ہوم » نیوز » وسطی ہندوستان

مدھیہ پردیش کی سیاست میں شہ مات کا کھیل جاری، کانگریس نے شیو راج سنگھ چوہان کے خلاف اٹھایا یہ بڑا قدم

کانگریس کے 23 اراکین اسمبلی کے بی جے پی میں شامل ہونے کے بعد کانگریس کے ریاستی صدر اور سابق وزیراعلیٰ کمل ناتھ نے شیوراج سنگھ کے برادر نسبتی سنجے سنگھ کو بڑا تحفہ دے کر بی جے پی کو جھٹکا دیا ہے۔

  • Share this:
مدھیہ پردیش کی سیاست میں شہ مات کا کھیل جاری، کانگریس نے شیو راج سنگھ چوہان کے خلاف اٹھایا یہ بڑا قدم
مدھیہ پردیش کی سیاست میں شہ مات کا کھیل جاری، کانگریس اور بی جے پی میں سیاسی گھمسان جاری

بھوپال: مدھیہ پردیش کی سیاست میں شہ اور مات کا کھیل جاری ہے۔ کانگریس کے 23  ممبران اسمبلی جہاں کانگریس کو چھوڑ کر بی جے پی کا دامن تھا م چکے ہیں او ربی جے پی نے ان میں سے نصف سے زیادہ کو وزارت میں شامل کر کے انہیں اقتدا ر میں رہنےکا بڑا تحفہ دیا ہے۔ وہیں مدھیہ پردیش کانگریس صدر اور سابق وزیراعلیٰ کمل ناتھ نے شیوراج سنگھ کے برادر نسبتی سنجے سنگھ کو بڑا تحفہ دے کر بی جے پی کو جھٹکادیا ہے۔ سیاسی حلقوں میں ایم پی پی سی سی چیف کمل ناتھ کے ذریعہ شیوراج سنگھ کے برادر نسبتی سنجے سنگھ کودیئے گئے تحفہ کے بہت سے معنی نکالےجا رہے ہیں۔ کیونکہ ایم پی پی سی سی چیف کمل ناتھ نے شیوراج سنگھ کے برادر نسبتی سنجے سنگھ مسانی کو نہ صرف ایم پی کانگریس کے نائب صدر کے عہدے پر تقرر کیا ہے بلکہ مدھیہ پردیش میں ہونے والے اسمبلی کے ضمنی انتخابات کی تشہیر کے لئے صوبائی کمیٹی کے کوآرڈینیٹر کی بھی ذمہ داری سپرد کی ہے۔ سنجے سنگھ مسانی شیوراج سنگھ کی اہلیہ سادھنا سنگھ کے بھائی ہیں۔

واضح رہے کہ مدھیہ پردیش اسمبلی کے 25  سیٹوں پر ضمنی انتخابات ہونا ہے اور ضمنی انتخابات کے پیش نظر ہی مدھیہ پردیش میں کانگریس اور بی جے پی کے درمیان شہ مات کا کھیل جاری ہے۔ کانگریس نے جہاں شیوراج سنگھ کے برادر نسبتی کو بڑے عہدے پر فائز کرکے عوام کو یہ پیغام دینے کی کوشش کی ہے کہ جب شیوراج سنگھ  اپنے برادرنسبتی کو اپنے ساتھ نہیں رکھ پا رہے ہیں تو پارٹی کے باقی لیڈروں کے ساتھ ان کا رویہ کیا ہوگا، یہ سمجھا جا سکتا ہے۔


بی جے پی کا کہنا ہے کہ سنجے سنگھ کے نام سے بی جے پی کو کوئی نقصان نہیں ہونے والا ہے۔
بی جے پی کا کہنا ہے کہ
سنجے سنگھ کے نام سے بی جے پی کو کوئی نقصان نہیں ہونے والا ہے۔


مدھیہ پردیش کانگریس کے سینئر لیڈر و سابق وزیر قانون پی سی شرما کہتے ہیں کہ شیوراج سنگھ کی زندگی جھوٹ اور مکرو فریب کا مرکز ہے۔ جتنے بھی وعدے کئے گئے ہیں، عوام سے اب تک ان میں سے کچھ بھی پورا نہیں کیا جا سکا ہے۔ یہ اگر وعدہ وفا ہوتے ہیں تو ان کے برادر نسبتی ان کے ساتھ ہوتے نہ کہ ہمارے ساتھ۔ کانگریس  سب کو ساتھ لے کر چلتی ہے اور سبھی پارٹی کارکنا ن کو ان کی صلاحیت کی بنیاد پر کام دیتی ہے۔ سنجے سنگھ کو بھی ایم پی پی سی سی چیف کمل ناتھ نے صوبہ میں کانگریس پارٹی کا نائب صدر بنانے کے ساتھ ضمنی اسمبلی انتخابات کی تشہیری کمیٹی کا کوآرڈینٹیر بھی بنایا ہے۔ پارٹی کو ان کے تجربات سے فائدہ ملےگا۔
وہیں بی جے پی کے سینئر لیڈر اور وزیر گیس راحت وشواس سارگن کہتے ہیں کہ سنجے سنگھ کے نام سے بی جے پی کو کوئی نقصان نہیں ہونے والا ہے۔ کانگریس جذبات کی سیاست کرنے چاہتی ہے اور سنجے سنگھ کے نام کو سامنے رکھ کر عوام کو گمراہ کرنا چاہتی ہے، لیکن مدھیہ پردیش کی عوام بہت ہوشیار ہے، اسے سب معلوم ہےکہ کانگریس کے قول و فعل میں کتنا تضاد ہے۔ کانگریس لوگوں کو استعمال کرتی ہے پھر چھوڑ دیتی ہے۔ کانگریس کے دوہرے معیار کی وجہ سے بڑی تعداد میں کانگریس کے ممبران اسمبلی بی جے پی دامن سے وابستہ ہوئے ہیں۔

مدھیہ پردیش اسمبلی کے 25 سیٹوں پر ضمنی انتخابات ہونا ہے اور ضمنی انتخابات کے پیش نظر ہی مدھیہ پردیش میں کانگریس اور بی جے پی کے درمیان شہ مات کا کھیل جاری ہے۔ علامتی تصویر
مدھیہ پردیش اسمبلی کے 25 سیٹوں پر ضمنی انتخابات ہونا ہے اور ضمنی انتخابات کے پیش نظر ہی مدھیہ پردیش میں کانگریس اور بی جے پی کے درمیان شہ مات کا کھیل جاری ہے۔ علامتی تصویر


وہیں مدھیہ پردیش کانگریس کے ترجمان منور کوثر کہتے ہیں کہ جب شیوراج سنگھ  اپنے برادر نسبتی کو نہیں سنبھال سکے اور ان کے ساتھ زیادتی ہوئی تبھی تو انہوں نے کانگریس کا دامن تھاما ہے۔ سنجے سنگھ کی طرح اور لوگ بھی آنے والے دنوں میں کانگریس سے وابستہ ہوں گے اور مدھیہ پردیش میں کانگریس کمل ناتھ کی قیادت میں اور مضبوط ہو کر سامنے آئے گی اور اسمبلی کے ضمنی انتخابات میں بی جے کا سارا بھرم ٹوٹ جائے گا۔
مدھیہ پردیش کے وزیر برائے شہری ترقیات بھوپیندر سنگھ کہتے ہیں کہ سنجے سنگھ بہت پہلے بی جے پی سے جاچکے ہیں۔  2018 میں بھی کانگریس ان کے نام کو استعمال کر کے دیکھ چکی ہے اورنتیجہ صفر رہا ہے۔ اس بار بھی کانگریس کو اپنے منھ کی ہی کھانی ہے۔ کاٹھ کی ہانڈی بار بار نہیں چڑھتی ہے۔ عوام نے ایک بار غلطی سے اقتدار تک پہنچا دیا تھا اور سب کو معلوم ہے کہ 15 مہینے میں کانگریس نے عوام کے ساتھ کتنا بڑا دھوکہ کیا تھا۔ اسمبلی ضمنی انتخابات میں کانگریس کا جو بھرم ہے وہ بھی ختم ہو جائےگا۔ واضح رہےکہ مدھیہ پردیش اسمبلی کے 25 سیٹوں پر ہونے والے ضمنی انتخابات کو لے کر ہی مدھیہ پردیش میں شہ مات کا کھیل جاری ہے۔ 25 سیٹوں کے ضمنی انتخابات دونوں پارٹیوں کے لئے انتہائی اہم ہیں، اس لئے دونوں ہی پارٹیاں اقتدار میں بنے رہنے کے لئے کوئی کسر نہیں چھوڑنا چاہتی ہیں۔ کورونا کے قہر میں بھی دونوں پارٹیوں کی جانب سے ورچویل ریلیوں کا بڑے پیمانے پر انعقاد جاری ہے۔ شہ اور مات کے اس کھیل میں کس کے سر تاج برقرار رہتا ہے یہ ضمنی انتخابات کے بعد ہی پتہ چلےگا۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Jul 15, 2020 11:52 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading