உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    SCO-CSTO میٹنگ: وزیر اعظم مودی نے کہا- بغیر بات چیت کے افغانستان پر قابض ہوا طالبان، سوچ سمجھ کر فیصلہ کرے عالمی برداری

    SCO-CSTO میٹنگ: وزیر اعظم مودی نے کہا- بغیر بات چیت کے افغانستان پر قابض ہوا طالبان، سوچ سمجھ کر فیصلہ کرے عالمی برداری

    SCO-CSTO میٹنگ: وزیر اعظم مودی نے کہا- بغیر بات چیت کے افغانستان پر قابض ہوا طالبان، سوچ سمجھ کر فیصلہ کرے عالمی برداری

    ہندوستان نے افغانستان میں طالبان کی حکومت کو مسلط کی گئی حکومت قرار دیا ہے اوراس سے دنیا میں دہشت گردی، بنیاد پرستی، عدم استحکام کا خطرہ اور ان کے ملک میں معاشی بحران بڑھنے کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے ممالک کو افغانستان کے معصوم لوگوں کو انسانی امداد فراہم کرنے کی اپیل کی۔

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:

      دوشنبے/نئی دہلی: ہندوستان نے افغانستان (Afghanistan) میں طالبان کی حکومت کو مسلط کی گئی حکومت قرار دیا ہے اوراس سے دنیا میں دہشت گردی، بنیاد پرستی، عدم استحکام کا خطرہ اور ان کے ملک میں معاشی بحران بڑھنے کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کے ممالک کو افغانستان کے معصوم لوگوں کو انسانی امداد فراہم کرنے کی اپیل کی۔ وزیر اعظم نریندر مودی (Narendra Modi) نے تاجکستان کے دارالحکومت دوشنبے میں ہائبرڈ موڈ میں منعقد ہونے والی 21 ویں چوٹی کانفرنس کے تحت افغانسان پروقت شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) سی ایس ٹی او آؤٹ ریچ سمٹ سے بھی ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کیا۔ اس موقع پر وزیر خارجہ ایس جے شنکر دوشنبے میں موجود تھے۔


      وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنے خطاب میں کہا کہ افغانستان میں حالیہ پیش رفت کا سب سے زیادہ اثرہندوستان جیسے پڑوسی ممالک پرہوگا۔ اس لیے اس مسئلے پرعلاقائی توجہ اور تعاون ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس تناظر میں ہمیں چارنکات پر توجہ مرکوز کرنے ہوگی۔ پہلا مسئلہ یہ ہے کہ افغانستان میں حکومت کی تبدیلی، بغیر کسی رضامندی یا معاہدے کے ہوئی ہے۔ دوسرا مسٔلہ یہ ہے کہ اگر افغانستان میں عدم استحکام اور بنیاد پرستی جاری رہی تو یہ پوری دنیا میں دہشت گردی اور انتہا پسند نظریات کوفروغ ملے گا۔ دوسرے شدت پسند گروہوں کو تشدد کے ذریعے اقتدار حاصل کرنے کی ترغیب مل سکتی ہے۔


      وزیر اعظم مودی نے کہا کہ افغانستان میں حالیہ پیش رفت سے متعلق تیسرا مسئلہ یہ ہے کہ اس سے منشیات ، غیر قانونی اسلحہ اور انسانی اسمگلنگ بڑھ سکتی ہے۔ بڑی مقدار میں جدید ہتھیارافغانستان میں رہ گئے ہیں۔ ان کی وجہ سے پورے خطے میں عدم استحکام کا خطرہ بنا رہے گا۔ چوتھا مسٔلہ افغانستان میں سنگین انسانی بحران کا ہے۔ مالی لین دین اور کاروبار میں خلل کی وجہ سے افغان عوام کی معاشی مجبوری بڑھتی جارہی ہے۔ ساتھ میں کووڈ کے چیلنج بھی ان کے لیے اذیت کا باعث ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ترقی اور انسانی امداد کے لیے ہندوستان کئی سالوں سے افغانستان کا قابل اعتماد شراکت دار رہا ہے۔ انفراسٹرکچر سے لے کر تعلیم ، صحت تک کے ہرشعبے میں اور افغانستان کے ہر حصے میں ، ہندوستان نے اپنا تعاون دیا ہے۔ انہوں نے کہا’’ آج بھی ہم اپنے افغان دوستوں تک کھانے پینے کی اشیاء ، ادویات وغیرہ پہنچانے کے خواہاں ہیں۔ ہم سب کو مل کر اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ افغانستان تک انسانی امداد بغیر کسی رکاوٹ کے پہنچ سکے‘‘۔

      Published by:Nisar Ahmad
      First published: