں اس ڈرگ کو 1433 مریضوں کو ٹسٹ کے بعد منظوری دی گئی ہے۔

    • Share this:
      نئی دہلی: کورونا وبا (Corona Pandemic) کے علاج میں استعمال کی جانے والی پہلی اورل اینٹی کوویڈ-19 ڈرگ مولنوپیراور (Molnupiravir) کو لے کر آئی سی ایم آر کے چیف نے تشویش ظاہر کی ہے۔ انڈین کونسل آف میڈیکل ریسرچ (ICMR) کے ہیڈ ڈاکٹر بلرام بھارگو نے کہا ہے کہ اس دوا کی سیفٹی کے بارے میں تشویش ظاہر کی گئی ہے۔ اس ڈرگ کو دسمبر کے آخری ہفتہ میں ڈرگس کنٹرولر جنرل آف انڈیا نے ایمرجنسی استعمال کے لئے منظوری دی تھی۔ ہندوستان میں اس دوا کا پروڈکشن سپلا، سن فارما اور ڈاکٹر ریڈی لیباریٹری کررہی ہے۔ اس دوا کو امریکہ میں واقع بائیوٹیکنالوجی کمپنی رِڈزبیک بائیوتھیراپک اور اومیکرون فارما میرک نے مل کر تیار کیا ہے۔

      ہفتہ واری پریس کانفرنس کے دوران آئی سی ایم آر کے ڈی جی بلرام بھارگو نے کہا کہ، یہ دوا ٹیراٹوجینیسیٹی اور میوٹیجینوسٹی کی وجہ بن سکتی ہے۔ ٹیراٹوجینیسیٹی کا مطلب ہے کہ جب یہ دوا کوئی حاملہ خاتون استعمال کرتی ہے تو اس دوا کے اثر سے حمل میں پل رہے بچے کی نشونما میں مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔ وہیں میوٹیجینوسٹی کا مطلب جینیٹک مٹیرئیل میں ہونے والے تبدیلیوں سے ہے۔

      خواتین اور مردوں دونوں کے لئے دوا لینے کے بعد 3 مہینے تک انسداد حمل اقدامات کرنا چاہیے کیونکہ ٹیراٹوجینیک دوا کے اثر سے پیدا ہوا بچہ مسائل کا شکار ہوسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ دوا پٹھوں اور کارٹلیج کو بھی نقصان پہنچا سکتی ہے۔

      ڈاکٹر بلرام بھارگو نے کہا کہ انہی وجوہات کے سبب اس دوا کو اب تک نیشنل ٹریٹمنٹ پروٹوکال میں شامل نہیں کیا گیا ہے۔ عالمی ادارہ صحت اور یونائٹیڈ کنگ ڈم نے بھی نیشنل ٹریٹمنٹ گائیڈلائنس میں اس دوا کو شامل نہیں کیا ہے۔ امریکہ میں اس ڈرگ کو 1433 مریضوں کو ٹسٹ کے بعد منظوری دی گئی ہے۔



      ڈاکٹر بلرام بھارگو نے کہا کہ اس دوا کے استعمال کو لے کر پینل میں تبادلہ خیال کیا گیا اور بات چیت اب بھی جاری ہے۔ اس دوا کو لے کر ہمارے اندیشے ہیں۔ دودھ پلانے کے وقت اس دوا کے استعمال سے بچوں میں سافٹ ٹشو انجری، پیدائش سے جڑے مسائل شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس امکان پر بھی غور کریں گے کہ اس دوا کو نیشنل ٹریٹمنٹ گائیڈلائنس میں شامل کیا جانا چاہیے۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: