ہوم » نیوز » وسطی ہندوستان

مدھیہ پردیش اردو اکادمی کا تاریخی کارنامہ، شاعری کے ہنر میں چھوٹے شہر کے فنکاروں نے دکھایا جوہر

مدھیہ پردیش اردو اکادمی کے زیر اہتمام بھوپال میں منعقدہ تلاش جوہر پروگرام میں اردو شاعری کے نئے فنکاروں کو مدعو کیا گیا تھا، جس میں مدھیہ پردیش کے چھوٹے شہروں سے فنکاروں نے شاعری میں وہ ہنر دکھایا کہ اساتذہ سخن بھی حیران رہ گئے۔

  • Share this:
مدھیہ پردیش اردو اکادمی کا تاریخی کارنامہ، شاعری کے ہنر میں چھوٹے شہر کے فنکاروں نے دکھایا جوہر
مدھیہ پردیش اردو اکادمی کا تاریخی کارنامہ، شاعری کے ہنر میں چھوٹے شہر کے فنکاروں نے دکھایا جوہر

بھوپال: مدھیہ پردیش اردو زبان وادب کی جب بھی بات ہوتی ہے تو لوگوں کی نظر راجدھانی بھوپال کے بعد اندور، برہانپور، گوالیار، جبلپور پرجاکر مرکوز ہوجاتی ہے۔ لوگ زبان و ادب کے حوالے سے انہیں شہروں کے شعری و نثری فنکاروں کی بات بھی کرتے ہیں اور چھوٹے شہروں وقصبوں کا تو نام لینا بھی پسند نہیں کرتے ہیں۔ مدھیہ پردیش اردو اکادمی کے زیر اہتمام بھوپال میں منعقدہ تلاش جوہر پروگرام میں اردو شاعری کے نئے فنکاروں کو مدعو کیا گیا تھا، جس میں مدھیہ پردیش کے چھوٹے شہروں سے فنکاروں نے شاعری میں وہ ہنر دکھایا کہ اساتذہ سخن بھی حیران رہ گئے۔

مدھیہ پردیش اردو اکادمی نے ریاست میں اردو کے کارواں کو آگے بڑھانے کے لئے اور اردوکی نئی کو مواقع فراہم کرنے کی غرص سے تلاش جوہر پروگرام کا سلسلہ شروع کیا گیا ہے۔ تلاش جوہر پروگرام کے پہلے حصہ میں نثری اصناف میں طبع آزمائی کرنے والے نئی نسل کے فنکاروں کو مدعو کیا گیا تھا، جبکہ دوسرے مرحلے میں شعری اصناف میں طبع آزمائی کرنے والے نئی نسل کے فنکاروں کو موقع فراہم کرنے کے لئے انہیں مدعو کیا گیا۔ شعری اصناف میں طبع آزمائی کرنے کے نام پر اکادمی کے پاس نئی نسل کے فنکاروں کی جب بھرمار پہنچی تو اکادمی نے نئی نسل کے فنکاروں کا امتحان لینے کا فیصلہ کیا۔




بھوپال کے ککٹ بھون میں پروگرام کا انعقاد کیا گیا اور نئی نسل کے فنکاروں کو طرحی مصرعہ دیتے ہوئے انہیں ایک گھنٹے کا ایک وقت دیاگیا۔ نئے فنکاروں کے کلام کو جانچنےکے لئے اساتذہ سخن کو بھی بلایا گیا اور جب اساتذہ سخن نے ان کے کلام کو چیک کیا اور اسٹیج پر بلاکر ان سے بات کی تو ان کی حیرت کی انتہا نہیں رہی۔ تلاش جوہر پروگرام میں دموہ کے فنکار انیس خان نے اول، دموہ کے ہی عطا وارث نے دوئم چھندواڑہ کے راکیش راج نے سوئم مقام حاصل کیا جبکہ بھوپال، اندور، گوالیار، جبلپور، برہانپور،کھنڈوہ، ساگر وغیرہ کے فنکار تو شمار میں بھی نہیں آسکے۔
مدھیہ پردیش اردو اکادمی کی سکریٹری نصرت مہدی کہتی ہیں کہ ہمارا مقصد نئی نسل کو اسٹیج فراہم کرانا ہے۔ عام طور پر اردو زبان و ادب کی جب بھی بات ہوتی تو ہے، تو نئی نسل کو لے کر مایوسی کی بات کی جاتی ہے۔ یہاں پرنئی نسل کے فنکاروں نے جس طرح سے اپنا ہنر دکھایا ہے، اس سے ثابت ہوتا ہے کہ نئی نسل غافل نہیں ہے، بس اسے موقع فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔ ہم انہیں موقع فراہم کریں گے تاکہ ہمارا اردو کاکارواں یوں ہی آگے بڑھتا رہے۔ تلاش جوہر پروگرام کے پہلے حصے میں ڈاکٹر محمد اعظم، ڈاکٹر احسان اعظمی اور عابدکاظمی نے جج کے فرائض انجام دیئے جبکہ دوسرے حصے میں ظفر صہبائی، فاروق انجم اور ملک نوید نے حکم کا فریضہ انجام دیا۔


قاضی ملک نوید کہتے ہیں کہ نئی نسل کے ہمارے فنکاروں میں بہت صلاحیت ہیں ،انہیں منزل کا راستہ دکھانے کی ضرورت ہے۔ یہاں پر آنے والے نئے فنکاروں نے اپنے ہنر سے بتادیا کہ ہنر کسی کی میراث نہیں ہے ۔ جو محنت کریگا کامیابی اس کے قدم چومے گی ۔ چھوٹے شہروں کے فنکاروں نے منزل کے حصول کے لئے محنت کی اور وہ کامیاب رہے۔ ممتاز استاد شاعر اور پروگرام کے جج ظفر صہبائی کہتے ہیں کہ چھوٹے شہروں کے فنکاروں نے اردو شاعری میں اپنے ہنر سے بڑے شہروں کے لئے ایک نیامقابلہ پیدا کردیا ہے۔ اردو شاعری میں چھندواڑہ اور دموہ وغیرہ کا کبھی شمار بھی نہیں ہوتا ہے، مگر جس طرح سے ان شہروں کے فنکاروں نے اپنا ہنر دکھایا ہے اس سے ثابت ہوتا ہے کہ نئی نسل میں اردو زبان و شعروادب کو لے کر دلچسپی بڑھ رہی ہے اور یہی وقت کی ضرورت بھی ہے۔ پروگرام کے اختتام پر اکادمی کی جانب سے صوفیانہ محفل کا انعقادکیا گیا۔ صوفیانہ محفل میں ممتازگلوکار عارف لطیف نے کلام پیش کرکے سامعین کو محظوظ کیا۔ اس موقع پر اکادمی کے سہ ماہی رسالہ تمثیل کا بھی اجرا کیا گیا۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Mar 25, 2021 12:00 AM IST