ہوم » نیوز » وطن نامہ

شیوراج حکومت کی عدم توجہی سے ائمہ وموذنین سخت پریشان، 4 ماہ سے نہیں اداکی گئی تنخواہ

مساجد کمیٹی کے سکریٹری ایس ایم سلمان کہتے ہیں کہ مساجد کمیٹی کے تحت ساڑھے پانچ مساجد کے امام و موذن کے ساتھ دارالافتا، دارالقضا، اسکول اور مساجد کمیٹی کے اسٹاف کو تنخواہ ادا کی جاتی ہے۔ گزشتہ چار مہینے میں گرانٹ نہیں آنے کے سبب مشکلات پیدا ہوئیں۔

  • Share this:
شیوراج حکومت کی عدم توجہی سے ائمہ وموذنین سخت پریشان،  4 ماہ سے نہیں اداکی گئی تنخواہ
شیوراج حکومت کی عدم توجہی سے ائمہ وموذنین سخت پریشان، 4 ماہ سے نہیں اداکی گئی تنخواہ

بھوپال: مدھیہ پردیش کے ائمہ وموذنین حکومت کی عدم توجہی سے سخت پریشان ہیں۔ حالانکہ کورونا کے قہر میں حکومت کے ذریعہ ’سب کا ساتھ، سب کا وکاس’ کا نعرہ بلند کر نے کےساتھ کسانوں اور مزدوروں کو راحت پیکج دینےکا سلسلہ جاری ہے، لیکن جو ادارہ حکومت ہند اور ریاست بھوپال کے بیچ ہوئے مرجر ایگریمنٹ کی رو سے وجود میں آیا تھا، اس کے لوگ گزشتہ چار ماہ سے تنخواہ کے لئے پریشان پھر رہے ہیں۔


واضح رہے کہ مدھیہ پردیش میں مساجد کمیٹی کا قیام ملک میں آزادی کے بعد ریاست بھوپال اور انڈین یونین کے بیچ ہوئے معاہدے کے تحت عمل میں آیا تھا۔ معاہدے کے تحت یہ طے کیا گیا تھا کہ جس طرح سے ریاست بھوپال کے ذریعہ مساجد کے امام، مندر کے پجاری، چرچ کے پادری کو ماہانہ نذرانہ پیش کیا جاتا ہے، اسی طرح سے انڈین یونین کے ذریعہ کیا جائےگا۔ ابتدا میں یہ نذرانہ انڈین یونین کے ذریعہ ادا کیا جاتا تھا، لیکن جب یکم نومبر 1956 کو ریاست مدھیہ پردیش کا وجود عمل میں آیا تو مساجد کمیٹی کے زیر انتظام ادارے ائمہ و موذنین، دارالاقضا، دارالافتا اور مساجد کمیٹی کے زیرانتظام چلنے والے اسکول کے اساتذہ کی تنخواہوں کے لئےحکومت کے ذریعہ گرانٹ جاری کی جانے لگی۔ مساجد کمیٹی اس گرانٹ سے سبھی کو تنخواہیں ادا کرنے کا کام کرتی ہے۔


مدھیہ پردیش کے ائمہ وموذنین شیو راج سنگھ حکومت کی عدم توجہی سے سخت پریشان ہیں۔
مدھیہ پردیش کے ائمہ وموذنین شیو راج سنگھ حکومت کی عدم توجہی سے سخت پریشان ہیں۔


مدھیہ پردیش میں 1956 سے لے کر اب تک اقتدار کی منتقلی کانگریس اور بی جے پی کے ہی درمیان رہی ہے۔ اس کے باوجود دونوں حکومتوں نے اس ادارے کو ہمیشہ نظر انداز کرنے کا کام کیا ہے۔ 2019 کے بجٹ میں کمل ناتھ حکومت نے اس کے بجٹ میں تین کروڑ سے زیادہ کا اضافہ تو کیا، لیکن یہ اضافہ بھی مساجد کمیٹی کے ائمہ و موذنین کو کلکٹر ریٹ کے مطابق کام کرنے والوں کے برابر نذرانہ ادا نہیں کرسکا۔ پھر بھی مساجد کمیٹی کے ائمہ وموذنین اور انتظامیہ کمیٹی نے اس کے لئے سابقہ حکومت کا شکریہ ادا کیا۔ مارچ میں جب شیوراج سنگھ کی حکومت آئی تو کورونا کے قہر میں ادارے کے لوگوں کو امید تھی کہ ’سب کا ساتھ، سب کا وکاس’ کی بات کرنے والی سرکار مساجد کمیٹی، دارالقضا، دارالافتا اور ائمہ و موذنین کو نظر انداز نہیں کرے گی۔ مگر حکومت نے اس ادارے کی جانب اب تک دیکھا ہی نہیں۔ کورونا کےقہر میں 4 ماہ سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے، لیکن مساجد کمیٹی کو گرانٹ جاری نہیں کی گئی ہے تاکہ وہ ائمہ وموذنین کے ساتھ دارالافتا، دارالقضا اور اسکول کے اسٹاف کے ساتھ مساجد کمیٹی کے اسٹاف کو تنخواہیں تقسیم کرسکے۔

لوگوں کو امید تھی کہ ’سب کا ساتھ، سب کا وکاس’ کی بات کرنے والی سرکار مساجد کمیٹی، دارالقضا، دارالافتا اور ائمہ و موذنین کو نظر انداز نہیں کرے گی۔
لوگوں کو امید تھی کہ ’سب کا ساتھ، سب کا وکاس’ کی بات کرنے والی سرکار مساجد کمیٹی، دارالقضا، دارالافتا اور ائمہ و موذنین کو نظر انداز نہیں کرے گی۔


مساجد کمیٹی کے سکریٹری ایس ایم سلمان کہتے ہیں کہ مساجد کمیٹی کے تحت ساڑھے پانچ مساجد کے امام و موذن کے ساتھ دارالافتا، دارالقضا، اسکول اور مساجد کمیٹی کے اسٹاف کو تنخواہ ادا کی جاتی ہے۔ گزشتہ چار مہینے میں گرانٹ نہیں آنے کے سبب مشکلات پیدا ہوئیں۔ ادھر ادھر سے کرکے کہیں سے دارالقضا اور دارالفتا کے لوگوں کو معمولی تنخواہ ادا کی گئی، لیکن ائمہ و موذنین، اسکول اسٹاف، مساجد کمیٹی اسٹاف کو تنخواہیں جاری نہیں ہو سکیں۔ کورونا کے قہر میں دفاتر کے مستقل نہیں کھلنے سے بھی رکاوٹ پیدا ہوئی ہے۔ وزیر اقلیتی فلاح و بہبود مدھیہ پردیش سے بات ہوئی۔ امید ہے کہ ایک دو دن میں گرانٹ جاری ہو جائے گی، جیسے ہی گرانٹ جاری ہوتی ہے، سبھی کے اکاؤنٹ میں تنخواہیں ڈال دی جائیں گی۔

مساجد کمیٹی کے سکریٹری ایس ایم سلمان کہتے ہیں کہ مساجد کمیٹی کے تحت ساڑھے پانچ مساجد کے امام و موذن کے ساتھ دارالافتا، دارالقضا، اسکول اور مساجد کمیٹی کے اسٹاف کو تنخواہ ادا کی جاتی ہے۔
مساجد کمیٹی کے سکریٹری ایس ایم سلمان کہتے ہیں کہ مساجد کمیٹی کے تحت ساڑھے پانچ مساجد کے امام و موذن کے ساتھ دارالافتا، دارالقضا، اسکول اور مساجد کمیٹی کے اسٹاف کو تنخواہ ادا کی جاتی ہے۔


وہیں مدھیہ پردیش کے وزیر برائے اقلیتی فلاح وبہبود رام کھلاون پٹیل کہتے ہیں کہ مجھے ابھی اس کے بارے میں پتہ چلا ہے۔جیسے ہی فائل میرے پاس آتی ہے میں ترجیحات کی بنیاد پر کام کروں گا۔ بی جے پی سرکار جو کہتی ہے وہ کرکے دکھاتی ہے۔ اتنے دن تنخواہ کے گرانٹ کیوں نہیں جاری کی گئی، اس کے بارے میں محکمہ کے افسران سے پتہ کرتا ہوں۔ اقلیتیوں کے ادارے اگر آج خستہ حالی کے شکار ہیں تو اس کےلئے بی جے پی نہیں، کانگریس ذمہ دار ہے۔

وزیر برائے اقلیتی فلاح وبہبود رام کھلاون پٹیل کہتے ہیں کہ مجھے ابھی اس کے بارے میں پتہ چلا ہے۔جیسے ہی فائل میرے پاس آتی ہے میں ترجیحات کی بنیاد پر کام کروں گا۔
وزیر برائے اقلیتی فلاح وبہبود رام کھلاون پٹیل کہتے ہیں کہ مجھے ابھی اس کے بارے میں پتہ چلا ہے۔جیسے ہی فائل میرے پاس آتی ہے میں ترجیحات کی بنیاد پر کام کروں گا۔


وزیر برائے اقلیتی فلاح وبہبود رام کھلاون پٹیل کا مزید کہنا ہے کہ کانگریس نے اقلیتی سماج کو صرف ووٹ بینک تک استعمال کیا اور کبھی انہیں آگے بڑھانے کا کام نہیں کیا۔ اگر کانگریس کی سرکاروں نے اپنا راج دھرم نبھایاہوتا تو آج یہ حالت نہیں ہوتی۔ مساجد کمیٹی، ائمہ و موذنین، دارالفتا اور دارالقضا کی گرانٹ جلد جاری کرنے کا وعدہ تو مدھیہ پردیش کے وزیر اقلیتی فلاح وبہبود رام کھلاون پٹیل نے کیا تو ہے، لیکن یہ گرانٹ کب جاری ہوتی ہے یہ دیکھنا ہوگا۔ کیونکہ ادارے کے لوگوں کا کہنا ہے کہ ایسا ہی وعدہ ہفتے بھر پہلے بھی کیا جا چکا ہے۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Aug 13, 2020 08:24 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading