உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    کشمیرکے بارے میں سوالات سے گھرا پاکستان، ہندوستانی اراکین پارلیمنٹ نے کہا۔ پہلے اپنے گھرکودیکھو

    مسئلہ کشمیر : سوالات سے گھرا پاکستان، ہندوستانی اراکین پارلیمنٹ نے کہا۔ پہلے اپنے گھرکودیکھو۔(تصویر:اے این آئی)۔

    مسئلہ کشمیر : سوالات سے گھرا پاکستان، ہندوستانی اراکین پارلیمنٹ نے کہا۔ پہلے اپنے گھرکودیکھو۔(تصویر:اے این آئی)۔

    ہندوستانی پارلیمانی وفد کی رکن مسزروپا گنگولی نے ہفتہ کو کانفرنس میں پاکستان کے پروپیگنڈے پر شدید احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ فوجی حکومت کی روایت پاکستان میں ہے جو 33 سال تک فوج کی حکمرانی میں رہاہے، ہندوستان میں فوجی حکومت نہ کبھی تھی اور نہ ہی کبھی ہوگی پاکستان نے دراصل کانفرنس میں ہندوستانی سیکورٹی فورسز کی جانب سے کشمیر کو یرغمال بنانے کا جھوٹا الزام لگایا۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Share this:
      یوگنڈا کے دارالحکومت کمپالا میں منعقد 64 ویں دولت مشترکہ پارلیمانی کانفرنس کے عام اجلاس میں پاکستان کی جانب سے کشمیر سے متعلق معاملہ اٹھائے جانے کا ہندوستانی وفد نے شدید احتجاج کیاہندوستانی پارلیمانی وفد کی رکن مسزروپا گنگولی نے ہفتہ کو کانفرنس میں پاکستان کے پروپیگنڈے پر شدید احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ فوجی حکومت کی روایت پاکستان میں ہے جو 33 سال تک فوج کی حکمرانی میں رہا ہے، ہندوستان میں فوجی حکومت نہ کبھی تھی اور نہ ہی کبھی ہوگی پاکستان نے دراصل کانفرنس میں ہندوستانی سیکورٹی فورسز کی جانب سے کشمیر کو یرغمال بنانے کا جھوٹا الزام لگایا۔

      لوک سبھا اسپیکر اوم بڑلا کی قیادت میں ہندوستانی پارلیمانی وفد یوگنڈا کے کمپالا میں 22 سے 29 ستمبر تک منعقد 64 ویں دولت مشترکہ پارلیمانی کانفرنس میں حصہ لے رہاہے۔اس وفد میں لوک سبھا ممبر پارلیمنٹ ادھیر رنجن چودھری، راجیہ سبھا ممبر پارلیمنٹ مسز روپا گانگولی اورڈاکٹرایل هنومتھيا، لوک سبھا ممبر پارلیمنٹ اپراجتا سارنگی سمیت لوک سبھا کی سکریٹری جنرل اسنیہہ لتا شریواستو شامل ہیں۔

      اس کے علاوہ ہندوستان کی جانب سے ریاست کے قانون ساز اسمبلیوں کے پریزائڈنگ افسران اور سکریٹری اس کانفرنس میں حصہ لے رہے ہیں۔ قابل غور ہے کہ پاکستان نے اس سے پہلے مالدیپ میں ایک اور دو ستمبر کو منعقد کیے گئے جنوبی ایشیائی ممالک کے پارلیمانی اسپیکروں کے چوتھے سربراہی کانفرنس میں بھی کشمیر معاملے کو عالمگیر بنانے کی کوشش کی تھی، جس کے بعد لوک سبھا اسپیکراوم برلا کی قیادت میں زبردست مخالفت کی گئی تھی اورپاکستان کی طرف سے اٹھائے گئے ایشوز کو سرے سے مستردکر دیا گیا تھا۔
      First published: