உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    مدھیہ پردیش: بھوپال میں کرسمس تہوار پر قومی یکجہتی کے ساتھ منایا گیا جشن

    مدھیہ پردیش کی راجدھانی بھوپال صرف نوابوں کی نگری، جھیلوں اور تالابوں کا شہر نہیں ہے بلکہ اسے یکجہتی کا شہر بھی کہا جاتا ہے۔ یہاں پر سبھی تیج تہوار نہ صرف مل جل کر منانے کی روایت ہے بلکہ ایک دوسرے کو دکھ سکھ میں بھی یہاں کے لوگ ایک دوسرے کے مدد گار بنتے ہیں۔ کرسمس کے تہوار کے موقع پر بھی بھوپال میں جگہ جگہ پر یکجہتی کے رنگ دیکھنے کو ملے۔

    مدھیہ پردیش کی راجدھانی بھوپال صرف نوابوں کی نگری، جھیلوں اور تالابوں کا شہر نہیں ہے بلکہ اسے یکجہتی کا شہر بھی کہا جاتا ہے۔ یہاں پر سبھی تیج تہوار نہ صرف مل جل کر منانے کی روایت ہے بلکہ ایک دوسرے کو دکھ سکھ میں بھی یہاں کے لوگ ایک دوسرے کے مدد گار بنتے ہیں۔ کرسمس کے تہوار کے موقع پر بھی بھوپال میں جگہ جگہ پر یکجہتی کے رنگ دیکھنے کو ملے۔

    مدھیہ پردیش کی راجدھانی بھوپال صرف نوابوں کی نگری، جھیلوں اور تالابوں کا شہر نہیں ہے بلکہ اسے یکجہتی کا شہر بھی کہا جاتا ہے۔ یہاں پر سبھی تیج تہوار نہ صرف مل جل کر منانے کی روایت ہے بلکہ ایک دوسرے کو دکھ سکھ میں بھی یہاں کے لوگ ایک دوسرے کے مدد گار بنتے ہیں۔ کرسمس کے تہوار کے موقع پر بھی بھوپال میں جگہ جگہ پر یکجہتی کے رنگ دیکھنے کو ملے۔

    • Share this:
    بھوپال: مدھیہ پردیش کی راجدھانی بھوپال صرف نوابوں کی نگری، جھیلوں اور تالابوں کا شہر نہیں ہے بلکہ اسے یکجہتی کا شہر بھی کہا جاتا ہے۔ یہاں پر سبھی تیج تہوار نہ صرف مل جل کر منانے کی روایت ہے بلکہ ایک دوسرے کو دکھ سکھ میں بھی یہاں کے لوگ ایک دوسرے کے مدد گار بنتے ہیں۔ کرسمس کے تہوار کے موقع پر بھی بھوپال میں جگہ جگہ پر یکجہتی کے رنگ دیکھنے کو ملے۔ جمیعت علما، سرودھرم سدبھاؤنا منچ کے ذمہ داران نے آرک بشپ اور دیگر عیسائی رہنماؤں سے مل کر انہیں مبارکباد پیش کی اور یکجہتی کے کارواں کو آگے بڑھانے کا عہد کیا گیا۔
    آرک بشپ اے اے ایس دورائی راج کہتے ہیں کرسمس عیسائی مذہب کے ماننے والوں کے لئے بہت مقدس دن ہے۔ انسانیت کی خدمت کے لئے ایشور دھرتی پر آئے اور ہمیں خدمت خلق کا درس دیا۔ انہوں نے سب کو محبت پھیلانے کا سندیش (پیغام) دیا۔ اسی لئے انہیں شانتی (امن) کا راجہ کہا جاتا ہے اور ہم دعا کرتے ہیں کہ نہ صرف ہمارے بلکہ سبھی گھروں میں امن و سکون ہو، ہمارے شہر اور ملک میں امن وامان ہو۔ ایشو جہاں بھی دنیا میں اندھیرا ہے وہاں پر روشنی لائیں۔ اس لئے صرف عیسائی کا ہی نہیں بلکہ سبھی انسانوں کا فرض ہے کہ جہاں کہیں بھی اندھیرا ہے، وہاں پر روشنی پھیلائی جائے۔کورونا کا خاتمہ ہو اور ہم سب لوگ اس مہا بھارت کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے میں معاون بنیں یہی دعا ہے۔
    عیسائی مذہبی رہنما فادر آنند مٹنگل کہتے ہیں کہ کرسمس کا پیغام دنیا میں امن و سکون کا عام کرنا ہے۔ بھارت اور پوری دنیا میں امن و سکون ہو اور ہم سب مل کر بھائی بہن کی طرح ایک دوسرے پر خوشیاں قربان کرنے والے بنیں۔
    سرودھرم سدبھاؤنا منچ کے نائب صدر اور ایم پی جمیعت علما کے صدر حاجی محمد ہارون کہتے ہیں کہ آج کرسمس کا دن ہے اور ہم سب لوگ یہاں پر مبارکباد دینے کے لئے حاضر ہوئے ہیں۔ آج کا دن عیسائی مذہب کے لئے اہم ہے تو مذہبی اعتبار سے حضرت عیسی علیہ السلام ہمارے بنی تھے۔ حضرت آدم سے لے کر محمد صلی اللہ علیہ وسلم تک جتنے بھی نبی آئے ہیں، سب نے محبت کا پیغام دیا ہے۔ عیسیٰ علیہ السلام ہوں، موسیٰ علیہ السلام ہوں، گوتم بدھ ہوں، رام جی ہوں سبھی کا احترام کرنا چاہئے، جو لوگ ان عظیم لوگوں کا احترام نہیں کرتے ہیں، وہ غلط ہیں ہیں۔ سبھی کو اپنی عقیدت کے مطابق اپنے رہنما کو ماننے کا حق ہے، لیکن کسی کی دل آزاری اور بے ادبی نہیں ہونی چاہئے۔ ہم لوگ بس یہی چاہتے ہیں کہ محبت کا کارواں آگے بڑھتا رہے اور دنیا سے نفرت کا خاتمہ ہو اور دنیا امن کا گہوارہ بن جائے۔
    وہیں سماجی کارکن شیلندر شیلی کہتے ہیں کہ  آج کہ دن کا سب سے بڑا پیغام یہی ہے کہ پوری دنیا میں پیار، محبت اور بھائی چارہ قائم رہے۔ دنیا میں امن و امان رہے اور کہیں بھی جنگ کا نام و نشان نہ ہو۔ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں ہے، لیکن گزشتہ چند سالوں سے ملک میں جس طرح سے فاشسٹ طاقتوں نے نفرت کی آگ پھیلایا ہے، اس سے ملک کو بچانے کی ضرورت ہے۔ فاشسٹ طاقتیں اپنا کام کر رہی ہیں تو ہم محبت کرنے والے اپنا کام کررہے ہیں۔
    ایک کرن مہر کی ظلمات پہ بھاری ہوگی
    رات ان کی ہے مگر صبح ہماری ہوگی
    Published by:Nisar Ahmad
    First published: