உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ممبرا میں اسکالر شپ فارم بھرنے کا ایم ایل اے رئیس شیخ کے ہاتھوں افتتاح

    ممبرا میں ہر سال ملی تحریک کی جانب سے اسکالر شپ کے فارم مفت میں بھرے جاتے ہیں امسال بھی یہ سلسلہ شروع کیا گیا جس کا افتتاح بھیونڈی کے ایم ایل اے رئیس شیخ کے ہاتھوں عمل میں آیا۔

    ممبرا میں ہر سال ملی تحریک کی جانب سے اسکالر شپ کے فارم مفت میں بھرے جاتے ہیں امسال بھی یہ سلسلہ شروع کیا گیا جس کا افتتاح بھیونڈی کے ایم ایل اے رئیس شیخ کے ہاتھوں عمل میں آیا۔

    ممبرا میں ہر سال ملی تحریک کی جانب سے اسکالر شپ کے فارم مفت میں بھرے جاتے ہیں امسال بھی یہ سلسلہ شروع کیا گیا جس کا افتتاح بھیونڈی کے ایم ایل اے رئیس شیخ کے ہاتھوں عمل میں آیا۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Maharashtra, India
    • Share this:
      ممبرا: ممبرا میں ہر سال ملی تحریک کی جانب سے اسکالر شپ کے فارم مفت میں بھرے جاتے ہیں امسال بھی یہ سلسلہ شروع کیا گیا جس کا افتتاح بھیونڈی کے ایم ایل اے رئیس شیخ کے ہاتھوں عمل میں آیا۔ اس موقع پر رئیس شیخ نے کہا کہ یہ ایک بہترین انسانی خدمات ہے، اس سے سماج کو فائدہ پہنچتا ہے یہ سرکاری کام تھا، لیکن سرکار نہیں کر رہی ہے تو اسے ابو عاصم اعظمی کی ایما پر ہم لوگوں نے کرنا شروع کردیا ہے۔ لوگوں سے اپیل ہے کہ وہ اس اسکیم سے استفادہ کریں۔
      مرکزی و ریاستی حکومتوں کی جانب سے اقلیتوں کی تعلیم فلاح وبہبود کے لئے کئی ساری اسکیمیں ہیں، لیکن اس کا فائدہ اقلیتوں کو سرکارکی جانب سے انھیں حاصل کرنے کے لئے سخت قوانین کے سبب نہیں پہنچ پاتا ہے۔ اسی لئے ممبرا میں ملی تحریک کی جانب سے ہر سال سینکڑوں افراد کا فارم مفت بھرنے کا کام کیا جاتا ہے۔ امسال بھی یہ سلسلہ شروع کیا گیا، جس کا افتتاح سماجوادی پارٹی سے  بھیونڈی کے ایم ایل اے رئیس شیخ کے ہاتھوں ہوا۔

      اس موقع پر رئیس شیخ نے کہا کہ اقلیتوں کے لئے بنائی گئیں ایسی اسکیموں سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانا چاہئے اوراسے عوام تک پہنچانے کے لئے سماجی، ملی اور سیاسی جماعتوں کو بیداری مہم، کیمپ وغیرہ لگانے چاہئے جیسا کہ یہاں ملی تحریک کی جانب سے کیا جاتا ہے۔ انھوں نے مزید بتایا کہ سرکار اکثر اقلیتوں کے لئے مختص خطیر رقم سرکار مشنریوں کی  تساہلی کے سبب لیپس پورہی ہے۔

      رئیس شیخ نے کہا کہ مثال کے طور پر مہاراشٹر کی بات کریں تو یہاں گذشتہ حکومت کے دور میں مختص کی گئی اردو گھر، حج ہاؤس وغیرہ کے لئے 120 کروڑ کی خطیر رقم کام نہ ہونے  پر لیپس ہوگئی، اس لئے ہم نے اس بارکی سرکار سے اپیل کی ہے کہ وہ اقلیتوں کی رقوم اور بجٹ کو استعمال کے لئے ایک اسکواڈ یا کمیٹی تشکیل دیں جو سروے کرے اور دیکھے کہ اقلیتوں میں اس رقوم کی کتنی اور کہاں کہاں ضرورت ہے اور اسے خرچ کیوں نہیں کیا جارہا ہے، اس میں کیا روکاوٹ پیش آرہی ہے اور پھر اسے فوری دور کیا جائے۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: