உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    مغربی بنگال میں نوجوانوں کو فون استعمال کرنےکی تربیت دیں گے ائمہ کرام

    بنگال میں امام دیں گے نوجوانوں کو فون کے استعمال کی تربیت

    بنگال میں امام دیں گے نوجوانوں کو فون کے استعمال کی تربیت

    مغربی بنگال کا مرشداباد ضلع ان دنوں سرخیوں میں ہے۔ ریاست کے سب سے پسماندہ اضلاع میں شمار ہونے والا مرشدآباد ان دنوں القاعدہ کی سرگرمیوں کا گڑھ مانا جارہا ہے۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Share this:
    کولکاتا: مغربی بنگال کا مرشداباد ضلع ان دنوں سرخیوں میں ہے۔ ریاست کے سب سے پسماندہ اضلاع میں شمار ہونے والا مرشدآباد ان دنوں القاعدہ کی سرگرمیوں کا گڑھ مانا جارہا ہے۔ این ائی اے کے ہاتھوں مرشدآباد سے گزشتہ دنوں 10 نوجوانوں کی گرفتاری کے بعد یہاں این آئی اے نے القاعدہ کی سرگرمیوں کا معاملہ سامنے لادیا ہے۔ جبکہ کئی انسانی حقوق تنظیموں کی جانب سے ان گرفتاریوں کو تنقید کا نشانہ بھی بنایا جارہا ہے۔ علماء نے اب بھی اسی معاملے میں آگے آنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    علماء کے مطابق، موبائل فون کا استعمال نہ جاننے کی وجہ سے نوجوان طبقہ شک کے دائرے میں آرہے ہیں۔ یہی وجہ ہےکہ علماء نے فون کے تعلق سے مساجد سے بیداری مہم چلانے کا اعلان کیا ہے۔ بنگال امام ایسوسی ایشن کے چیئرمین مولانا یحییٰ نے کہا کہ نوجوان طبقہ اسمارٹ فون کا استعمال نہیں جانتے اور کئی متنازعہ پوسٹ کا نہ صرف جواب دیتے ہیں بلکہ ان ویڈیو کو دوسروں کو بھیجتے بھی ہیں جو ان کی پریشانی کی وجہ بنتی ہے۔

    بنگال امام ایسوسی ایشن کے چیئرمین مولانا یحییٰ نے کہا کہ نوجوان طبقہ اسمارٹ فون کا استعمال نہیں جانتے اور کئی متنازعہ پوسٹ کا نہ صرف جواب دیتے ہیں بلکہ ان ویڈیو کو دوسروں کو بھیجتے بھی ہیں جو ان کی پریشانی کی وجہ بنتی ہے۔
    بنگال امام ایسوسی ایشن کے چیئرمین مولانا یحییٰ نے کہا کہ نوجوان طبقہ اسمارٹ فون کا استعمال نہیں جانتے اور کئی متنازعہ پوسٹ کا نہ صرف جواب دیتے ہیں بلکہ ان ویڈیو کو دوسروں کو بھیجتے بھی ہیں جو ان کی پریشانی کی وجہ بنتی ہے۔


    مولانا یحییٰ نے مزید کہا کہ ہم مساجد سے بیداری مہم شروع کرنے جارہے ہیں۔ انہوں نے امید جتائی کے اس مہم کا فائدہ ہوگا اور نوجوان طبقہ اس طرح کی سرگرمیوں سے دور رہیں گے۔ امام ایسو سی ایشن نے گرفتار نوجوانوں کی غیرجانبدارانہ جانچ کا بھی مطالبہ کیا ہے، ساتھ ہی ساتھ مرکزی و ریاستی حکومت سے یہ مطالبہ بھی کیا کہ اگر گرفتار نوجوان بے قصور ثابت ہوتے ہیں تو ان افسران کے خلاف بھی کارروائی ہونی چاہئے۔
    Published by:Nisar Ahmad
    First published: