ہوم » نیوز » مشرقی ہندوستان

پٹنہ میں کورونا کا خوف، ایک دن میں 620 نئے مریض، صرف پٹنہ میں کورونا مریضوں کی تعداد 6514 ہوئی

بہار میں کورونا کے دہشت سے لوگ کانپنے لگے ہیں۔ دو ہزار چھ سو پانچ (2605) نئے کورونا کے مریض ملنے سے بہار میں کورونا مریضوں کی مجموعی تعداد 38 ہزار نو سو انیس (38919) ہوگئی ہے، جس میں پٹنہ میں چھ ہزار پانچ سو چودہ (6514) مریض ہیں۔ صرف پٹنہ میں کورونا سے اب تک 36 لوگوں کی موت ہوگئی ہے۔

  • Share this:
پٹنہ میں کورونا کا خوف، ایک دن میں 620 نئے مریض، صرف پٹنہ میں کورونا مریضوں کی تعداد 6514 ہوئی
پٹنہ میں کورونا کا خوف، ایک دن میں 620 نئے مریض، صرف پٹنہ میں کورونا مریضوں کی تعداد 6514 ہوئی

پٹنہ: بہار میں کورونا کے دہشت سے لوگ کانپنے لگے ہیں۔ دو ہزار چھ سو پانچ (2605) نئے کورونا کے مریض ملنے سے بہار میں کورونا مریضوں کی مجموعی تعداد 38 ہزار نو سو انیس (38919) ہوگئی ہے، جس میں پٹنہ میں چھ ہزار پانچ سو چودہ (6514) مریض ہیں۔ صرف پٹنہ میں کورونا سے اب تک 36 لوگوں کی موت ہوگئی ہے۔ پٹنہ میں چاروں طرف دہشت کا ماحول ہے۔ کون کورونا پوزیٹیو ہے اورکون نہیں، یہ کسی کو نہیں معلوم۔ لوگ ایک دوسرے سے ڈرنے لگے ہیں۔ علاج کے نام پرحکومت اپنے آپ کو بے حد سنجیدہ بتانے میں لگی ہے۔


وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے سخت اقدامات اٹھانے کا بار بار اعلان کیا ہے اور محکمہ صحت کو ہر ممکن قدم اٹھانے کی ہدایت دی ہے۔ باوجود اس کے لاک ڈاون میں بھی کورونا کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ دراصل کورونا کو لےکر سب سے بڑا مسئلہ اب اسپتالوں سے جڑ گیا ہے۔ بہار کے زیادہ تر اسپتالوں میں کورونا مریضوں کا ٹھیک سے علاج نہیں کیا جارہا ہے۔ حالت یہ ہے کہ لاک ڈاون کو فالو کرانے کے لئے سڑکوں پر موجود پولیس کے نوجوانوں کو کورونا ہورہا ہے اور اسپتال میں علاج کر رہے ڈاکٹر تک کورونا کے متاثر ہیں، لیکن ڈاکٹر اور میڈیکل اسٹاف تک کا ٹھیک سے اسپتالوں میں علاج نہیں ہورہا ہے۔ علاج کی کمی کے سبب لوگوں کی موت ہورہی ہے اور حکومت محض یقین دہانی اور بیانات جاری کر اس وبا کے خلاف جنگ کو جیتنے کا دعویٰ کررہی ہے۔ جبکہ حالات بد سے بدتر ہوتا جارہا ہے۔


بہار کے زیادہ تر اسپتالوں میں کورونا مریضوں کا ٹھیک سے علاج نہیں کیا جارہا ہے۔
بہار کے زیادہ تر اسپتالوں میں کورونا مریضوں کا ٹھیک سے علاج نہیں کیا جارہا ہے۔


پٹنہ کے اسپتال جیسے پی ایم سی ایچ، این ایم سی ایچ اور پٹنہ ایمس میں بھی کورونا مریضوں کو اپنا علاج کرانے کے لئے گھنٹوں انتظار کرنا پڑ رہا ہے اور زیادہ تر لوگوں کو اسپتال میں جگہ نہیں مل پارہی ہے، نتیجہ کے طور پر موت ان کا مقدر بن رہا ہے۔ جانکاروں کے مطابق بہار میں صحت کا شعبہ پوری طرح سے زمین دوز ہوگیا ہے۔ وزیر اعلیٰ کے سوشاسن کا دعویٰ پانی کا بلبلا ثابت ہو رہا ہے۔ اگر ابھی بھی پوری سنجیدگی کے ساتھ اس وبا کے خلاف حکومت پوری طرح سے میدان میں نہیں اترتی ہے تو حالات کو قابو میں کرنا اور مشکل ہو جائےگا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سیاسی پارٹیوں کو اپنی سیاست چھوڑ کر صحیح اعدادوشمار جاری کرنا چاہئے اور کورونا کے علاج کا ریاست میں معقول انتظام کرنا چاہئے تاکہ کورونا کے متاثرین کا فوری طور پر علاج ممکن ہوسکے۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Jul 26, 2020 08:03 PM IST