ہوم » نیوز » وسطی ہندوستان

مدھیہ پردیش: احکامات جاری ہونے کے بعد مساجد کے ائمہ وموذنین تنخواہ سے محروم

اب اسے مساجد کمیٹی، ائمہ و موذنین کی بدنصیبی کہیں یا حکومت کی بدنیتی کی احکام جاری ہونے کے بعد بھی ریاست بھوپال کی مساجد کے ائمہ وموذنین تنخواہوں سے محروم ہیں۔

  • Share this:
مدھیہ پردیش: احکامات جاری ہونے کے بعد مساجد کے ائمہ وموذنین تنخواہ سے محروم
مدھیہ پردیش: احکامات جاری ہونے کے بعد مساجد کے ائمہ وموذنین تنخواہ سے محروم

بھوپال: اب اسے مساجد کمیٹی، ائمہ و موذنین کی بدنصیبی کہیں یا حکومت کی بدنیتی کی احکام جاری ہونے کے بعد بھی ریاست بھوپال کی مساجد کے ائمہ وموذنین تنخواہوں سے محروم ہیں۔ محکمہ اقلیتی فلاح وبہبود نے گزشتہ ماہ 8 اکتوبر کو احکام بھی جاری کیا تھا، اس کے بعد مساجد کمیٹی کے آئمہ وموذنین کے اکاؤنٹ میں آج تک تنحواہوں کی رقم نہیں آسکی ہے۔

مدھیہ پردیش میں مساجد کمیٹی کا قیام ملک کی آزادی کے بعد انڈین اور ریاست بھوپال کے فرمانروا نواب حمید اللہ خان کے بیچ ہوئے مرجر ایگریمنٹ کے تحت عمل میں آیا تھا۔ جب تک مدھیہ پردیش کا قیام عمل نہیں آیا تھا مساجد کمیٹی کے آئمہ وموذنین، دارالافتا، دارالضا، مساجد کمیٹی اسٹاف کے ساتھ مساجد کمیٹی کے زیر انتظام چلنے والے حمیدیہ اسکول کے اسٹاف کی تنخواہ یونین آف انڈیا کے ذریعہ ادا کی جاتی تھی، مگر یکم نومبر 1956 کو جب مدھیہ پردیش کا قیام عمل میں آیا تو مساجد کمیٹی، ائمہ وموذنین کی تنحواہیں مدھیہ پردیش حکومت محکمہ اقلیتی فلاح وبہبود کے ذریعہ ادا کی جانے لگی۔ وقت بدلتا رہا مگر ایک مدت تک ائمہ وموذنین کی تنخواہوں میں اضافہ نہیں کیا گیا۔


شیوراج سنگھ حکومت میں مساجد کمیٹی کا بجٹ جو دگ وجے سنگھ حکومت میں چوون لاکھ تھا اسے بڑھا کر سوا کروڑ کیاگیا اور جب دوہزار اٹھارہ میں کمل ناتھ کی حکومت اقتدار میں آئی تو مساجد کمیٹی کے بجٹ میں دو کروڑ بیالیس لاکھ کا اضافہ کیاگیا ۔ مگر دوہزار بیس مارچ میں جب پھر مدھیہ پردیش میں اقتدار کی منتقلی ہوئی تو آئمہ وموزنین کی قسمت کو یہیں سے گہن لگ گیا جو ابتک دور ہونے کو تیار نہیں ہے۔

نیوز 18 اردو کی مہم کے بعد آٹھ اکتوبر دوہزار بیس کو محکمہ اقلیتی فلاح وبہبود نے آئمہ وموزنین کی تین ماہ جون ،جولائی اور اگست  کی تنخواہ جاری کرنے کا احکام  تو جاری  کیا مگر احکام جاری ہونے کے بعد بھی آئمہ وموزنین کو آج تک تنخواہوں کا انتظار ہے۔ مسجد قریشیان بھوپال کے موزن انصار احمد کہتے ہیں کہ کورونا قہر میں چھ مہینے کا وقت کیسے ہم نے انتظار میں گزارا ہے یہ ہمیں جانتے ہیں ۔احکام جاری ہونے کے بعد بھی اگر تنخواہ اکاؤنٹ میں نہیں آئے تو اسے آپ کیا کہیں گے۔

سماجی کارکن شارق احمد کہتے ہیں کہ حکومت کے وعدے اور دعوے دونوں کو دیکھ لیا ہے۔ حکومت ہمارے صبر کا امتحان نہ لے۔ ہم نے حکومت سے پرامن طریقے سے احتجاج کرتے ہوئے آئمہ وموزنین کے حق کا مطالبہ کیاہے اب اگر حکومت نے اسے ادانہیں کرتی ہے تو ہمارے پاس عدالت سے رجوع کرنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں بچتا ہے۔ ائمہ وموذنین کے حق کے لئے سڑک پر اترنے کے ساتھ ہم عدالت کا دروازہ بھی کھٹکھٹائیں گے۔ عدالت سے ہمیں انصاف ملے گاایسا ہمیں پورا یقین ہے۔
مساجد کمیٹی کے سکریٹری ایس ایم سلمان سے جب نیوزایٹین اردو نے اس سلسلے میں بات کی تو انہوں نے کہا کہ ہمیں بھی حیرت ہے کہ احکام جاری ہونے کے بعد تنحواہیں کیوں نہیں دی جا رہی ہے۔ پہلے تو محکمہ اقلیتی فلاح وبہبود نے ونڈر سسٹم کے نفاذ کا بہانہ بنایا اور جب ہم مہینوں پہلے تمام دستاویزات جمع کر دیئے تو پچھلے مہینے نواسی لاکھ چوون ہزار نوسو چالیس روپیہ کا آرڈر جاری کیا گیا مگر اپنے ہی احکام پر محکمہ عمل نہیں کر رہا ہے۔

مساجد کمیٹی کے سکریٹری ایس ایم سلمان سے جب نیوزایٹین اردو نے اس سلسلے میں بات کی تو انہوں نے کہا کہ ہمیں بھی حیرت ہے کہ احکام جاری ہونے کے بعد تنحواہیں کیوں نہیں دی جا رہی ہے۔
مساجد کمیٹی کے سکریٹری ایس ایم سلمان سے جب نیوزایٹین اردو نے اس سلسلے میں بات کی تو انہوں نے کہا کہ ہمیں بھی حیرت ہے کہ احکام جاری ہونے کے بعد تنحواہیں کیوں نہیں دی جا رہی ہے۔


مدھیہ پردیش بی جے پی کی ترجمان نہا بگا کہتی ہیں کہ اگر آئمہ وموزنین کی تنخواہوں کے معاملے میں تاخیر ہو رہی ہے تو اس کے لئے مساجدکمیٹی ہی ذمہ دار ہے ۔ مساجد کمیٹی نے ونڈر سسٹم کے نئے نظام کے تحت جن دستاویز ات کی محکموں کو ضرورت تھی اسے ابتک مہیا نہیں کرایا ہے جس کے سبب امام و موزن اور دوسرے لوگوں کی تنخواہوں میں دیر ہورہی ہے۔ مساجد کمیٹی کو چاہیئے کی دوسرے پر الزام لگانے سے پہلے اپنی کارکردگی کو ٹھیک کر ے۔ سرکار سب کے ساتھ ہی اس کے یہاں کوئی من بھید نہیں ہے۔
مدھیہ  پردیش کانگریس پارٹی میڈیا سیل کے نائب صدر بھوپندر گپتا کہتے ہیں کہ جھوٹ بولنا اور اپنی کمیوں کو چھپانے کے کام بی جے پی بہت اچھی طرح سے جانتی ہے۔ پہلے یہ کہتی رہی کہ کسانوں کا ایک پیسہ معاف نہیں ہوا اور اسی سرکار نے ودھان سبھا میں تسلیم کیا کسانوں کا قرض معاف ہوا۔ حکومت کو چاہیئے کہ اپنی نیت صاف کرے اور آئمہ و موزنین کے جب تمام کاغذات سرکاری احکام کے مطابق جمع ہو گئے ہیں تو تنخواہوں کو جاری کرے ۔سرکار اپنے قول و فعل سے خود نے نقاب ہوگئی ہے۔ اگر کاغذات مکمل نہیں تھے تو پچھلے مہینے تنخواہیں جاری کرنے کا آرڈر کیسے ہوگیا۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Nov 04, 2020 10:36 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading