உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    UP MLC Election: کانگریس چھوڑ کر سماجوادی میں آئے عمران مسعود کو پھر ملی مایوسی، ایم ایل سی الیکشن سے نام کٹا: ذرائع

    مغربی اترپردیش کے بڑے مسلم لیڈروں میں شمار عمران مسعود اسمبلی الیکشن سے ٹھیک پہلے کانگریس کا ہاتھ چھوڑ کر سماجوادی پارٹی کی سائیکل پر سوار ہوئے تھے۔ تب ایسا مانا جا رہا ہے کہ سماجوادی پارٹی انہیں اسمبلی کا ٹکٹ دے گی، لیکن تب انہیں مایوسی ہاتھ لگی تھی۔

    مغربی اترپردیش کے بڑے مسلم لیڈروں میں شمار عمران مسعود اسمبلی الیکشن سے ٹھیک پہلے کانگریس کا ہاتھ چھوڑ کر سماجوادی پارٹی کی سائیکل پر سوار ہوئے تھے۔ تب ایسا مانا جا رہا ہے کہ سماجوادی پارٹی انہیں اسمبلی کا ٹکٹ دے گی، لیکن تب انہیں مایوسی ہاتھ لگی تھی۔

    مغربی اترپردیش کے بڑے مسلم لیڈروں میں شمار عمران مسعود اسمبلی الیکشن سے ٹھیک پہلے کانگریس کا ہاتھ چھوڑ کر سماجوادی پارٹی کی سائیکل پر سوار ہوئے تھے۔ تب ایسا مانا جا رہا ہے کہ سماجوادی پارٹی انہیں اسمبلی کا ٹکٹ دے گی، لیکن تب انہیں مایوسی ہاتھ لگی تھی۔

    • Share this:
      لکھنو: اترپردیش کے اسمبلی انتخابات سے ٹھیک قبل کانگریس کا ہاتھ چھوڑ کر سائیکل پر سوار ہوئے عمران مسعود کو سماجوادی پارٹی سے ایک بار پھر جھٹکا لگتا ہوا نظر آرہا ہے۔ ذرائع کے مطابق، آئندہ قانون ساز کونسل (MLC Election) کے انتخابات میں سماجوادی پارٹی کی فہرست سے عمران مسعود کا نام کٹ گیا ہے۔ خبر ہے کہ عمران مسعود کی جگہ پارٹی جسمیر انصاری کو امیدوار بنا سکتی ہے۔

      جسمیر انصاری سیتا پور کی لہر پور سیٹ سے رکن اسمبلی رہ چکے ہیں۔ ایسے میں سماجوادی پارٹی کی طرف سے انہیں ایم ایل سی الیکشن میں اتارنے کو انصاری برادری کو اپنے حق میں لانے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

      قانون ساز کونسل الیکشن میں سماجوادی پارٹی چار سیٹ پر اپنے امیدوار اتارے گی۔ ذرائع کے مطابق، سماجوادی پارٹی کی طرف سے جسمیر انصاری کے علاوہ سوامی پرساد موریہ، اروند راج بھر، سوبرن سنگھ یادو کا قانون ساز کونسل میں جانا بھی تقریباً طے مانا جا رہا ہے۔

      واضح رہے کہ اترپردیش قانون ساز کونسل کی 13 سیٹوں کے لئے 20 جون کو ووٹنگ ہونے والی ہے، جس کا نتیجہ بھی اسی دن آ جائے گا۔ اس کے لئے 9 جون کو پرچہ نامزدگی داخل کرنے کی آخری تاریخ ہے۔

      مغربی اترپردیش کے بڑے مسلم لیڈروں میں شمار عمران مسعود اسمبلی الیکشن سے ٹھیک پہلے کانگریس کا ہاتھ چھوڑ کر سماجوادی پارٹی کی سائیکل پر سوار ہوئے تھے۔ تب ایسا مانا جا رہا ہے کہ سماجوادی پارٹی انہیں اسمبلی کا ٹکٹ دے گی، لیکن تب انہیں مایوسی ہاتھ لگی تھی۔ اسمبلی انتخابات میں ٹکٹ نہ ملنے سے ان کی ناراضگی کی بھی خبریں آئی تھیں۔ حالانکہ بعد میں انہوں نے واضح کیا تھا کہ وہ سماجوادی پارٹی میں ہی بنے رہیں گے۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: