உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    مندر کے دعوت نامہ میں ایک مسلم آئی اے ایس آفیسر کا نام، فرقہ پرست تنظیمیں چراغ پا

    بنگلورو۔ کرناٹک کے پٹر میں مندر کے ایک فیسٹیول سے متعلق دعوت نامہ پر اس لئے تنازعہ کھڑا ہو گیا ہے کیونکہ دعوت نامہ میں مدعوئین کی فہرست میں ایک مسلم ڈپٹی کمشنر کا نام بھی شامل ہے۔ وشو ہندوپریشد اور بجرنگ دل نے شری مہالنگیشور ٹیمپل کے سالانہ فیسٹول کے دعوت نامہ میں دکشن کنڑ ڈپٹی کمشنر اے بی ابراہیم کا نام شامل ہونے پر اعتراض جتایا ہے۔

    بنگلورو۔ کرناٹک کے پٹر میں مندر کے ایک فیسٹیول سے متعلق دعوت نامہ پر اس لئے تنازعہ کھڑا ہو گیا ہے کیونکہ دعوت نامہ میں مدعوئین کی فہرست میں ایک مسلم ڈپٹی کمشنر کا نام بھی شامل ہے۔ وشو ہندوپریشد اور بجرنگ دل نے شری مہالنگیشور ٹیمپل کے سالانہ فیسٹول کے دعوت نامہ میں دکشن کنڑ ڈپٹی کمشنر اے بی ابراہیم کا نام شامل ہونے پر اعتراض جتایا ہے۔

    بنگلورو۔ کرناٹک کے پٹر میں مندر کے ایک فیسٹیول سے متعلق دعوت نامہ پر اس لئے تنازعہ کھڑا ہو گیا ہے کیونکہ دعوت نامہ میں مدعوئین کی فہرست میں ایک مسلم ڈپٹی کمشنر کا نام بھی شامل ہے۔ وشو ہندوپریشد اور بجرنگ دل نے شری مہالنگیشور ٹیمپل کے سالانہ فیسٹول کے دعوت نامہ میں دکشن کنڑ ڈپٹی کمشنر اے بی ابراہیم کا نام شامل ہونے پر اعتراض جتایا ہے۔

    • Share this:

      بنگلورو۔ کرناٹک کے پٹر میں مندر کے ایک فیسٹیول سے متعلق دعوت نامہ پر اس لئے تنازعہ کھڑا ہو گیا ہے کیونکہ دعوت نامہ میں مدعوئین کی فہرست میں ایک مسلم ڈپٹی کمشنر کا نام بھی شامل ہے۔ وشو ہندوپریشد اور بجرنگ دل نے شری مہالنگیشور ٹیمپل کے سالانہ فیسٹول کے دعوت نامہ میں دکشن کنڑ ڈپٹی کمشنر اے بی ابراہیم کا نام شامل ہونے پر اعتراض جتایا ہے۔


      سی این این سے بات کرتے ہوئے ابراہیم نے کہا کہ انہوں نے مندر کے لئے بہت کچھ کیا ہے، لیکن تب کسی نے اس پر کوئی اعتراض نہیں کیا۔ اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ مندر کے لئے سی سی ٹی وی کیمروں اور ایک گاڑی کو انہوں نے ہی منظوری دی ہے، ابراہیم نے کہا کہ اس علاقہ میں تمام سرکاری پروگراموں پر نظر رکھنا ڈپٹی کمشنر کا کام ہے اور یہ پروٹوکول کے تحت آتا ہے۔ آئی ایس آفیسر نے کہا کہ یہ کوئی پہلی بار نہیں ہے، اس سے پہلے بھی اسی علاقہ میں مندر کے کئی دعوت ناموں میں میرا نام تھا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ دو برسوں میں مندر کے متعدد ذمہ داران کے ساتھ میں نے پچیس سے زائد بار ملاقاتیں کی ہیں۔


      دریں اثنا، حکومت نے یہ کہتے ہوئے مسلم آفیسر کا دفاع کیا ہے کہ حکومت کی زیرنگرانی مندروں کے دعوت نامہ میں اس درجہ کے آفیسر کا نام ہونا معمول کی بات ہے۔ دوسری طرف کرناٹک کے قانون، پارلیمانی امور اور اعلیٰ تعلیم کے وزیر ٹی بی جیا چندرا نے کہا کہ منگلور کے ڈپٹی کمشنر ابراہیم نے جو کچھ کیا ، وہ بالکل درست ہے۔ انہوں نے مزرئی محکمہ کے ضوابط کی محض پیروی کی ہے۔ ریاستی حکومت ان کا پورا ساتھ دے گی اور چند شدت پسند عناصر جو دعوت نامہ سے ان کا نام ہٹانے کا مطالبہ کر رہے ہیں ، ان کا نام ہٹانے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔


      فرقہ پرست تنظیموں نے اس معاملہ کو لے کر احتجاج کی دھمکی دی ہے اور انیس مارچ کو دکشن کنڑ ضلع میں بند کی اپیل کی ہے۔  خیال رہے کہ منگلور سے ساٹھ کلومیٹر کی دوری پر واقع پٹر میں مہالنگیشور مندر ہے اور ریاستی حکومت اس کا نظم ونسق دیکھتی ہے۔ انہیں مزرئی مندر کہا جاتا ہے اور ڈپٹی کمشنر مع ضلع مجسٹریٹ اپنے اپنے ضلع میں اس کے سربراہ ہوتے ہیں۔ مندروں کے مقامی مینجمنٹ بورڈوں کے ساتھ صلاح ومشورہ کر کے ڈپٹی کمشنر کو مذہبی تقریبات اور تہواروں کا انعقاد کرنا ہوتا ہے۔


      آئی اے ایس آفیسر ابراہیم کا تعلق منگلور سے ہے۔ اس سے پہلے وہ منگلور سٹی کارپوریشن کے کمشنر سمیت متعدد عہدوں پر اپنی خدمات انجام دے چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس واقعہ سے دکھی ہیں اور یہ کہ اسے غیر ضروری طور پر متنازع بنایا جا رہا ہے۔ قانون اور روایت کے مطابق ہی دعوت نامہ میں ان کا نام شامل کیا گیا ہے۔ وشو ہندو پریشد کی مقامی یونٹ نے اس پر اعتراض جتایا اور دعوت نامہ سے ان کا نام ہٹا نے کا مطالبہ کیا ہے۔


      نوکرشاہوں کے مطابق، کرناٹک میں ایسا پہلی بار ہو رہا ہے ۔ ماضی میں یہاں سینکڑوں غیر ہندو نوکرشاہوں نے اپنی خدمات انجام دی ہیں اور مذہب کی بنیاد پر انہیں اس طرح کے امتیاز کا کبھی سامنا کرنا نہیں پڑا ہے۔


      First published: