உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    کھرگون تشدد میں Police نے لکھی جبر کی داستان، دونوں ہاتھوں سے معذور وسیم شیخ کو بتادیا ‘دنگائی‘

    کھرگون تشدد میں پولیس نے دونوں ہاتھوں سے معذور وسیم شیخ کو بتادیا ‘دنگائی‘

    کھرگون تشدد میں پولیس نے دونوں ہاتھوں سے معذور وسیم شیخ کو بتادیا ‘دنگائی‘

    کھرگون کے سنجے نگر میں رہنے والے وسیم شیخ جو دونوں ہاتھوں سے معذور ہیں، انہیں بھی پولیس کے ذریعہ دنگائی بتاکر ان کی گمٹی کو جہاں توڑا گیا۔ وہیں دوسری جانب تشدد میں کپرگون اسلام پورہ سے لا پتہ ادریس عرف صدام کی لاش اندور کے اسپتال میں پائے جانے سے ایک نئی سیاست شروع ہوگئی ہے۔ صدام کی موت اور دونوں ہاتھوں سے معذور وسیم شیخ کی گمٹی توڑنے کے معاملے میں وزیر داخلہ کا کہنا ہے کہ معاملہ درج کیا گیا ہے اور اس کی جانچ کی جا رہی ہے۔

    • Share this:
    بھوپال: مدھیہ پردیش کے کھرگون میں رام نومی پر 10اپریل کو ہوئے تشدد اور پولیس کے جبر کی داستان اب ایک ایک کر کے سامنے آرہی ہے۔ کھرگون میں تشدد کے 10 دن بعد حالات تو پُرامن ہیں، لیکن انتظامیہ کے ذریعہ تشدد کے نام پر مقامی لوگوں کو جو زخم دیئے گئے ہیں، وہ بھرنے کا نام نہیں لے رہے ہیں۔ کھرگون کے سنجے نگر میں رہنے والے وسیم شیخ جو دونوں ہاتھوں سے معذور ہیں، انہیں بھی پولیس کے ذریعہ دنگائی بتاکر ان کی گمٹی کو جہاں توڑا گیا۔

    وہیں دوسری جانب تشدد میں کپرگون اسلام پورہ سے لا پتہ ادریس عرف صدام کی لاش اندور کے اسپتال میں پائے جانے سے ایک نئی سیاست شروع ہوگئی ہے۔ صدام کی موت اور دونوں ہاتھوں سے معذور وسیم شیخ کی گمٹی توڑنے کے معاملے میں وزیر داخلہ کا کہنا ہے کہ معاملہ درج کیا گیا ہے اور اس کی جانچ کی جا رہی ہے۔

    مدھیہ پردیش کے کھرگون میں رام نومی پر 10اپریل کو ہوئے تشدد اور پولیس کے جبر کی داستان اب ایک ایک کر کے سامنے آرہی ہے۔
    مدھیہ پردیش کے کھرگون میں رام نومی پر 10اپریل کو ہوئے تشدد اور پولیس کے جبر کی داستان اب ایک ایک کر کے سامنے آرہی ہے۔


    واضح رہے کہ مدھیہ پردیش کے کھرگون میں 10 اپریل کو رام نومی جلوس کے دوران تشدد ہونے کے سبب  شہر میں سخت کرفیو کا نفاذ کردیا گیا تھا۔ حالات سازگار ہونے کے بعد جب کرفیو میں کچھ نرمی دی گئی تو دونوں ہاتھوں سے معذور وسیم شیخ اپنی گمٹی دیکھنے کے لئے گئے، لیکن وہاں پرگمٹی کی جگہ اس کے ٹوٹے ہوئے حصے ملے۔ وسیم شیخ نے نیوز ایٹین اردو کو اپنا درد بیان کرتے ہوئے بتایا کہ فسادی ہونے کے الزام میں میری گمٹی بھی توڑ دی گئی ہے۔ میں دنگائی کیسے ہو سکتا ہوں جبکہ میرے دونوں ہاتھ ہی نہیں ہیں۔ میں تو خود سے کھانا کھانے اور پانی پینے کے لئے بھی دوسروں کا محتاج ہوں۔ میری دوکان توڑنے سے پہلے انتظامیہ کے ذریعہ مجھے نہ تو اطلاع دی گئی ہے اور نہ ہی اس سلسلہ میں مجھے کوئی نوٹس دیا گیا۔ میں پیشے سے پینٹر تھا، پانچ جنوری 2005 کو کرنٹ لگنے کے سبب میرے دونوں ہاتھ شدید طورپر زخمی ہوگئے اور ڈاکٹروں کے ذریعہ میری جان بچانے کے لئے میرے ہاتھ کو کاٹنا پڑا تھا۔ پیٹ اورپیر میں زخم کے نشان اب بھی ہیں۔موہن ٹاکیز علاقہ میں بسکٹ کی گمٹی لگاکرخاندان  کا پیٹ پال رہا تھا۔ اب تو میرے پاس کچھ بھی نہیں ہے، جس سے گھر کے لوگوں کی کفالت کر سکوں۔

    دوسری جانب کپرگون تحصیلدار یوگیندر سنگھ کا کہنا ہے کہ گمٹی سرکاری زمین پر رکھی گئی تھی۔ انہدامی کارروائی کے دوران گمٹی توڑی گئی ہے۔ یہ گمٹی کس کی ہے، یہ جانچ کا پہلو ہے۔ وہیں مدھیہ پردیش کے وزیر داخلہ ڈاکٹر نروتم مشرا کا کہنا ہے کہ صدام کے معاملے میں شناخت نہیں ہونے کے سبب اس کی لاش کو رکھا گیا تھا۔ جب گھرکے لوگوں نے گمشدگی کی رپورٹ درج کرائی تو ان سے شناخت کرائی گئی۔ صدام کی تجہیز و تدفین کی جا چکی ہے۔ اس معاملے کو جانچ میں لے لیا گیا ہے، جو بھی رپورٹ آئے گی کارروائی ہوگی۔ وسیم شیخ کا معاملہ بھی جانکاری میں آیا ہے۔ اس کی جانچ کی جا رہی ہے۔
    Published by:Nisar Ahmad
    First published: