عالمی برادری سے دہشت گردی کی محفوظ پناہ گاہوں کا قلع قمع کرنے کی ہندوستان اور جرمنی کی مشترکہ اپیل

کسی ملک کانام لیے بغیر ہندوستان اور جرمنی نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ دہشت گردی کی محفوظ پناہ گاہوں اور ڈھانچوں کا قلع قمع کریں اور دہشت گردوں کے سرحد پار آمد و رفت پر قدغن لگائیں ۔

Nov 01, 2019 09:44 PM IST | Updated on: Nov 01, 2019 09:44 PM IST
عالمی برادری سے دہشت گردی کی محفوظ پناہ گاہوں کا قلع قمع کرنے کی ہندوستان اور جرمنی کی مشترکہ اپیل

وزیر اعظم مودی اور انگیلا مرکل ۔ فوٹو : پی ٹی آئی / نیوز 18 ڈاٹ کام ۔

کسی ملک کانام لیے بغیر ہندوستان اور جرمنی نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ دہشت گردی کی محفوظ پناہ گاہوں اور ڈھانچوں کا قلع قمع کریں اور دہشت گردوں کے سرحد پار آمد و رفت پر قدغن لگائیں ۔ وزیرا عظم نریندر مودی اور جرمنی کی چانسلر انگیلا مرکل کے درمیان دوطرفہ اجلاس کے بعد جاری مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ دونوں رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ دہشت گردی عالمی برائی ہے ۔ انہوں نے دہشت گردی کے عالمی خطرے پر شدید تشویش ظاہرکرتے ہوئے قوت ارادی سے اس برائی کا مشترکہ طور پر مقابلہ کرنے کا عزم بھی ظاہر کیا۔

اس عالمی خطرے سے نمٹنے کے لیے مشترکہ طور پر مورچہ بندی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے دونوں رہنماؤں نے اقوام متحدہ میں مارچ 2020 عالمی دہشت گردی پر جامع معاہدے کو حتمی شکل اور منظوری دئے جانے کی اپیل کی ۔ انہوں نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں مارچ 2020 میں عالمی دہشت گردی کی محفوظ پناہ گاہوں اور ڈھانچوں کو اکھاڑ پھینکنے ، دہشت گردوں کے نیٹ ورک ، مالی ذرائع کو تہس نہس کرنے اور دہشت گردوں کی سرحد پار آمد ورفت پر قدغن لگانے کی بھی اپیل کی ۔

Loading...

ہندوستان اور جرمنی نے تشدد اور دہشت گردی کو روکنے کے لیے اطلاعات اور خفیہ سراغوں کے آمد و رفت ، انسانی حقوق ، مقامی اور بین الاقوامی قوانین پر مکمل عمل درآمد پر زور دیا۔ دونوں رہنماؤں نے یہ بھی کہا کہ تمام ممالک کو یہ یقینی بنانے کی ضرورت ہے کہ ان کا علاقہ کسی دوسرے ملک پر دہشت گردانہ حملے کے لیے کسی بھی طرح سے استعمال نہ ہو۔

مشترکہ بیان میں دونوں ملکوں نے اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل میں علیٰ الفور اصلاح کی وکالت کرتے ہوئے کہا کہ کثیر جہتی اور قوانین پر مبنی نظام کے مقصد سے اصلاحات کیے جائیں۔ دونوں ملکوں نے سکیورٹی کونسل میں مستقل رکنیت کے لیے ایک دوسرے کی حمایت کرنے کے ارادے کو دوہرایا ۔ انہوں نے کہا کہ عالمی امن اور سلامتی سمیت عالمی نظام کے مرکز سیکورٹی کونسل میں نمائندگی کی کمی اس کے فیصلوں کے آئینی ہونے اورمؤثر ہونے کو متاثر کررہی ہے ۔ آج کے دور کے عالمی چیلنجز کے پیش نظر ہمیں ایک مستحکم ، آئینی اورمؤثر اقوام متحدہ کی ضرورت ہے ۔

Loading...