ہوم » نیوز » وطن نامہ

اگر مرد اور خاتون دونوں کی طرح جینا چاہتے ہیں زندگی تو ضرور کریں یہ کام

صنف بلا شبہ ہماری زندگی کا ایک اہم حصہ ہے۔ ہمیں عام طور پر بتایا جاتا ہے کہ صنف کی دو اقسام ہیں اور انسانوں میں صنف کی صرف دو اقسام ہیں اور صنف اور جنس آسانی سے ایک دوسرے کے لئے استعمال ہوتے ہیں۔ لیکن یہ محض تخیل ہے۔

  • Share this:
اگر مرد اور خاتون دونوں کی طرح جینا چاہتے ہیں زندگی تو ضرور کریں یہ کام
اگر مرد اور خاتون دونوں کی طرح جینا چاہتے ہیں زندگی تو ضرور کریں یہ کام (Photo:pixabay.com)

سوال نمبر 7 : میں یہ بات عوامی طور پر نہیں کہہ سکتا کیونکہ مجھے ڈر ہے کہ میرے اہل خانہ کیا کہیں گے ، لیکن میری دلی خواہش ہے کہ میں کسی رومی خاتون کے تابع رہوں اور خواتین کی طرح سجوں اور سنوروں ۔ میں خاتون اور مرد دونوں کی طرح زندگی جینا چاہتا ہوں ۔ میں خاص طور پر حکمراں خواتین جو مرد ہوکر خواتین کی طرح اور خاتون ہوکر مرد کی طرح سجتی سنورتی ہیں اور ٹرانسجینڈر کے تئیں زیادہ راغب ہوں ۔


آپ کے ساتھ جو ہورہا ہے وہ عام جنسی تجربہ ہے ۔ ویسے آپ اپنے بارے میں اس حقیقت کو خود تک ہی محدود رکھنا چاہتے ہیں ، مگر آپ کی خواہشات غیر فطری نہیں ہیں اور نہ ہی یہ ایسا ہے جس کیلئے آپ کو شرمندہ ہونا پڑے ۔ پوری دنیا میں مردوں کو اس طرح کا تجربہ ہوتا ہے ۔


صنف بلا شبہ ہماری زندگی کا ایک اہم حصہ ہے۔ ہمیں عام طور پر بتایا جاتا ہے کہ صنف کی دو اقسام ہیں اور انسانوں میں صنف کی صرف دو اقسام ہیں اور صنف اور جنس آسانی سے ایک دوسرے کے لئے استعمال ہوتے ہیں۔ لیکن یہ محض تخیل ہے۔


صنف وہی ہے جیسی ہمارے پیدائش کے وقت درجہ بندی کی جاتی ہے اور اس کی بنیاد ہمارے تولیدی عضو اور کرومسومز ہیں ۔ تاہم فطرت کی دوسری چیزوں کی طرح  تولیدی عضو اور کرومسومز بدلتے ہیں اور ہر کوئی واضح طور پر ان دو قسموں میں نہیں آتا ہے ۔ دوسری طرف صنف کا بایولوجی سے قطعا کوئی تعلق نہیں ہے ۔ جس طرح سے ہمیں اپنی صنف کے مطابق برتاؤ کرنا سکھایا جاتا ہے وہ جینڈر ہے ۔ وہ ایک معاشرتی تعمیر ہے ، جس کی ہم جب چاہیں دوبارہ تعبیر اور تعمیر کرسکتے ہیں ۔ صنف کا کردار اور سلوک (کیسے کپڑے پہنیں ، کس طرح کا سلوک کریں، معاشرے میں آپ کا کردار اور شادی) کیسا کریں ، یہ سب بچپن میں سکھائے جاتے ہیں - مرد پینٹ پہنتے ہیں اور خواتین ساڑی پہنتی ہیں ، مردوں کے بال چھوٹے چھوٹے ہوتے ہیں اور خواتین کے بڑے وغیرہ وغیرہ اور پھر یہ دنیا کا دستور بن جاتا ہے (جو آہستہ آہستہ بدل رہا ہے) ۔ لوگوں کو کھلے عام اور پوشیدہ طور پر سکھایا جاتا ہے کہ وہ خود کو ان دو زمروں میں سے کسی ایک میں فٹ کرلیں اور ان کے علاوہ دیگر کسی کو بھی وہ حیرت انگیز گڑبڑی تسلیم کریں ۔ اس لئے یہ حیرت کی بات نہیں ہے کہ آپ کو اپنی خواہش ظاہر کرنے میں شرم محسوس ہوتی ہے کیونکہ اس سے آپ ان دونوں ہی زمروں سے باہر نظر آتے ہیں ۔

جینڈر کے بارے میں سماجی رویہ کے طور پر جاننا نہ کہ فطرت کے قوانین کے طور پر اس کو دیکھنے سے آپ کو کراس ڈریسنگ اور جینڈر کے کھیل کو ایک نئے طریقہ سے دیکھنے میں مدد ملے گی ۔

خود کو مرد سمجھنے والے لوگوں کے کراس ڈریس کی کئی وجوہات ہیں ۔ ہوسکتا ہے کہ آپ اس بات کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں ، جسے روایتی طور پر زنانہ کہا جاتا ہے ۔ یہ نئے کپڑے ، رنگ اور پرنٹ کو آزمانے جیسا ہے اور آپ کو کہا گیا ہے کہ ایک مرد ہونے کی وجہ سے یہ آپ کیلئے نہیں ہیں یا یہ آپ کیلئے غم ، نرمی ، آداب اور آرام جیسے جذبے کا تجربہ کرنے کا طریقہ ہوسکتا ہے ، مگر جس کا تجربہ کرنے سے آپ کو منع کیا گیا ہے ۔ اس طرح کے کپڑے پہن کر آپ اپنے اندر پوشیدہ ان جذبات کو ابھارنا چاہتے ہیں جو دبے ہوئے ہیں ۔

اب آتے ہیں آپ کی دوسری خواہش پر ، آپ چاہتے ہیں کہ آپ پر کوئی خاتون حکومت چلائے اور یہ زیادہ تر بی ڈی ایس ایم کی ہی ایک ذیلی تقسیم ہے ۔ ایک مرتبہ پھر اس کیلئے بھی آپ کو شرمندہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے اور یہ بہت ہی عام خواہش ہے ۔ عام طور پر اس خواہش کے پیچھے جو باتیں ہیں ، وہ کراس ڈریسنگ کی ہی طرح کی ہیں ۔ جینڈر سے وابستہ اظہار اور حدود کے بارے میں ہمیں جو سکھایا جاتا ہے ، آپ اس کو چھوڑنا چاہتے ہیں اور آپ سماجی طور پر ایسے زنانہ کے طور پر نظر آنا چاہتے ہیں ۔ خودسپرگی کی کوئی بھی حالت آپ کو روایتی فرائض ، دباو اور روزمرہ کی زندگی کے فیصلوں سے پیچھا چھڑانے کو اکساتی ہے ۔

کافی لوگ دنیا میں خود کو ایسے عیش و آرام سے محروم رکھتے ہیں ، جس کا وہ لطف اٹھانا چاہتے ہیں خاص طور پر جنسی سکون اور اس کی معمولی سی وجہ یہ ہے کہ اس کو بیٹوں کی حکمرانی اور متضاد معیارات والی ہماری دنیا میں مین اسٹریم کا نہیں مانا جاتا ہے ۔

ایک اطمینان بخش جنسی زندگی جینے کیلئے ایک حد تک بہادری ضروری ہے ۔ پہلا آپ کو خود سے ایمانداری سے پوچھنا چاہئے کہ آپ کی خواہشات اور ضروریات کیا ہیں اور خود کو قبول کرنا سیکھنا چاہئے اور آپ جو ہیں ، اس کیلئے آپ کے دل میں پیار ہونا چاہئے ۔ ایسا کرنے کا سب سے اچھا طریقہ ایسی ہی خواہش رکھنے والے دیگر لوگوں کے ساتھ بات چیت کرنا ہے ۔ ایسے کئی سوشل میڈیا جیسے ویب سائٹ ، مثال کے طور پر فیٹ لائف وغیرہ ہیں ، جو اس طرح کی خاص خواہش رکھنے والوں کیلئے ہے ۔

یہ بھی سمجھئے کہ آپ کو اس بارے میں آخر کار اپنی بیوی سے بات کرنی ہوگی ۔ جب آپ خود کے ساتھ آرام دہ حالت میں ہوں ، تو آپ اپنی چاہت کی ایک ایسی ہلکی خوراک سے ان کو روبرو کرائیے ، جس کے بارے میں آپ کو پتہ ہے کہ انہیں بھی مزہ آئے گا ۔ ایک اور طریقہ ہے کہ اس کو آپ ایک ایسا رنگ دیں کہ اس سے آپ کی جنسی زندگی مزید دلچسپ ہوجائے ۔ رفتہ رفتہ انہیں اپنے اس پہلو سے روبرو کرائیے تاکہ وہ انہیں سمجھ پائیں اور پھر اس کو قبول کرلیں ۔ انہیں ایک ہی مرتبہ میں سب کچھ بتادینے سے وہ ڈر سکتی ہیں کیونکہ وہ جنسی زندگی کے اس پہلو سے انجان رہی ہیں ۔

اگر وہ اس طرح سے جنسی تسکین میں کوئی دلچسپی نہیں لیتی ہیں تو یہ آپ کی ذمہ داری ہے کہ آپ ان کی خواہشات کا احترام کریں اور اس کو قبول کریں ۔ حالانکہ انہیں بھی آپ کی خواہشات کے بارے میں رائے بنانے کا کوئی حق نہیں ہے ۔ غیر فطری جنسی خواہشات کا ہونا اور نہ ہونا دونوں ہی عام باتیں ہیں ۔ ایک اچھے اور صحت مند رشتہ کیلئے ایک دوسرے کی خواہشات کو قبول کرنا بنیادی بات ہے ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Nov 25, 2020 09:42 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading