உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Covid-19: دہلی کے چونکاتے اعداد و شمار! بڑھتے کورونا معاملات کے درمیان اسپتالوں میں دوگنے ہوئے مریض

    Covid-19: دہلی کے چونکاتے اعداد و شمار! بڑھتے کورونا معاملات کے درمیان اسپتالوں میں دوگنے ہوئے مریض ۔ فائل فوٹو ۔

    Covid-19: دہلی کے چونکاتے اعداد و شمار! بڑھتے کورونا معاملات کے درمیان اسپتالوں میں دوگنے ہوئے مریض ۔ فائل فوٹو ۔

    Coronavirus in Delhi : قومی راجدھانی میں کووڈ-19 کے معاملات میں اضافے کے درمیان اسپتالوں میں داخل مریضوں کی تعداد میں تقریباً دو گنا اضافہ ہوا ہے۔ تاہم اس حوالے سے حکام کا کہنا ہے کہ دیگر سنگین امراض میں مبتلا افراد کو بھی بھرتی کیا جا رہا ہے۔

    • Share this:
      نئی دہلی : قومی راجدھانی میں کووڈ-19 کے معاملات میں اضافے کے درمیان اسپتالوں میں داخل مریضوں کی تعداد میں تقریباً دو گنا اضافہ ہوا ہے۔ تاہم اس حوالے سے حکام کا کہنا ہے کہ دیگر سنگین امراض میں مبتلا افراد کو بھی بھرتی کیا جا رہا ہے۔ ویسے تو کووڈ 19 انفیکشن میں اضافہ اور اسپتالوں میں داخل مریضوں کی تعداد ڈراونی نہیں ہے، لیکن ماہرین نے ماسک پہننے اور دیگر کورونا پروٹوکول پر عمل کرنے کی ضرورت کا اعادہ کیا ہے ۔

       

      یہ بھی پڑھئے: روہنگیا پناہ گزینوں کونہیں ملیں گے گھر،وزارت داخلہ نے خبروں کو بتایا غلط


      دہلی میں کورونا وائرس کے مریضوں کیلئے دستیاب 9,405 بستروں میں سے 307 (یعنی 3.26 فیصد) یکم اگست کو بھرے تھے۔ 2 اگست کو یہ بڑھ کر 3.75 فیصد اور اگلے دن 4 فیصد ہو گیا۔ اس کے بعد اکثر دن یہ تعداد بڑھتی ہی رہی اور 16 اگست کو 6.24 فیصد تک پہنچ گئی۔ 6 اگست کو اسپتالوں میں 5 فیصد اور 11 اگست کو 5.97 فیصد کووڈ-19 بیڈس بھرے ہوئے تھے۔ 12 اگست کو یہ تعداد 6.13 فیصد تھی جو اگلے دن جزوی طور پر کم ہو کر 5.99 فیصد رہ گئی۔ یہ تعداد 14 اگست کو 6.21 فیصد تک پہنچ گئی اور 15 اگست کو 6.31 فیصد تھی ۔

       

      یہ بھی پڑھئے: Indian Railway: ایک سال کے بچے کا بھی لگے گا ٹکٹ؟ جانئے وزارت ریل کا اس پر جواب


      شالیمار باغ میں واقع فورٹس اسپتال کے ڈائریکٹر ڈاکٹر وکاس موریہ نے کہا کہ پچھلے ایک ہفتے اور اس کے بعد انہیں اس وائرل انفیکشن کی وجہ سے اسپتالوں میں بھرتی میں اضافہ نظر آرہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مریضوں میں زیادہ تر ایسے لوگ ہیں، جنہیں کئی دیگر سنگین بیماریاں ہیں اور ان میں کچھ نے تو ٹیکے بھی نہیں لئے ہیں ۔ کچھ مریضوں کو پھیپھڑے کی پریشانیاں ہیں، جس کا مطلب ہے کہ انہیں اینٹی وائرل علاج اور دیگر کووڈ ادویات کی ضرورت ہے۔

      سرکاری اسپتال لوک نائک جے پرکاش اسپتال کے ڈائریکٹر ڈاکٹر سریش کمار نے ڈاکٹر موریہ کی بات سے اتفاق ظاہر کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ ہفتے اور اس کے بعد مریضوں کی تعداد میں اضافہ دیکھنے کوملا ہے۔ پہلے ہمارے پاس روزانہ چار سے پانچ مریض آتے تھے، لیکن اب روزانہ آٹھ سے دس مریض آرہے ہیں۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: