உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    India-China: ہند۔ چین کےدرمیان اعلیٰ سطحی کورکمانڈر کےمذاکرات،انڈین آرمی کاتازہ بیان

    India-China LAC Dispute:کور کمانڈر سطح کی بات چیت کا 15 واں دور مشرقی لداخ (Eastern Ladakh)میں لائن آف ایکچوئل کنٹرول (ایل اے سی) کے ہندوستانی جانب چشول-مولڈو 'بارڈر پوائنٹ' پر منعقد ہوا۔ فوج نے کہا کہ چین نے بقیہ مسائل کے جلد از جلد قابل قبول حل تک پہنچنے کے لیے فوجی اور سفارتی ذرائع سے بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔

    India-China LAC Dispute:کور کمانڈر سطح کی بات چیت کا 15 واں دور مشرقی لداخ (Eastern Ladakh)میں لائن آف ایکچوئل کنٹرول (ایل اے سی) کے ہندوستانی جانب چشول-مولڈو 'بارڈر پوائنٹ' پر منعقد ہوا۔ فوج نے کہا کہ چین نے بقیہ مسائل کے جلد از جلد قابل قبول حل تک پہنچنے کے لیے فوجی اور سفارتی ذرائع سے بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔

    India-China LAC Dispute:کور کمانڈر سطح کی بات چیت کا 15 واں دور مشرقی لداخ (Eastern Ladakh)میں لائن آف ایکچوئل کنٹرول (ایل اے سی) کے ہندوستانی جانب چشول-مولڈو 'بارڈر پوائنٹ' پر منعقد ہوا۔ فوج نے کہا کہ چین نے بقیہ مسائل کے جلد از جلد قابل قبول حل تک پہنچنے کے لیے فوجی اور سفارتی ذرائع سے بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔

    • Share this:
      ہندوستان اور چین (India-China LAC Dispute)کے درمیان 11 مارچ کو اعلیٰ سطحی کور کمانڈر(Corps Commander Level Talks) سطح کی بات چیت کا 15 واں دور منعقد کیاگیا ۔ یہ بات چیت مشرقی لداخ میں کچھ مقامات پر 22 ماہ سے جاری تنازعات کےتعطل کو حل کرنے کے لیے کی گئی تھی۔ اب ہندوستانی فوج (Indian Army) نے اس بات چیت کے حوالے سے اپنا بیان جاری کیا ہے ۔ فوج نے کہا کہ دونوں فریقین نے 12 جنوری کو مغربی سیکٹر میں ایل اے سی(LAC) کے مسائل کو حل کرنے کے لیے اپنے 14ویں دور کی بات چیت کو آگے بڑھایا۔ اس میٹنگ میں، ہندوستان اور چینی فریق نے بقیہ جگہوں پر تعطل کو جلد ختم کرنے کے لیے تفصیل سے ایک دو سرے کے خیالات کا تبادلہ کیا۔

      یہ بھی پڑھیں :  India - China: ہند ۔ چین فوجی مذاکرات کا 15 واں دور، LAC پر فوجیوں کی تعیناتی پرہوگاغور


      کور کمانڈر سطح کی بات چیت کا 15 واں دور مشرقی لداخ (Eastern Ladakh)میں لائن آف ایکچوئل کنٹرول (ایل اے سی) کے ہندوستانی جانب چشول-مولڈو 'بارڈر پوائنٹ' پر منعقد ہوا۔ فوج نے کہا کہ چین نے بقیہ مسائل کے جلد از جلد قابل قبول حل تک پہنچنے کے لیے فوجی اور سفارتی ذرائع سے بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔ ہندوستانی فوج نے مزید نشاندہی کی کہ چینی فریق نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ اس طرح کی تجویز مغربی سیکٹر میں LAC کے ساتھ امن بحال کرنے اور دو طرفہ تعلقات میں پیشرفت کو آسان بنانے میں مدد دے گی۔ دونوں فریقوں نے عارضی طور پر مغربی سیکٹر میں زمین کی سلامتی اور استحکام کو برقرار رکھنے پر بھی اتفاق کیا ہے۔

       



      13 گھنٹے تک جاری رہی میٹنگ

      دونوں ممالک کے درمیان بات چیت تقریباً 13 گھنٹے تک جاری رہی اور جمعہ کی رات 11 بجے تک ختم ہوگئی۔ فوجی ذرائع نے بتایا کہ ہندوستانی فریق نے اپریل۔مئی 2020 میں شروع ہونے والے فوجی تعطل کو حل کرنے کے لئے باقی متنازعہ مقامات کو حل کرنے پر اصرار کیا۔ معلوم ہوا ہے کہ ہندوستانی فریق نے ڈیپسانگ بلج اور ڈیم چوک کے مسائل کے حل سمیت تنازعات کے دیگر علاقوں سے فوجوں کی جلد واپسی پر زور دیاہے۔ بات چیت کے دوران ہاٹ اسپرنگس (پٹرولنگ پوائنٹ-15) کے علاقوں سے فوجیوں کی واپسی کے عمل کو تیز کرنے پر بھی توجہ مرکوز کی گئی ہے۔

      مذاکرات میں ہندوستانی وفد کی قیادت لیہہ میں مقیم 14ویں کور کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل انندا سین گپتا نے کی۔ہندوستان اور چین کے درمیان 14 واں دور کی بات چیت 12 جنوری کو ہوئی تھی جس میں تنازعات کے مقامات پر تعطل کے حل پر کوئی اتفاق رائے نہیں بن سکی تھی۔ پچھلے مہینے فروری میں، وزیر خارجہ ڈاکٹر ایس جے شنکر نے کہا تھا کہ ہندوستان تعطل کو حل کرنے کے لیے چین کی طرف سے ایل اے سی کو یکطرفہ طور پر تبدیل کرنے کی کسی بھی کوشش سے کبھی اتفاق نہیں کرے گا۔
      Published by:Mirzaghani Baig
      First published: