اپنا ضلع منتخب کریں۔

    Madhya Pradesh: بھوپال میں بچوں کے معمولی سے جھگڑے پر فرقہ وارانہ تشدد، پچاس سے زائد افراد زخمی

    مدھیہ پردیش کی راجدھانی بھوپال سے متصل ضلع رائیسین کے سلوانی تھانہ کے پرتاپ گڑھ جتھوڑی کے پاس واقع گاؤں کھمریا پوڑی میں بچوں کے معمولی جھگڑے نے فرقہ وارانہ تشدد کی شکل اختیار کرلی۔ تنازعہ اتنا بڑھا کہ بڑوں نے بجھائے معاملہ حل کرنے کے بجائے ایک د وسرے پر لاٹھی ڈنڈوں سے نہ صرف حملہ کیا بلکہ مارپیٹ اور پتھربازی کے ساتھ آگ زنی کو بھی انجام دیا گیا۔

    مدھیہ پردیش کی راجدھانی بھوپال سے متصل ضلع رائیسین کے سلوانی تھانہ کے پرتاپ گڑھ جتھوڑی کے پاس واقع گاؤں کھمریا پوڑی میں بچوں کے معمولی جھگڑے نے فرقہ وارانہ تشدد کی شکل اختیار کرلی۔ تنازعہ اتنا بڑھا کہ بڑوں نے بجھائے معاملہ حل کرنے کے بجائے ایک د وسرے پر لاٹھی ڈنڈوں سے نہ صرف حملہ کیا بلکہ مارپیٹ اور پتھربازی کے ساتھ آگ زنی کو بھی انجام دیا گیا۔

    مدھیہ پردیش کی راجدھانی بھوپال سے متصل ضلع رائیسین کے سلوانی تھانہ کے پرتاپ گڑھ جتھوڑی کے پاس واقع گاؤں کھمریا پوڑی میں بچوں کے معمولی جھگڑے نے فرقہ وارانہ تشدد کی شکل اختیار کرلی۔ تنازعہ اتنا بڑھا کہ بڑوں نے بجھائے معاملہ حل کرنے کے بجائے ایک د وسرے پر لاٹھی ڈنڈوں سے نہ صرف حملہ کیا بلکہ مارپیٹ اور پتھربازی کے ساتھ آگ زنی کو بھی انجام دیا گیا۔

    • Share this:
    بھوپال: مدھیہ پردیش کی راجدھانی بھوپال سے متصل ضلع رائیسین کے سلوانی تھانہ کے پرتاپ گڑھ جتھوڑی کے پاس واقع گاؤں کھمریا پوڑی میں بچوں کے معمولی جھگڑے نے فرقہ وارانہ تشدد کی شکل اختیار کرلی۔ تنازعہ اتنا بڑھا کہ بڑوں نے بجھائے معاملہ حل کرنے کے بجائے ایک د وسرے پر لاٹھی ڈنڈوں سے نہ صرف حملہ کیا بلکہ مارپیٹ اور پتھربازی کے ساتھ آگ زنی کو بھی انجام دیا گیا۔ شرپسندوں نے گاڑیوں میں آگ لگائی گئی۔

    فرقہ وارانہ تشدد میں پچاس سے زیادہ لوگ زخمی ہوئے، جنہیں مقامی اسپتال میں علاج کے لئے داخل کرایا گیا۔ حالات کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے چار تھانوں کی پولیس کو تعینات کردیا گیا ہے۔ حالات اب پوری طرح پرامن ہیں، لیکن انتظامیہ کی جانب سے موقع پر اضافی فورس کو تعینات کیا گیا ہے۔تشدد کی خبر ملتے ہیں رائیسین ضلع کے اعلی حکام  بھی موقع پرپہنچ گئے ہیں۔

    یہ بھی پڑھیں۔

    Madhya Pradesh: ہولی پر بھوپال میں پیش کی گئی یکجہتی کی انوکھی مثال
    رائیسین ایس پی وکاس کمار شہوال نے نیوز ایٹین اردو کو بتایا کہ ابتدائی تفتیش جو بات سامنے نکل کر آئی ہے وہ بچوں کا معمولی جھگڑا تھا، جس نےتشدد کی شکل اختیار کرلی تھی۔اب حالات پوری طرح سے کنٹرول میں ہیں ۔سلوانی تھانہ کے علاوہ تین اور تھانوں کی پولیس فورس کو تعینات کردیا گیا ہے۔ زخمیوں کا اسپتال میں علاج جاری ہے۔ کچھ لوگوں کو معمولی چوٹیں آئیں تھیں، جنہیں علاج کے بعد اسپتال سے ڈسچارج کردیا گیا ہے۔

    پولیس کے ذریعہ شرپسند عناصر کی تلاش کی جاری ہے۔ اب تک ایک درجن لوگوں کو گرفتارکرلیا گیا ہے۔ قانون کو ہاتھ میں لینے والوں کے خلاف سخت کاروائی کی جائے گی۔ وہیں مدھیہ پردیش کانگریس کے سکریٹری عبدالنفیس کہتے ہیں کہ بچوں کا معمولی جھںگڑا اتنا نہیں بڑھتا، اگر پولیس نے وقت پر اپنی بیداری کا ثبوت دیا ہوتا۔ کسی جگہ پر تشدد کا ہونا اور گھروں اور گاڑیوں کو آگا لگایا جانا اور پولیس کا تاخیر سے پہنچنا یہ بتاتا ہے کہ کہیں نہ کہیں چوک ہوئی ہے۔ ہم اس معاملے کو لے کر حکومت سے جانچ کا مطالبہ کرتے ہیں اور حکومت سے یہ بھی مطالبہ کرتے ہیں کہ کارروائی کپڑے کی بنیاد پر نہیں بلکہ جرم کی بنیاد پر کی جانی چاہئے۔ اب تک پولیس کی جوکارروائی کی گئی ہے وہ یکطرفہ ہے۔
    Published by:Nisar Ahmad
    First published: