ہوم » نیوز » وطن نامہ

شادنگرانکاؤنٹر: ملزمین کی جانب سے فائرنگ کے بعد پولیس نے اپنے دفاع میں فائرنگ کی: پولیس

ملزمین نے پولیس سے ہتھیارچھین لیے اور پولیس ٹیم پر فائرنگ کردی۔ پولیس نے اپنے دفاع میں فائرنگ کی جس میں تمام ملزمین ہلاک ہوگئے

  • Share this:
شادنگرانکاؤنٹر: ملزمین کی جانب سے فائرنگ کے بعد پولیس نے اپنے دفاع میں فائرنگ کی: پولیس
حیدرآباد: ویٹرنری ڈاکٹر سے اجتماعی عصمت ریزی معاملہ تمام 4 ملزمین پولیس انکاؤنٹرمیں ہلاک

تلنگانہ کے دارالحکومت حیدرآباد کے قریب واقع شاد نگرمیں خاتون ویٹرنری ڈاکٹر سے اجتماعی عصمت ریزی قتل کیس کے چاروں ملزمین کو پولیس نے انکاؤنٹرمیں ہلاک کردیا۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر ایسا کیا ہوا کہ پولیس کو تمام ملزمین پر گولی چلانی پڑی۔ اس سوال کا جواب شمش آباد کے ڈی سی پی پرکاش ریڈی نے خود دیا ہے۔

بارہ تخلیق کرنے کے لئے مقام واردات پرلیکرگئی تھی تاکہ واقعے سے متعلقہ اقساط کوجوڑا جاسکے۔ اس دوران ملزمین نے پولیس سے ہتھیارچھین لیے اور پولیس ٹیم پر فائرنگ کردی۔ پولیس نے اپنے دفاع میں فائرنگ کی جس میں تمام ملزمین ہلاک ہوگئے

 

شمش آباد کے ڈی سی پی پرکاش ریڈی نے کہا، 'سائبرآباد پولیس ملزم کو جرائم کا منظردوبارہ اس سےپہلے،سائبرآباد پولیس کمشنر وی سی سجنار نے بتایا تھا کہ ملزم محمد عارف ، نوین ، شیوا اور چننیکاشوولو جمعہ کی صبح شاد نگر کے چٹناپلی میں پولیس انکاؤنٹر میں مارے گئے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ پورا واقعہ تین بجے سے چھ بجے کے درمیان ہوا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ چاروں ملزمین کو سات دن کے پولیس ریمانڈ پر لیا گیا تھا۔ جمعہ کی صبح پولیس نے تمام ملزمین کو اسی فلائی اوور کے نیچے لے گئے جہاں انہوں نے اجتماعی عصمت دری کے بعد متاثرہ ڈاکٹرعصمت دری کرکے قتل کرنے کے بعد لاش کوآگ لگادی تھی۔ پولیس نے بتایا کہ وہ جرائم کے منظرکوازسرنو تشکیل دینا چاہتی ہے، تاکہ وہ اس واقعے سے متعلق تمام معلومات حاصل کرسکے۔جب ملزمین کوموقع پر لایا گیا توانہوں نے پولیس کی بندوق چھین لی اور دھوئیں کا استعمال کرتے ہوئے فرار ہونے کی کوشش کی۔ کہاجاتا ہے کہ اس دوران ملزمین نے پولیس پر بھی فائرنگ کردی جس کے بعد پولیس کو بھی فائرنگ کرنا پڑا۔ دونوں اطراف کی فائرنگ سے چاروں ملزمین ہلاک ہوگئے۔
First published: Dec 06, 2019 01:18 PM IST