ہوم » نیوز » جنوبی ہندوستان

آئی سی ایم آر کو بھارت بائیوٹیک کی کوویکسین کی فروخت سے ملی گی پانچ فیصد رائلٹی

ایک رپورٹ کے مطابق بھارت بائیوٹیک اور انڈین کونسل آف میڈیکل ریسرچ Indian Council of Medical Research کے مشترکہ طور پر تیار کردہ کوویکسین کے استعمال کو کنٹرول کرنے والی دانشورانہ جائیداد مشترکہ تھی اور اسی وجہ سے آئی سی ایم آر کو رائلٹی کی ادائیگی ملے گی۔

  • Share this:
آئی سی ایم آر کو بھارت بائیوٹیک کی کوویکسین کی فروخت سے ملی گی پانچ فیصد رائلٹی
علامتی تصویر

بھارت بائیوٹیک Bharat Biotech اپنی کووڈ 19 ویکسین کی خالص فروخت پر 5 فیصد کی رائلٹی انڈین کونسل آف میڈیکل ریسرچ (ICMR) کو ادا کرے گا۔ دی ہندو کی ایک رپورٹ کے مطابق بھارت بائیوٹیک اور انڈین کونسل آف میڈیکل ریسرچ Indian Council of Medical Research کے مشترکہ طور پر تیار کردہ کوویکسین کے استعمال کو کنٹرول کرنے والی دانشورانہ جائیداد مشترکہ تھی اور اسی وجہ سے آئی سی ایم آر کو رائلٹی کی ادائیگی ملے گی۔


دی ہندو کو ای میل کے جواب میں آئی سی ایم آر کے ڈائریکٹر جنرل بلرام بھارگوا نے لکھا کہ ’’پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ آئی سی ایم آر اور بی بی آئی ایل کے مابین باضابطہ مفاہمت کی یادداشت کے تحت عمل میں لائی گئی جس میں آئی سی ایم آر کے لیے خالص فروخت پر رائلٹی شق شامل ہے اور دیگر شقیں جیسے اندرون ملک سامان کی ترجیح پروڈکٹ کا آئی پی شیئر کیا جاتا ہے۔ اس بات پر بھی اتفاق ہے کہ ویکسین کے خانوں پر ICMR-National Institute of Virology (NIV) کا نام چھاپا جائے گا۔ اب ایسا ہی کیا جا رہا ہے‘‘۔


علامتی تصویر
علامتی تصویر


اس اقدام نے ادائیگی کی ضرورت ، ششماہی بنیاد پر کیا جانا اور حساب کی بنیاد پر سوالات اٹھائے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ادائیگی ویکسین کی لاگت کی عکاسی کرتی ہے اور اس وجہ سے اس کی قیمت پر اثر پڑے گا۔
جونیئر ہیلتھ منسٹر بھارتی پروین پوار نے پارلیمنٹ کو بتایا کہ رائلٹی کی شق کووایکسین کی ترقی کے لیے دونوں فریقوں (بھارت بائیوٹیک اور) کے مابین کیے گئے ایم او یو کے تحت چلتی ہے۔

ویب سائٹ کے مطابق ویکسینیشن 16 جنوری کو شروع کی گئی تھی، اب تک مجموعی طور پر 45 کروڑ حفاظتی ٹیکوں میں کووایکسین کی 5 کروڑ سے زائد خوراکیں دی گئی ہیں۔ مئی میں دائر کردہ حلف نامے کے مطابق حکومت نے کووایکسین کے لیے پری کلینیکل اسٹڈیز میں سرمایہ کاری کی تھی اور اس کے کلینیکل ٹرائلز پر 35 کروڑ روپے خرچ کیے گئے تھے۔

امیکس کے پرنسپل وکیل مرلی نیلکانتن نے ٹائمز آف انڈیا کے ساتھ خصوصی گفتگو میں کہا کہ حکومت کو بھارت بائیوٹیک کی سرمایہ کاری کی بھی تصدیق کرنی چاہیے۔ اگر آئی سی ایم آر کو 35 کروڑ روپے کی فنڈنگ ​​پر 5 فیصد رائلٹی ملتی ہے تو کیا حکومت اس بات کی تصدیق کر سکتی ہے کہ بی بی نے کووکسین کی ترقی کے لیے 650 کروڑ روپے سے زیادہ کی سرمایہ کاری کی ہے؟
Published by: Mohammad Rahman Pasha
First published: Aug 03, 2021 12:05 AM IST