ہوم » نیوز » جنوبی ہندوستان

کرناٹک حکومت کا اہم فیصلہ، BBMP کے کونسلروں کی تعداد اب 243 ہوگی

ریاستی حکومت نے بروہت بنگلورو مہانگر پالیکے کے ارکان کی تعداد 198 سے بڑھا کر 243 کردی ہے۔ اس کے ساتھ ہی وارڈوں کی از سر نو تشکیل کیلئے کمیٹی قائم کی ہے۔ مسلم تنظیموں نے کہا ہے کہ اس پورے ایکسرسائز میں سماجی انصاف کو برقرار رکھا جائے۔

  • Share this:
کرناٹک حکومت کا اہم فیصلہ، BBMP کے کونسلروں کی تعداد اب 243 ہوگی
کرناٹک حکومت کا اہم فیصلہ، BBMP کے کونسلروں کی تعداد اب 243 ہوگی

بنگلورو: ریاست کرناٹک کی آبادی تقریباً 6 کروڑ ہے۔ ان میں ایک کروڑ 25 لاکھ افراد دارالحکومت بنگلورو میں بستے ہیں۔ بنگلورو کی بلدیہ جسے بروہت بنگلورو مہانگر پالیکے (BBMP) کہا جاتا ہے، اس بلدیہ کا شمار ملک کے چوتھے بڑے میونسپل کارپوریشنوں میں ہوتا ہے۔ بنگلورو شہرکی بڑھتی ہوئی آبادی، اس شہر کے بڑھتے ہوئے دائرے، شہرکے مضافات میں نئی نئی بستیوں کے وجود میں آنے کے بعد ریاستی حکومت نے اہم فیصلہ لیا ہے۔ بی بی ایم پی کے موجودہ کونسلروں کی تعداد جو 198 ہے، اسے بڑھاکر 243 کرنےکا فیصلہ لیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں حکومت نے آج بتاریخ 14 اکتوبر 2020 کو گزٹ نوٹیفکیشن جاری کیا ہے۔


محکمہ شہری ترقیاتی کے ڈپٹی سکریٹری کے اے ہدایت اللہ کی دستخط کے ساتھ یہ اہم نوٹیفکیشن جاری ہوا ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ کرناٹک میونسپل کارپوریشن ایکٹ 1976 میں دیئے گئے اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے ریاستی حکومت بروہت بنگلورو مہانگر پالیکے کے کونسلروں کی تعداد کو 243 مقرر کرتی ہے۔ اس نوٹیفکیشن کے ساتھ ہی ریاستی حکومت نے بی بی ایم پی کے وارڈوں کی ازسر نو تشکیل کیلئے کمیٹی قائم کی ہے۔ بروہت بنگلورو مہانگر پالیکے کے کمشنر منجوناتھ اس کمیٹی کے صدر ہوں گے جبکہ بنگلورو کے ڈپٹی کمشنر، بنگلورو ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے کمشنر اور بی بی ایم پی کے ریونیو ڈپارٹمنٹ کے خصوصی کمشنر اس کمیٹی کے اراکین ہوں گے۔ 6 ماہ کے اندر یہ کمیٹی شہر کے بلدیاتی حلقوں کی دوبارہ حد بندی کا کام انجام دے گی۔ اس کے بعد بنگلورو کے وارڈوں کی نئی فہرست جاری کرے گی۔


بی بی ایم پی کے موجودہ کونسلروں کی تعداد جو 198 ہے، اسے بڑھاکر 243 کرنےکا فیصلہ لیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں حکومت نے آج 14 اکتوبر 2020 کو گزٹ نوٹیفکیشن جاری کیا ہے۔
بی بی ایم پی کے موجودہ کونسلروں کی تعداد جو 198 ہے، اسے بڑھاکر 243 کرنےکا فیصلہ لیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں حکومت نے آج 14 اکتوبر 2020 کو گزٹ نوٹیفکیشن جاری کیا ہے۔


روزنامہ پاسبان کے ایڈیٹر عبیداللہ شریف نے کہا کہ شہر کی ترقی کو دیکھتے ہوئے وارڈوں کی تعداد میں اضافہ کرنے کا قدم بالکل درست ہے۔ اس سے شہر میں بنیادی سہولیات جیسے پانی، سڑکیں، ڈرنیج، بجلی اور دیگر خدمات کو بہتر طریقہ سے فراہم کرنے اور انجام دینے میں مدد ملے گی، عوام کے مسائل کو حل کرنے، انتظام اور انصرام کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔عبیداللہ شریف نے کہا کہ وارڈوں کی نئی حدبندی یا پھر ریزرویشن پالیسی کی تشکیل میں اقلیتوں کی نمائندگی پر منفی اثر نہیں ہونا چاہئے۔  انہوں نے کہا کہ چند دنوں قبل جاری کی گئی وارڈوں کی ریزرویشن فہرست میں اقلیتوں بالخصوص مسلم اکثریتی آبادی والے کئی علاقوں کو دلت، خواتین اور دیگر طبقوں کیلئے محفوظ کردیا گیا تھا۔ اس سے اقلیتوں میں ناراضگی دیکھنے کو مل رہی تھی۔

عبیداللہ شریف نے کہا کہ اب وارڈوں کی از سر نو تشکیل میں حکومت اقلیتوں کے ساتھ ناانصافی ہونے نہ دے۔کرناٹک مسلم متحدہ محاذ کے جوائنٹ کنوینر اقبال احمد نے کہا کہ اقلیتوں کو انکی آبادی کے مطابق بلدیاتی اداروں میں نمائندگی حاصل ہونا چاہئے۔ لیکن اب تک ایسا نہیں ہوا ہے۔ بنگلورو میں کم سے کم 30 امیدوار  مسلم طبقہ سے کارپوریشن کیلئے منتخب ہونے چاہئیں لیکن ہر الیکشن میں 12 سے 15 ہی مسلم امیدوار کامیاب ہوتے ہوئے آرہے ہیں۔ اقبال احمد نے کہا کہ اقلیتوں کی نمائندگی میں کمی کی ایک اہم وجہ حلقوں کے ریزرویشن اور حدبندی میں سماجی انصاف کو نظرانداز کیا جانا ہے۔

کرناٹک مسلم متحدہ محاذ نے کہا کہ مسلم تنظیموں اور مسلم لیڈروں کو چاہئے کہ وہ وارڈوں کی از سر نو تشکیل، وارڈوں کے ریزرویشن ان معاملوں پر گہری نظر رکھیں۔حکومت کو بھی چاہئے کہ اس پورے ایکسرسائز میں سماج کسی بھی طبقہ کے ساتھ ناانصافی نہیں ہونی چاہئے۔ نئی حدبندی اور ریزرویشن کی بنیاد پر جب الیکشن ہونگے تو سبھی ذاتوں، طبقوں کارپوریشن میں مناسب نمائندگی ملنی چاہئے۔ بروہت بنگلورو مہانگر پالیکے (BBMP) کی کونسل کی معیاد ختم ہوئے دو ماہ پورے ہورہے ہیں۔ سیاسی پارٹیاں اور امیدوار بی بی ایم پی کے انتخابات کے اعلان کا بے صبری سے انتظار کررہے تھے لیکن اب وارڈوں کی از سر نو تشکیل کیلئے نئی کمیٹی قائم کئے جانے کے بعد بی بی ایم پی کے انتخابات کیلئے اب عوام اور سیاسی پارٹیوں کو 6 سے زائد مہینوں تک انتظار کرنا پڑے گا۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Oct 14, 2020 11:54 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading