உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Gyan Vapi Mosque Case: جمعیۃ علماء ہند نے ٹی وی پر بحث ومباحثہ کو غیر ضروری قرار دیا

    Gyanvapi Masjid Case: یکم جون سے گرمی کی چھٹیاں، اب چار جولائی کو ہوگی سماعت

    Gyanvapi Masjid Case: یکم جون سے گرمی کی چھٹیاں، اب چار جولائی کو ہوگی سماعت

    مولانا ارشد مدنی جمعیۃ علماء مہاراشٹر قانونی امدادکمیٹی کے سربراہ گلزاراعظمی نے بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ مسلم نمائندوں کو گیان واپی مسجد اور دیگر مساجد پر بحث کرنے کے لئے ٹی وی چینلوں پر جانا مناسب نہیں ہے، بغیر کسی تیاری کے بحث میں حصہ لینے والوں کو گودی میڈیا کے شکنجے سے بچنے کے لئے ایسے پروگرام میں شرکت نہیں کرنا چاہئے۔

    • Share this:
    نئی دہلی: گیان واپی مسجد مقدمہ وارانسی سیشن عدالت میں زیر سماعت ہے اور مسلم فریق (انجمن انتظامیہ مسجد کمیٹی) کی طرٖ ف سے وکلاء کامیاب پیروی کر رہے ہیں۔ دوسری طرف میڈیا میں بھی روز مقدمہ کو لے کر بحث و مباحثہ ہوتا ہے، جس میں بحث کرنے والے گیان واپی مسجد کے سلسلہ میں کما حقہ واقفیت نہیں رکھتے، جس کی بنا پر آگے چل کر مقدمہ کی کارروائی پر غلط اثرات مرتب ہونے کا اندیشہ ہے۔

    ٹی وی بحث ومباحثہ میں جانبدار میڈیا مسلمانوں کی نمائندگی کے لئے ایسے لوگوں کو پیش کرتا ہے، جنہیں نہ تو مقدمہ کی نوعیت کا علم ہوتا ہے اور نہ ہی مقدمہ کی پیچیدگیوں کی انہیں سمجھ ہوتی ہے۔ جمعیۃ علماء مہاراشٹر قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی نے آج ممبئی میں ایک اخباری بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ مسلم نمائندوں کو گیان واپی مسجد اور دیگر مساجد پربحث کرنے کے لئے ٹی وی چینلوں پرجانا مناسب نہیں ہے، بغیرکسی تیاری کے بحث میں حصہ لینے والوں کو گودی میڈیا کے شکنجے سے بچنے کے لئے ایسے پروگرام میں شرکت نہیں کرنا چاہئے۔

    مولانا ارشد مدنی جمعیۃ علماء مہاراشٹر قانونی امدادکمیٹی کے سربراہ گلزاراعظمی نے بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ مسلم نمائندوں کو گیان واپی مسجد اور دیگر مساجد پر بحث کرنے کے لئے ٹی وی چینلوں پر جانا مناسب نہیں ہے۔
    مولانا ارشد مدنی جمعیۃ علماء مہاراشٹر قانونی امدادکمیٹی کے سربراہ گلزاراعظمی نے بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ مسلم نمائندوں کو گیان واپی مسجد اور دیگر مساجد پر بحث کرنے کے لئے ٹی وی چینلوں پر جانا مناسب نہیں ہے۔


    گلزار اعظمی نے کہا کہ ایک جانب جہاں انجمن انتظامیہ مسجد کمیٹی ضلعی عدالت میں مقدمہ کی پیروی کر رہی ہے۔ وہیں سپریم کورٹ میں وشو بھدرا پجاری پروہت مہا سنگھ اور دیگر نے پلیس آف ورشپ قانون 1991 کی قانونی حیثیت کو چیلنج کرتے ہوئے عدالت سے کہا ہے کہ یہ قانون غیر آئینی ہے، لہٰذا اسے ختم کیا جائے تاکہ گیان واپی مسجد سمیت دیگر مساجد کو مندر وں میں تبدیل کیا جاسکے۔

    یہ بھی پڑھیں۔

    Gyanvapi Case: سناتن سنگھ نے وکیل ہری شنکر جین اور وشنو جین کو کیس کی پیروی کرنے سے ہٹایا 

    معاملے کی حساسیت اور اہمیت کے پیش نظر صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا ارشدمدنی کی خاص ہدایت پرجمعیۃ علماء ہند نے وشو بھدرا پجاری پروہت مہا سنگھ اور دیگرکی جانب سے داخل پٹیشن کی مخالفت کرنے کے لئے مداخلت کار کی درخواست سپریم کورٹ آف انڈیا میں داخل کردی ہے، جس کا نمبر 54990/2020 IA-ہے۔ اس پٹیشن پر ایک مرتبہ 10جولائی 2020 کو سماعت عمل میں آئی تھی، جمعیۃ علماء کی جانب سے سینئرایڈوکیٹ ڈاکٹر راجیو دھون عدالت میں پیش ہوئے تھے اور اب 19 جولائی 2022 کو ایک مرتبہ پھراس پٹیشن پر سپریم کورٹ آف انڈیا میں سماعت متوقع ہے۔

    گلزار اعظمی نے کہا کہ پلیس آف ورشپ قانون کو چیلنج کرنے کے لئے سپریم کورٹ میں دیگر ہندو تنظیموں نے پٹیشن داخل کی ہے۔ جمعیۃ علما ء ہند ان تمام عرضداشتوں کی مخالفت کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ ٹی وی اور دیگر ذرائع ابلاغ پربحث کرنے والے نام نہاد مسلم نمائندوں کو اپنی روش سے باز آجانا چاہئے، ان کی ان حرکتوں سے فائدہ تو کچھ ہوگا نہیں، لیکن نقصان ضرور ہوگا۔ مباحثہ میں حصہ لینے والے حضرات اس بات کا خاص خیال رکھیں کہ فیصلہ ٹی وی چینلوں پر نہیں بلکہ عدالتوں میں ہوگا۔
    Published by:Nisar Ahmad
    First published: