ہوم » نیوز » وطن نامہ

India-China Clash: آرمی چیف نے وزیر دفاع کو بتائے ایل اے سی کے تازہ حالات، شام کو ایمرجنسی میٹنگ

آرمی چیف ایم ایم نروانے نے وزیر دفاع راجناتھ سنگھ کو ایل اے سی پر پیر رات ہوئی فائرنگ کی جانکاری دی ہے۔ آرمی چیف نے اس کے ساتھ ہی وزیر دفاع کو لداخ کے حالات کے بارے میں بھی اپڈیٹ دی ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ آج شام کو ایک ایمرجنسی میٹنگ ہوسکتی ہے۔

  • Share this:
India-China Clash: آرمی چیف نے وزیر دفاع کو بتائے ایل اے سی کے تازہ حالات، شام کو ایمرجنسی میٹنگ
آرمی چیف نے وزیر دفاع کو بتائے ایل اے سی کے تازہ حالات، شام کو ایمرجنسی میٹنگ

لداخ میں اصل کنٹرول لائن (Ladakh LAC) پر حالات اور کشیدگی بنی ہوئی ہے۔ چینی میڈیا کے ترجمان نے الزام لگایا کہ پیر رات کو جب چینی فوج کی پٹرولنگ پارٹی ہندوستانی جوان سے بات چیت کرنے کے لئے آگے بڑھی، تو انہوں نے جواب میں وارننگ شاٹ فائر کئے۔ حالانکہ، ذرائع کے مطابق، چین کے اس بیان کو حکومت نے خارج کردیا ہے۔


آرمی چیف ایم ایم نروانے نے وزیر دفاع راجناتھ سنگھ کو ایل اے سی پر پیر رات ہوئی فائرنگ کی جانکاری دی ہے۔ آرمی چیف نے اس کے ساتھ ہی وزیر دفاع کو لداخ کے حالات کے بارے میں بھی اپڈیٹ دی ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ آج شام کو ایک ایمرجنسی میٹنگ ہوسکتی ہے۔ اس میٹنگ میں وزیر دفاع راجناتھ سنگھ، چیف آف ڈیفنس اسٹاف (CDS) جنرل بپن راوت اور تینوں افواج کے سربراہان موجود رہیں گے۔


 




ہندوستانی فوج نے ایل اے سی پر فائرنگ کئے جانے کے چین کے الزامات کو خارج کیا ہے۔ ہندوستان نے چین پر ہندوستانی فوج کی موجودگی والے علاقے کے تقریباً ہوائی فائرنگ کرنے کا الزام لگایا ہے۔ فوج نے اپنے بیان میں کہا- ’چین اپنے بیانات سے اپنے ملک اور پوری دنیا کو گمراہ کر رہا ہے۔ فوج نے کسی بھی حالت میں اصل کنٹرول لائن کو پار نہیں کیا ہے، نہ ہی فائرنگ کی ہے، نہ ہی کوئی جارحانہ قدم اٹھایا ہے’۔

واضح رہے کہ ہندوستان - چین کے درمیان لداخ واقع اصل کنٹرول لائن (ایل اے سی) پر ہندوستانی فوج کی سبقت کو لے کر چین بوکھلایا ہوا ہے۔ چین کی پیپلز لبریشن آرمی (پی ایل اے) 30-29 اگست کی شب لیک اسپانگور کے پاس دراندازی کرنے کی کوشش کی تھی، جسے ہندوستانی فوج نے ناکام کردیا تھا۔ اس کے بعد ہندوستانی فوج نے علاقے کی اونچی چوٹی پر بھی دوبارہ قبضہ جما لیا، جس کی خبر بیجنگ پہنچی تو ہنگامہ کھڑا ہوگیا۔ اب اس معاملے میں چینی صدر شی جنپنگ چینی فوج اور افسران سے کافی ناراض ہیں۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Sep 08, 2020 01:05 PM IST