உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    یوپی اسمبلی انتخابات میں BJP کے لئے'وردان' بنی AIMIM، کئی سیٹوں پر سماجوادی کی سائیکل کو پنکچر کرکے کھلادیا کمل

    اترپردیش اسمبلی الیکشن 2022 میں اسدالدین اویسی کی پارٹی، آل انڈیا مجلس اتحادالمسلمین (AIMIM) کی کارکردگی کو بالکل ناکام مانا جا رہا ہے۔ عوامی آبادی کے لحاظ سے ملک کی سب سے بڑی ریاست اترپردیش میں اے آئی ایم آئی ایم (AIMIM) کی صرف 4.51 لاکھ ووٹ حاصل کرسکی۔ مجلس اترپردیش میں 95 سیٹوں پر الیکشن لڑا تھا، لیکن ایک بھی سیٹ جیتنے میں کامیاب نہیں ہوئی۔ بلکہ 94 سیٹوں پر اپنی ضمانت بھی نہیں بچا سکے۔ 

    اترپردیش اسمبلی الیکشن 2022 میں اسدالدین اویسی کی پارٹی، آل انڈیا مجلس اتحادالمسلمین (AIMIM) کی کارکردگی کو بالکل ناکام مانا جا رہا ہے۔ عوامی آبادی کے لحاظ سے ملک کی سب سے بڑی ریاست اترپردیش میں اے آئی ایم آئی ایم (AIMIM) کی صرف 4.51 لاکھ ووٹ حاصل کرسکی۔ مجلس اترپردیش میں 95 سیٹوں پر الیکشن لڑا تھا، لیکن ایک بھی سیٹ جیتنے میں کامیاب نہیں ہوئی۔ بلکہ 94 سیٹوں پر اپنی ضمانت بھی نہیں بچا سکے۔ 

    اترپردیش اسمبلی الیکشن 2022 میں اسدالدین اویسی کی پارٹی، آل انڈیا مجلس اتحادالمسلمین (AIMIM) کی کارکردگی کو بالکل ناکام مانا جا رہا ہے۔ عوامی آبادی کے لحاظ سے ملک کی سب سے بڑی ریاست اترپردیش میں اے آئی ایم آئی ایم (AIMIM) کی صرف 4.51 لاکھ ووٹ حاصل کرسکی۔ مجلس اترپردیش میں 95 سیٹوں پر الیکشن لڑا تھا، لیکن ایک بھی سیٹ جیتنے میں کامیاب نہیں ہوئی۔ بلکہ 94 سیٹوں پر اپنی ضمانت بھی نہیں بچا سکے۔ 

    • Share this:
    نئی دہلی: اترپردیش اسمبلی الیکشن 2022 میں اسدالدین اویسی کی پارٹی، آل انڈیا مجلس اتحادالمسلمین (AIMIM) کی کارکردگی کو بالکل ناکام مانا جا رہا ہے۔ عوامی آبادی کے لحاظ سے ملک کی سب سے بڑی ریاست اترپردیش میں اسدالدین اویسی کی اے آئی ایم آئی ایم (AIMIM) کی صرف 4.51 لاکھ ووٹ حاصل کرسکی۔ یعنی 15.02 کروڑ رائے دہندگان والے یوپی میں AIMIM کو صرف 0.49 فیصد ووٹ ہی ملے۔ اترپردیش کے مسلمانوں کی پہلی پسند سماجوادی پارٹی بنی اور اس نے مسلمانوں کے سہارے ہی اپنی سیٹ اور ووٹ فیصد بڑھانے میں کامیاب ہوئی، لیکن مجلس اتحاد المسلمین کئی سیٹوں پر اس کی راہ میں رکاوٹ بھی بن گئی۔

    تفصیلات کے مطابق، آل انڈیا مجلس اتحادالمسلمین نے اترپردیش میں 95 سیٹوں پر قسمت آزمائی کی تھی، لیکن ایک بھی سیٹ جیتنے میں کامیاب نہیں ہوئی۔ اعظم گڑھ کی مبارکپور سیٹ کو چھوڑ دیں تو AIMIM کے امیدوار باقی سبھی 94 سیٹوں پر اپنی ضمانت بھی نہیں بچا سکے۔ مبارکپور سے اے آئی ایم آئی ایم نے دو بار کے رکن اسمبلی شاہ عالم عرف گڈو جمالی کو ٹکٹ دیا تھا۔ وہ گزشتہ سال نومبر میں بی ایس پی سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ اس کے بعد سماجوادی پارٹی میں شامل ہونے کی بات سامنے آئی تھی، لیکن پھر بات نہیں بن سکی اور وہ ایم آئی ایم آئی میں شامل ہوگئے تھے۔

    آل انڈیا مجلس اتحادالمسلمین نے اترپردیش میں 95 سیٹوں پر قسمت آزمائی کی تھی، لیکن ایک بھی سیٹ جیتنے میں کامیاب نہیں ہوئی۔
    آل انڈیا مجلس اتحادالمسلمین نے اترپردیش میں 95 سیٹوں پر قسمت آزمائی کی تھی، لیکن ایک بھی سیٹ جیتنے میں کامیاب نہیں ہوئی۔


    یوپی کی 7 سیٹوں پر سماجوادی کی شکست میں AIMIM کا اہم کردار

    حالانکہ یوپی اسمبلی انتخابات 2022 کے نتائج کا باریکی سے تجزیہ کریں تو پتہ چلتا ہے کہ آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (AIMIM) نے 7 سیٹوں پر سماجوادی کی شکست میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ بھلے ہی اے آئی ایم آئی ایم کا کھاتہ نہیں کھلا ہو، لیکن اس نے کئی سیٹوں پر مسلم ووٹوں کی تقسیم کرکے سماجوادی اتحاد کے امیدواروں کی شکست میں اہم کردار نبھائی۔

    یہ بھی پڑھیں۔

    منور رانا کو MP کے وزیر وشواس سارنگ نے آڑے ہاتھوں لیا، ممتاز شاعر سے متعلق کہہ دی اتنی بڑی بات

    مثال کے طور پر مرادآباد شہر سیٹ پر بی جے پی امیدوار ریتیش کمار گپتا کو 148,384 ووٹ ملے اور وہ سماجوادی پارٹی کے امیدوار محمد یوسف انصاری سے صرف 782 ووٹوں کے فرق سے جیتے۔ اس سیٹ پر AIMIM امیدوار واقی رشید کو 2661 ووٹ ملے۔ ریتیش گپتا کے خلاف بی ایس پی اور کانگریس نے بھی مسلم امیدوار ہی اتارے تھے۔ اگر مرادآباد میں مسلم ووٹ نہیں تقسیم ہوتا تو بی جے پی امیدوار کے لئے جیتنا ناممکن تھا۔ یہاں بی ایس پی کے ارشاد حسین کو 14013 اور کانگریس کے رضوان قریشی کو 5351 ووٹ ملے۔

    اسی طرح بارہ بنکی کی کرسی، جونپور کی صاحب گنج، سلطانپور صدر، بھدوہی کی اورائی، بجنور، سلطانپور کی اسولی، سہارنپور کی نکڑ، پرتاپ گڑھ کی رانی گنج، رام نگر اور ڈومریا گنج، بجنور کی دھام پور سیٹوں پر بھی AIMIM امیدواروں نے سماجوادی امیدواروں کی شکست کے فرق سے زیادہ ووٹ حاصل کئے۔ یوپی الیکشن میں سماجوادی پارٹی کے لئے ایک اچھی بات یہ رہی کہ اس نے جن 95 سیٹوں پر الیکشن لڑا، ان میں سے 58 سیٹوں پر اس کے امیدواروں کو کانگریس امیدواروں سے زیادہ ووٹ ملے۔ صرف 36 سیٹوں پر کانگریس، اویسی کے اے آئی ایم آئی ایم سے آگے رہی۔
    Published by:Nisar Ahmad
    First published: