ہوم » نیوز » جنوبی ہندوستان

میری بات سنیں،ورنہ فوج کو طلب کرکے گولی مارنے کاحکم دیاجائیگا:کے سی آر کا انتباہ

تلنگانہ کے وزیراعلیٰ کے کے شیکھرراؤ نے کہاکہ اگر ریاست میں حالات پولیس سے قابو میں نہیں آئیں تو ریاست حکومت فوج کو طلب کرنے سے گریز نہیں کریگی۔

  • Share this:
میری  بات سنیں،ورنہ فوج کو طلب کرکے گولی مارنے کاحکم دیاجائیگا:کے سی آر کا انتباہ
وزیر اعلی کے گھر کے باہر کے سی آر کو مبارکباد دیتے ہوئے لوگ۔

تلنگانہ کے وزیراعلیٰ کے کے شیکھرراؤ نے کہاکہ اگر ریاست میں حالات پولیس سے قابو میں نہیں آئیں تو ریاست حکومت فوج کو طلب کرنے سے گریز نہیں کریگی۔ کے سی آر نے پرگتی بھون میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تلنگانہ حکومت ریاست میں 24 گھنٹے کا کرفیو کا دیکھتے ہی گولی مار دینے کا حکم صادر کرسکتی ہے۔ دراصل ریاست میں اتوار کی رات سے مکمل لاک ڈاؤن نافذ کیاگیاہے۔ لیکن عوام اب بھی گھروں سے باہر نکال کر اپنے اپنے کاموں میں مصروف نظر آرہے ہیں اس لیے وزیراعلیٰ کے چندرشیکھرراو نے تلنگانہ لاک ڈاؤن کے دوران عوام کے سڑکو ں پر گھومنے پھرنے اور بدنظمی پیدا کرنے کا سخت نوٹ لیتے ہوئے انتباہ دیا ہے کہ اس طرح کی صورتحال جاری رہی تو حکومت کو 24 گھنٹے کا کرفیو یا دیکھتے ہی گولی ماردینے کے احکام جاری کرنے پڑیں گے یا پھر فوج کوطلب کرنا پڑے گا ۔


کے سی آر نے کہا کہاگر یہاں بھی لاک ڈاون کی خلاف ورزی کی جاتی ہے تو پٹرول پمپ کو بند کرنا پڑے گا۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ اس طرح کی نوبت آنے نہ دینے کی کوشش کریں۔ چیف منسٹر نے کہا کہ آج تک ریاست میں کورونا وائرس کے 36 مثبت کیسیس درج ہوئے ہیں جن میں ایک مریض صحت یاب ہوکر ڈسچارج ہوگیا۔ فی الوقت 35 مریض زیرعلاج ہیں۔ ان میں کسی کو آکسیجن یا پھر وینٹی لیٹر کی ضرورت نہیں پڑی۔ 7 اپریل تک یہ تمام مریض ڈسچارج ہوجائیں گے۔ اگر اس دوران کوئی نیا کیس درج نہیں ہوتا ہے تو تلنگانہ ریاست کورونا وائرس سے مکمل طور پر آزاد ہوجائے گی


تلنگانہ کے وزیراعلیٰ چندر شیکھر راؤ: فائل فوٹو
تلنگانہ کے وزیراعلیٰ چندر شیکھر راؤ: فائل فوٹو


کے سی آر کا کہناہے کہ کورونا وائرس سے آج دنیا پریشان ہے۔ یہ وائرس 195 ممالک تک پھیل چکا ہے۔ امریکہ جیسے ترقی یافتہ ملک میں اس وائرس سے نمٹنے کے لئے وہاں کی پولیس کی ناکامی کو دیکھتے ہوئے امریکی حکومت نے فوج کو میدان میں اتاردیا۔ اگر تلنگانہ میں بھی لاک ڈاون کی خلاف ورزی کی جاتی ہے تو عوام کو گھروں پر بند رکھنے کے لئے 24 گھنٹے کا کرفیو یا دیکھتے ہی گولی ماردینے اور فوج کو سڑکوں پر اتارنے جیسے سخت فیصلے لینے پڑیں گے۔ انہوں نے کہا کہ روس کے صدر نے عوام کو سڑکوں پر روکنے کے لیے سخت احکامات جاری کئے جس کے تحت سڑک پر نظرآنے والوں کو 5سال جیل بھیجنے کے احکام دئیے گئے ہیں۔ کے سی آر نے کہا کہ اب تک ریاست میں بیرون ممالک سے 19,313 افراد آئے ہیں۔ ان تمام کی تفصیلات حاصل کرلی گئی ہیں اوران تمام کو گھروں پر تنہائی میں رکھا گیا ہے۔ اس کے باوجود بیرون ممالک سے آنے والے بعض افراد ہوم کورنٹائن میں تساہلی برتتے ہوئے سڑکو ں پرگھوم رہے ہیں۔ ایسے افراد کے پاسپورٹ ضبط کرنے کی ضلع کلکٹرس کو ہدایت دے دی گئی۔ اس کے علاوہ ایسے افراد کے خلاف فوجداری مقدمات بھی درج کئے جائیں گے۔

وزیراعلی ٰ نے کہا کہ نرمل میں بیرون ملک سے آنے والا ایک شخص تین مرتبہ ہوم کورنٹائن سے فرار ہوگیا۔ اگر یہی صورتحال جاری رہے تو ایسے افراد کے پاسپورٹ غیر کارکرد کردیئے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے افراد شہریوں کے دشمن بن گئے ہیں۔ انہیں دیگر سہولیات سے بھی محروم کردیا جائے گا۔ چیف منسٹر نے کہا کہ وہ کئی مرتبہ عوام سے گھروں میں ہی رہنے کی اپیل کررہے ہیں۔ اس کے باوجود ان کی اپیلوں کا عوام سنجیدگی سے مظاہرہ نہیں کررہے ہیں۔ اس طرح کے عمل سے ریاست کو ہی نقصان ہوسکتا ہے۔ چیف منسٹر نے کہا کہ ابھی بھی ریاست میں کورونا وائرس کے کئی مشتبہ کیسیس ہیں جن میں بیرونی ممالک سے آنے والے 82 افراد ہیں اور 32 افراد کا تعلق تلنگانہ سے ہے جو ان افراد سے متاثر ہوئے تھے۔ان تمام کی رپورٹ کل موصول ہوگی۔ اس کے بعد ہی پتہ چلے گا کہ ان میں کتنے مثبت کیس ہیں۔

کے چندراشیکھرراؤ فی الوقت تلنگانہ میں صورتحال اتنی سنگین نہیں ہے لیکن عوام کی جانب سے لاپرواہی برتی جاتی ہے تو حالات سنگین بھی ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ لاک ڈاون کے دوران سڑکوں پر عوام کو روکنے کے لئے صرف پولیس ہی دکھائی دے رہی ہے۔کے سی آرنے کہا کہ کل سے سڑکوں پر پولیس کے ساتھ عوامی منتخبہ نمائندے بشمول وزرا، ارکان اسمبلی، ارکان کونسل، کارپوریٹرس، کونسلرس، سرپنچ، گرام پنچایتوں اور بلدیات کے 10 لاکھ اسٹینڈنگ کمیٹی کے ممبرس بھی اپنے اپنے علاقوں میں عوام کو سڑکوں پر نہ آنے کی ترغیب دیں گے۔ وزیراعلی ٰنے کہا کہ تمام منتخبہ نمائندوں کی یہ شہری ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے اپنے حلقہ کے عوام کی صحت کا خیال رکھیں اور انہیں سڑکوں پر غیر ضروری جمع ہونے نہ دیں۔ کے سی آر نے کہا کہ گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کے تمام 150 کارپوریٹرس اور ارکان اسمبلی کل سے متحرک ہوجائیں گے اور وہ عوام کو سڑکوں پر نہ آنے کا مشورہ دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس مصیبت کی گھڑی میں عوامی منتخبہ نمائندوں کو اپنی سماجی ذمہ داری کو نبھانے کی ضرورت ہے۔ منتخبہ نمائندے نہ صرف عوام کو سڑکوں پر آنے سے روکیں گے بلکہ وہ اپنے اپنے علاقوں کی دکانات اور ترکاری فروشوں کو زائد قیمت پر اشیاء کی فروخت پر روک لگائیں گے۔
First published: Mar 24, 2020 11:45 PM IST